اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روسی فوج ماریوپول شہر میں جو کچھ کررہی ہے وہ انسانیت کے خلاف جرم ہے اور یہ جرم پورے کرۂ ارض کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ڈنمارک کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب بھی ایک لاکھ لوگ ماریوپول میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یوکرینی صدر نے مطالبہ کیا کہ یورپ روس کے خلاف پابندیاں مزید سخت کرے۔انہوں نے کہا کہ روس سے تجارت اور تیل کی خریداری روک دے اور یورپی ممالک روسی جہازوں کے لیے اپنی بندرگاہیں بند کردیں۔دریں اثنا یوکرین کے شہر میکولائیف میں راکٹ حملے سے 3 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے۔یوکرینی ایمرجنسی سروس کے مطابق راکٹ حملے میں علاقائی انتظامیہ کی عمارت کو نقصان پہنچا، عمارت کے ملبے سے 18 افراد کو نکال لیا گیا ہے، جبکہ ملبے تلے دبے مزید افراد کو نکالنے اور دیگر امدادی کام جاری ہے۔
روس پوری دنیا کے سامنے ماریوپول میں انسانیت کے خلاف جرم کررہا ہے، یوکرینی صدر



