خامہ اثر :قاضی عبدالقدیر خاموش
ہم وہ خوش قسمت ہیں جو عبقری دوراں علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒ شہیدؒؒ کے نظریاتی عہد میں زندہ ہیں ، لیکن بد قسمتی یہ کہ حضرت علامہؒؒ کی فکر ، جدوجہد ، حکمت عملی اورسوز قلب میں سے تو کجا ان کی سیاسی وراثت میں سے بھی کسی ایک پوائنٹ تک عمل کرنے میں ناکام ہیں ۔ البتہ عوامی یاد داشت میں ان کا رنگ اتنا گہرا ہے کہ ان کا نام لئے بغیر کسی لیڈر کی لیڈری چل سکتی ہے نہ واعظ کا وعظ۔۔۔حالانکہ اگر کوئی سیکھنا چاہے تو علامہ جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ، انہیں رب نے سیاست ،دین ،علم وحکمت ، تدبر اور بصیرت سے اپنی شان کے مطابق نواز رکھا تھا ، آپ کسی خانوادے کے فرزند تھے نہ کسی کے آلہ کار ایک عام آدمی جس کا افتخار صرف اس کا علم اور فکر تھی ۔حالات ان کے لئے بھی ساز گار نہ تھے لیکن اس مرد میدان نے حالات کے موزوں ہونے کا انتظار نہیں کیا بلکہ خود حالات کو اپنے ڈھب پر لانے کی ٹھانی اور کردکھایا ۔جیسے اقبال نے کہا :۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زِندوں میں ہے سرِ آدم ہے، ضمیر کن فکاں ہے زندگی
علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ نے جس دور میں آنکھ کھولی اس وقت جماعت اہلحدیث مولانا دائود غزنوی رحمہ اللہ کی علمی، تحریکی اور سیاسی قیادت سے محروم ہو چکی تھی۔ برصغیر میں اہلحدیث کے عروج و ترقی کا جو سفر میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کی فروغ علم حدیث کی تحریک سے شروع ہوا تھا وہ زرا دھیما اور تھما ہوا محسوس ہوتا تھا۔حالانکہ ماضی کی اہلحدیث قیادت انتہائی بابصیرت اور سخت جان واقع ہوئی تھی۔ انگریزوں نے ریاستی طاقت کے ذریعے اہلحدیث کو مسلمانوں میں اچھوت بنانے کی کوشش کی۔ ایک ایسی سازش کا مقابلہ کرنا جس کی پشت پر ریاستی طاقت ہو کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اس دور میں اہلحدیث قیادت نے دعوت و تبلیغ سے لے کر سیاست تک تمام محاذوں پر بھر پور صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ مناظروں اور تبلیغی جلسوں کے اسٹیج پر علمائے اہلحدیث باطل مذاہب اور گمراہ فرقوں کے عقائد کے بخیے ادھیڑتے تھے اور دوسری طرف سیاسی جلسوں کے میدان میں اہلحدیث سیاسی قیادت اپنے عوام کو منظم رکھنے کی سعی کر رہی تھی تصنیف و تالیف کا محاذ بھی گرم تھا اور گلی محلوں میں دعوت و تبلیغ بھی جاری تھی بہت سی کوتاہیوں کے باوجود مجموعی طور پر جماعت ترقی ہی کی طرف گامزن تھی اہلحدیث قیادت نے اس دور میں نہ صرف سازشوں کو ناکام بنایا بلکہ ہر میدان میں قابل ذکر کا ر کر دگی کا مظاہرہ کیا تاہم جب مولانا دائود غزنوی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد جماعت پر علمی رسوخ، تحریکی جوش اور سیاسی بصیرت رکھنے والی قیادت کی جگہ روایتی قیادت مسلط ہو گئی تو گویا شاہین کا نشیمن زاغوں کے تصرف میں آگیا، تحریک کی جگہ جمود نے لے لی تمام محاذ ٹھنڈے پڑنے لگے۔ انفرادی طور پر کئی ارباب دانش اپنی سی کوشش میں لگے ہوئے تھے لیکن بحیثیت مجموعی جماعت کی کارکر دگی اس قدر غیر اطمینان بخش تھی کہ کارکنان میں مایوسی انتشار اور بد دلی کا سبب بننے لگی۔ جماعت کی سیاسی شناخت بھی اس حد تک کمزور پڑ چکی تھی کہ قومی سطح کے اتحادوں میں اسے پوچھا نہیں جا تا تھا۔ پسماندگی اور تاریکی کے ایسے دور میں جماعت کے افق پر علامہ ظہیررحمہ اللہ جیسا روشن ستارہ نمو دار ہوا۔ جو نہ موروثی لیڈر تھا اور نہ مصنوعی اور خود ساختہ قائد بلکہ اسکی شخصیت فطری طور پر قائدانہ اوصاف کی حامل تھی۔ دینی غیرت و حمیت سے لبریز ، کام کے جنون میں مبتلا جوش اور جذبہ قربانی سے سر شار، سیاسی
شعور و بصیرت کا حامل، ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کے خواہشمند ، پر اعتماد و پر عزم، سخت جان و مہم جو، گہرے دینی و دنیاوی علوم سے مسلح، مقناطیسی شخصیت کے حامل، بے داغ و مضبوط کردار، جراتمند و بہادر، سخی و فیاض ،مشاور ت پسند، حق گو مصلحت و مداہنت سے گریزاں، سیاسی و مذہبی خطابت کا بادشاہ اور تصنیف و تالیف کا شہسوار ، جس کی خطابت میں ادب کی چاشنی اور تحریر میں خطیبانہ جلال تھا۔ ایسی ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت جو ایسے درجنوں شخصی اوصاف کی مالک تھی جو اگر کسی میں ایک آدھ بھی ہو تو اسے ممتاز بنا دیتا ہے۔
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ جوئے شِیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی
برتر از اندیش سود و زیاں ہے زندگی ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تو اسے پیمان امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں، پیہمدواں، ہر دم جواں ہے زندگی
علامہ رحمہ اللہ نے اپنے آپ کو خود اپنے ارادے کے تحت نفاذ اسلام کی جدوجہد کی بھٹی میں اتارا، جہاں خطرات و خدشات ، تکالیف ومصائب ، لالچ و دھمکیاں اور گھٹیا پروپیگنڈے اور الزام تراشیوں کی آگ بھڑک رہی تھی ۔ انہوں نے میدان عمل میں اپنی صلاحیتوں اور اعلی اوصاف کو ثابت کیا۔ اہلحدیث کی سیاسی طاقت کی تشکیل سے لے کر نفاذ اسلام کی طاقتور تحریک تک، جماعتی سر گرمیوں میں عوام اہلحدیث کو سر گرم کرنے سے لے کر سیاسی جدوجہد تک علامہ شہید رحمہ اللہ کی قائدانہ صلاحیتوں نے اپنا لوہا منوایا ۔
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھے یہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیل
اے رہینِ خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگِ رحیل
سوال یہ ہے کہ تاریخ کی اتنی بڑی شخصیت، علم وفکر کا اتنا بڑا سرمایہ۔۔ ہم نے اس سے کیا اخذکیا ؟علامہ شہید کی تعلیمات اور جدوجہد سے کیا حاصل کیا ؟ مڑ کر دیکھیں تو کاسہ کہنہ میں ویرانگی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔کیا اس امر کی ضرورت نہ تھی کہ علامہؒ کے بعد ان کی فکر کو زندہ رکھا جاتا اوراس پر ریسرچ کرکے اپنی پالیسیوں کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی تربیت میں شامل کیا جاتا؟ مگر وائے ناکامی کہ فکر تو رہی ایک طرف کہ اس کے لئے خود صاحب ادراک ہونے کی ضرورت تھی ، ان کی زندگی بھر کا اثاثہ وہ تنظیم جو انہوں نے کھڑی کی تھی ، اسے ہی نابود کردیا گیا ، وہ افراد کار جن کی انہوں نے تربیت کی اور مستقبل میں انقلاب کی بنیاد رکھنے کی خاطر منتخب کیا ، اپنا قیمتی وقت صرف کرکے ان کی فکری صلاحیتوں کو نکھارا، وہ گلدستہ دیکھتے ہی دیکھتے یوں بکھیر دیا گیا کہ جیسے تھا ہی نہیں ۔ درد دل تو یہ ہے کہ یہ سب کرنے کوئی دشمن نہیں آیا ، کسی غیر سے کوئی شکوہ نہیں ،کو ئی بیرونی ہاتھ ملوث نہیں ۔بلکہ معاملہ وہ ہوا جو جو شاعر نے کہا تھا کہ
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
نوبت بایں جا رسید کہ اگر کوئی نوجوان ان پر کام کرنا چاہے تو اسے پورا تعارف تک دستیاب نہیں ،علامہ ؒ کی شخصیت سے آگاہ ارباب دانش نوحہ کناں ہیں کہ واعظ اور خطیب ہی نہیں بعض لکھنے والے بھی اگر قلم اٹھائیں تومحض علامہ کی خطابت پر سارا زور بیاں صرف کرکے سمجھتے ہیں
کہ حق ادا ہوگیا ، محض لفظوں کا گورکھ دھندہ اک قصیدہ اور بس ۔۔۔ غالباً یہ نا دانستہ نہیں ، شائد کسی کی ضرورت ہی اتنی تھی کہ علامہ کا نام تو زندہ رہے لیکن فکر کی کسی کو ہوا نہ لگے کہ فکر تو ٹک کر بیٹھنے نہ دے گی ، جوالا مکھی بنا کرقرآن وسنت کے غلبہ کی تحریک کے لئے بے چین رکھے گی ۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ عہد حاضر کا نوجوان صرف اس پر اکتفا کرنے کو تیار نہیں ہے ،وہ جاننا چاہتا ہے ، آگاہی کا خواہش مند ہے تاکہ علامہ کی فکر سے سیکھے اور باطل کے نظاموں کو حکمت کے ساتھ پاش پاش کردے ، لیکن اس کے پاس راہنمائی نہیں ہے ، کوئی راستہ نہیں ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ علامہ کی کتابوں کو پڑھے ان کی زندگی کا مطالعہ کرے ، ان کے اسفار کا جائزہ لے اور اس میں سے اپنے لئے رول ماڈل اخذ کرے کیونکہ علامہ شہید کے افکار و نظریات آج بھی منہج سلف پر کار بند جماعتوں کے لئے عصر حاضر میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی سوانح محض ایک عالم اور خطیب کی سوانح نہیں ایک لیڈر اور اسلامی انقلاب کے ایک مجاہد کی سوانح ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا اور جس نے بلند مقاصد سے آشنا کر کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ آج کے نوجوان کے لئے لازم ہے کہ ماضی پر آنسو بہانے کے بجائے ، ازالے کا راستہ اختیار کرے ، اپنے سفر کو وہیں سے شروع کرے جہاں سے علامہ شہید کے بعد قافلہ نا تراشیدہ اور بھول بھلیوں والی راہوں پر موڑا گیا تھا۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آج کا نوجواں اگر علامہ کی تعلیمات کو ہرز جاں بنالے تو نہ صرف اس کے لئے دین کی روح کو سمجھنا آسان ہوجائے گا ، بلکہ کارگاہ حیات میں کامیابیاں اس کے قدم چومیں گی ۔
آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
قلزمِ ہستی سے تو ابھرا ہے مانندِ حباب اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی
خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تو



