پڑھتا جا شرمایا جا۔۔۔۔۔

خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش

بالآخر وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بڑ افیصلہ کرتے ہوئے پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی اور ایمینسٹی سکیم کی صورت شاندار ریلیف کا اعلان کردیا ہے ، جسے اگر آخری اوورز میں لگایا گیا چھکا قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ وزیر اعظم کے اس اعلان سے حکومت پر 250 ارب کا اضافی بوجھ آئے گا ، جس کا بندوبست پہلے سے کرلیا گیا ہے ۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ اعلان کسی ہنگامی صورتحال کا فوری رد عمل نہیں بلکہ وزیر اعظم کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے باقاعدہ منصوبے کا حصہ ہے جس پر کئی ہفتوں سے کام جاری تھا، لیکن خلق خدا جانتی ہے کہ بے نظیر بھٹوکا بیٹا اگر کراچی سے لانگ مارچ لے کر نہ نکلتا تو یہ ریلیف کبھی نصیب نہ ہوتا۔ اس سلسلہ میں آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کے ساتھ ساتھ اس امر کا بندوبست بھی کیا گیا ہے کہ بجٹ خسارے میں اضافہ نہ ہونے پائے ۔ وزیر اعظم کی ہدائت اور مکمل نگرانی کے دوران وزارت خزانہ نے اضافی بوجھ سے نمٹنے کی خاطر پوری حکمت عملی تیار کرکے وزیر اعظم کو بریفنگ دی اس کے بعد وزیر اعظم نے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے اس اہم اقدامات کا اعلان کیا ، اس حوالہ سے چار مختلف مدات سے رقوم حاصل کرنے ، اوربعض غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ لیکن ایک ابہام البتہ موجود ہے کہ تقریر سے کچھ گھنٹے قبل فی یونٹ 5روپے 95پیسے بجلی مہنگی کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا ، وزیر اعظم نے جس کمی کا اعلان کیا ہے وہ اس اضافے میں سے منہا کی جائے گی یا ، پہلے والی قیمت میں کمی ہوگی ، واضح نہیں ہے ،توقع اور قرین انصاف تو یہ ہے کہ پہلے موجود قیمت میں کمی کی جائے اور اس نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا جائے ، تاکہ عوام کو واقعی ریلیف مل سکے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک ہفتے میں اتنا بڑا ریلیف اب دیا جا سکتا ہے تو ماضی میں ایسا کیوں نہ کیا گیا؟ اس سے ایک بات کو سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت چاہے تو مہنگائی کم بھی ہو سکتی ہے ،آئی ایم ایف کو منایا بھی جا سکتا ہے ۔ اصل مسئلہ معاشی بحران نہیں ، اصل مسئلہ ارباب اختیار کی نا اہلی اور عوام کے حوالہ سے عدم دلچسپی ہے۔ ورنہ مملکت خداداد کو رب نے اپنی شان کے مطابق ہر نعمت پوری فیاضی کے ساتھ عطا کر رکھی ہے، اگر اسے استعمال کیا جائے اور بروئے کار لایا جائے تو عالمی ساہو کاروں کی محتاجی ہی ختم نہیں ہوگی بلکہ عوام کی بھوک اور غربت کا بھی علاج ہوگا ۔ معاملہ یہ ہے کہ ہماری نالائقیوں اور نا اہلیوں کی داستانیں پوری دنیا میں کہی اور سنی جانے لگی ہیں ۔
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
سفارتکار عمومی طور محتاط زبان اور نرم الفاظ میں گفتگو کرنے کے عادی ہوتے ہیں ،لیکن پاکستان کے حالات کے حوالہ سےپاکستان میں روس کے سفیر ڈانیلا وی گینچ نے جو کھری کھری سنائی ہیں،وہ ہمارے تمام مسائل کی ایک بھرپور تصویر ہے،24فروری کو نوائے وقت میں شائع ہونے والے انٹرویو میں مسٹر ڈانیلا کے خیالات بلا کسی تبصرے کے پیش خدمت ہیں تاکہ شائد غیر کی زبان سے احوال واقعی سن کر ہی کوئی سبق سیکھ لیں ،وہ کہتے ہیں کہ ’’پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے کو ہم ترجیح میں پہلے مقام پر دیکھتے ہیں۔ یہ اہم انرجی منصوبہ ہے، توقع کرتے ہیں کہ پاکستان اس منصوبے پر عمل کرے اس پر فیصلہ کرناپاکستان کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے سامنے حکومت پاکستان کی منصوبے کے بارے میں تفصیلات کی حقیقی تصویر بھی موجود نہیں ہے۔ ہم سانٹاکلاز نہیں ہیں جو پیسے ہر جگہ پر پھینکیں۔ ہمیں یہ
2

دیکھنا ہے کہ آیا یہ منصوبہ ہمارے لئے بھی مفید ہے یا نہیں، ہمارے لئے یہ پوری طرح بزنس کا فیصلہ ہے۔ بھارت کے پاکستان کے بارے میں معاندانہ روئیے اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور روس کے کردار کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس کا دو طرح سے جواب دیں گے۔ ایک ان کا سرکاری نقطہ نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ سب کچھ جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو رہا ہے، مقبوضہ کشمیر دوطرفہ تنازعہ ہے، اس لئے بھارت سے براہ راست بات کی جائے، چین سمیت دوسری عالمی طاقتیں اور ممالک راستہ نکالنے کے لئے ایسی ہی سوچ اپناتے ہیں۔ دوسرا ان کا ذاتی موقف ہے، مقبوضہ کشمیر میں تکلیف دہ انسانی صورت حال ہے، سول آزاد ی مفقود ہے، دنیا نہیں جانتی کہ وہاں اصل میں کیا ہو رہا ہے کیوں کہ سٹریٹس بند یا لاک ڈاؤن ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے حالات برقرار رہیں گے جب تک پاکستان اور بھارت میں موجود زعماء آؤٹ آف باکس سلوشن نہیں نکالتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایل او سی کو انٹرنیشنل بارڈر تسلیم کرنا یا آزاد کشمیر کو پاکستان کو پانچواں صوبہ بنانا، وہ ایسا کوئی منظر نہیں دیکھ رہے کہ جس میں استصواب رائے ہو یا 1948ء کی یو این قرارادادوں کے تحت فیصلہ کا امکان بہت کم ہے، تاہم وہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو سمجھتے ہیں تاہم ہر گزرتے سال کے ساتھ استصواب رائے کا امکان کم ہو رہا ہے۔ یہ دوطرفہ تنازعہ ہے اس کے لئے شملہ ایگریمنٹ یا اعلان لاہور 1999ء سمیت دوسرے قانونی انسٹرومینٹ کو بھی دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ کسی حل طلب مسئلہ کے بارے میں بھارت کا ذہن نہیں بدل سکتا، جب تک انڈیا خود نہ چاہے۔ ہم اپنے طور پر بھارت کو قائل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرے، ہم یہی کر رہے ہیں۔ تاہم بھارت جو کرنا نہیں چاہتا اس کے لئے اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال بہت ہی پیچیدہ ہے، وہاں بھوک موجود ہے، ہم پاکستان اور دوسری بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر مدد کے لئے کوشاں ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی کہ امریکہ کو قائل کیا جائے کہ وہ ان کے فنڈز جاری کرے، مختلف فورمز پر ان کی آواز کو اٹھا رہے ہیں، ہم نے امدادی سامان بھی بھیجا ہے، مگر ہم اس بار افغانستان پر قبضہ کرنے والا ملک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں سٹیل ملزکی طرح کے منصوبوں میں حصہ لے سکتے ہیں، مگر یہ بزنس ہونا چاہئے۔ روس کے سفیر نے کہا کہ پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے کا مستقبل پاکستان کے ہاتھ میں ہے کیونکہ اس کا فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا اور ہمارے ساتھ معاہدہ کیا۔ اس بارے میں پاکستان کے وزیر توانائی سے پوچھا جائے، پاکستانی وزارتیں غیر متحرک ہیں، ہم اس بارے میں خط لکھتے ہیں تو کئی ماہ تک جواب نہیں آتا، جب میں یہاں آیا تو میں نے دوبارہ بات چیت شروع کی لیکن کئی ماہ تک جواب نہیں آیا، جس پر میں سمجھ گیا کہ یہ معاملہ صرف سیاسی ہے۔پاکستان نے روس کے ساتھ توانائی کے معاملے میں آگے جانا ہے یا نہیں، یہ فیصلہ پاکستان نے کرنا ہے، ہم نے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں اگر فائدہ مند مواقع موجود ہوں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف کی 1998ء کی حکومت نے روس کے ساتھ چھوٹی گاڑیاں بنانے کا معاہدہ کیا تھا لیکن پھر اس منصوبے پر بات ہی
3

نہیں کی گئی۔‘‘ عرب ممالک سے لے کر روس اور چین تک پاکستان کے ہر دوست کو ایک ہی شکوہ ہے کہ حکمران صرف سیاسی مفاد کے تحت اعلانات سے آگے نہیں بڑھتے ، عمل کے میدان میں صفر ہیں ، یہی وجہ ہے کہ سی پیک سے اب چین بھی اکتا چکا ہے ، عرب دور ہو چکے ہیں ، یہاں تک افغانستان کے طالبان بھی شکوہ کناں ہیں کہ اعلانات پعر آگے بھی تو چلیں ، کرنا کیا ہے فیصؒلہ تو کریں ؟؟۔۔
یوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا
طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر