تحریر نذیر ڈھوکی
سلیکٹڈ وزیراعظم ابھی ماسکو میں تھے کہ روس نے یوکرین سے جنگ چھیڑ دی جس کے قوی امکانات تھے حیران کن بات یہ ہے وزارت خارجہ نےماسکو یاترا کے ممکنہ اثرات کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کیونکہ ہمارے وزیراعظم خود کو عقل کل سمجھتے ہیں جبکہ عمران خان کی نظر میں وزیر خارجہ کی حیثیت گنگو تیلی سے ذیادہ نہیں ہے ویسے بھی شاہ محمود قریشی کو چاپلوسی کی سوا آتا ہی کیا ہے؟ یہ تو وقت بتائے گا کہ عمران خان کے روس یاترا کے اثرات کیا سامنے آتے ہیں مگر حیران کن بات یہ ہے وزیراعظم اس بات سے غافل رہے کہ یوکرین میں پاکستانی بھی بستے ہیں ، اس وقت
یوکرین میں مقیم ھزاروں پاکستانی
بے یارو مددگار اور بے آسرا ہیں اور ان کے رشتہ دار اپنے پیاروں کیلئے تڑپ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نالائق نیازی سرکار کو چیئرمین پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری کے یوکرین میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے حوالے سے بیان کے بعد ہوش آیا اور یہ کہہ کر اپنی جان چھڑائی کہ یوکرائن میں مقیم پاکستانی جب پولینڈ پہنچیں گے تو پی آئی اے کا طیارہ بھیج دیا جائے گا۔ حالانکہ پاکستان کے وزیر خارجہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ فوری طور ماسکو سے پولینڈ پہنچتے اور سفارتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کو ملک واپس لانے میں کردار ادا کرتے ، مگر افسوس کہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ گیدڑ کی طرح اپنے کان بچاکر پاکستان واپس آگئے ، ویسے ہم نے جنرل ضاع جیسا وحشی ،پرویز مشرف جیسا مکار حکمران تو دیکھا اب ہماری قسمت میں بزدل اور نالائق وزیراعظم ہے جس کو پتہ ہی نہیں کہ خارجہ امور
کیا ہوتے ہیں، انہیں غرض صرف سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے
بھیجی جانے والی رقم سے ہے مگر مشکلات کے شکار پاکستانیوں کی زندگیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے وزیراعظم ہوش میں نہیں ہیں اور وزیر خارجہ سفید چادر اوڑھ کر سو رہے ہیں دوسری جانب جنگ کے سائے میں خوف اور دہشت کے شکار پاکستانی اپنی حکومت کی بے حسی سے پریشان ہیں اور ان کے خاندان ناقابل برداشت عذیت سے دوچار ہیں۔ بات تلخ ضرور مگر سچ ہے کہ عمران نیازی کو سمندر پار پاکستانیوں کو لاحق مشکلات کی کوئی فکر نہیں ہے صرف ان کی طرف سے دیئے جانے والے چندے سے سروکار ہے ، اللہ پاک یوکرین میں مشکلات کے شکار پاکستانیوں کی غیبی امداد کرے ،ان کی زندگیوں کی حفاظت کرے اور وہ سلامتی سے اپنے وطن واپس آئیں اور اپنے والدین سے ملیں،



