اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی وکروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوام کے پاس جا کر عمران خان کے جھوٹ کو بے نقاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے پارٹی کارکنوں کی ضرورت ہے جو کام کرنا چاہتے ہیں اور پارٹی کے ساتھ اسی طرح کھڑے رہیں جس طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ کھڑے رہے تھے۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے یہ باتیں پشاور میں پارٹی ورکر کنونشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ اس نااہل اور ناجائز حکومت کے خلاف عدم اعتما دلانے کے لئے ہے۔ عمران خان نے اپن کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا چاہے وہ ایک کروڑ ملازمتیں اور 50لاکھ گھروں کا وعدہ ہو۔ عمران خان نے ایک ملازمت بھی مہیانہیں کی اور بنی گالہ میں اپنے گھر کو ریگولرائز کروا لیا۔ عمران خان کا نوجوانوں سے کیا ہوا ہر وعدہ جھوٹا نکلا اور اس نے ملک میں بدترین معاشی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس کا تعلیم، ملازمت، معیشت، کرپشن کے خاتمے، امن و امان اور کسانوں اور مزدوروں اور خواتین سے کئے گئے وعدے بھی جھوٹ ثابت ہوئے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ پارلیمنٹ میں انہوں نے پہلے ہی روز عمران خان کو سلیکٹڈ کیا تھا اور آج ساری دنیا انہیں سلیکٹڈ کی حیثیت سے جانتی ہے۔ عمران خان کا پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق سب سے کرپٹ پاکستان ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے کبھی بھی کسی ڈکٹیٹر چاہے وہ جنرل یحی خان ہو یا جنرل ضیاءیا جنرل مشرف میدان خالی نہیں چھوڑا اور نہ ہی عمران خان کے خلاف میدان خالی چھوڑا۔ ہم نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ استعفی نہ دیں اور ضمنی انتخابات لڑیں اس کے بعد دنیا کے دیکھا کہ عمران خان سارے ضمنی انتخابات ہار گیا، سینیٹ کا انتخاب ہارا اور کے پی میں بلدیاتی انتخابات ہارا۔ ہمارا لانگ مارچ اس حکومت کو کمزور کر دے گا، ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہم پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملے نہیں کرتے۔ اب ہمارے دوست بھی ہمارے پیج پر آگئے ہیں اور جب ہم اسلام آباد اپنے لانگ مارچ کے ساتھ پہنچیں گے تو اپنے مطالبات سامنے لائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی کا کارکن نظریات کارکن ہے، بہادر کارکن ہے اور وہ کبھی بھی اپنے نظریے اپنے ملک اور شہیدوں کے خون پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کارکنوں نے کامیابی سے ان دہشتگردوں کا مقابلہ کیا جو ہمارے سویلین، پولیس اہلکاروں، فوجیوں اور اے پی ایس کے بچوں کے قاتل ہیں۔ حکومت ان دہشتگردوں کے سامنے جھک گئی ہے لیکن عوام نہیں جھکیں گے۔ ان دہشتگردوں کو پہلے معافی مانگنی پڑے گی اور خود کو قانون کے سامنے احتساب کے لئے پیش کرنا ہوگا۔ حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ غلط کر رہی ہے اسے پاکستان کے عوام اور پارلیمان کے سامنے ان دہشتگردوں سے بات چیت سے پہلے اعتماد حاصل کرنا چاہیے تھا۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا ہی یہ کارنامہ ہے کہ اس نے کے پی کو اس کا نام دیا۔ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے پی پی پی نے صوبے کے عوام کو اپنی مرضی کے مطابق حکومت کرنے کا حق دیا۔ عوام اس پارٹی کو کبھی بھی نہیں بھول سکتے جس نے نوجوانوں کو ملازمتیں دیں۔ اس صوبے اور ملک کی خواتین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی نہیں بھول سکتی۔ پاکستان پیپلزپارٹی مزدوروں کے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ سندھ حکومت نے مزدوروں کی تنخواہ کم از کم 25ہزار مقرر کی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ مزدوروں کو بہتر تنخواہیں اور سہولیات مہیا کی جائیں۔ سندھ حکومت نے طلبا یونینز پر پابندی اٹھائی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کے پی اور دیگر صوبوں میں بھی طلباءیونین پر سے پابندی اٹھائی جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کی طرح کینسر، جگر، گردے اور دل کی بیماریوں کا مفت علاج کے پی اور پورے ملک میں مہیا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بہت عرصہ پہلے پی ٹی آئی حکومت کو چیلنج دیا ہوا کہ وہ این آئی سی وی ڈی کی طرح کوئی ہسپتال پاکستان میں دکھا دے لیکن پی ٹی آئی کے حکومت یہ چیلنج قبول نہیں کیا۔
پشاور پیپلزپارٹی کے ورکرز کنونشن میں بلاول بھٹو زرداری کی پارٹی وکروں کوعمران خان کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے کی ہدایت



