تحریر: نذیر ڈھوکی
منگل اور بدھ کی درمیانی شب جب
دن بھر کی تھکن کے بعد لوگ سو چکے تھے تو وزیراعظم عمران خان نے ان پر پٹرول قیمتوں کی شکل میں کارپٹ بمباری کردی اور پٹرول فی لیٹر 160 روپے تین پیسے کردیا یعنی آپ کو اب پٹرول 160 میں بھی پورا لیٹر نہیں ملے گا۔ وزارت خزانہ میں بیٹھے ہوئے مزمل نامی ایک مسخرے نے کہا کہ پٹرول قیمتوں میں اضافے سے عوام پر کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ سڑکوں پر اس طرح ہی ٹریفک رواں دواں ہے۔
منگل کی شام وزیراعظم ہاوس کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم نے اوگرا کی سمری واپس کردی ہے اور وزیراعظم نے کہا ہے کہ پٹرول قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں کر سکتے، آئی ایم ایف برانڈ وزیر خزانہ کا بھی یہ بیان میڈیا پر آیا جس سے لوگوں کو تسلی ملی کہ کم سے کم آج تو پٹرول مہنگا نہیں ہوگا کل ڈلوائیں گے مگر جب بدھ کی صبح ان کی آنکھ کھلی تو انہیں معلوم ہوا کہ کپتان خان نے ان سے
ہاتھ کردیا ہے بلکہ رات کے اندھیرے میں لوٹا ہے ، پٹرول 160 روپے فی لیٹر ہو یا 260 کا انہیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ 2013 کے بعد انہیں اپنی زیر استعمال گاڑیوں میں پیسے دیکر پٹرول ڈلوانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی کیونکہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے ان کے تمام اخراجات کی ذمہ داری لے رکھی تھی اب تو وہ خود وزیراعظم ہیں۔
بنی گالا کے پہاڑ پر بنے پرسرار اور ویران مکان کی قسمت تو 2014 میں کھل گئی تھی جب مہربانوں کو خان صاحب میں ہیرے جیسی چمک نظر آئی تھی اس چمک نے مہربانوں کی آنکھوں کو خیرا کردیا تھا مگر 2018 کے بعد مخلوق خدا بن مانگی آفت کا عذاب جھیل رہی ہے ،مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ دی ہے ، بیروزگاری نے نوجوانوں سے حوصلہ چھین لیا ہے ۔
پڑھے لکھے نوجوانوں کو لنگر خانے پر گزارہ کرنے کی ترغیب دی جا چکی ہے یعنی وہ گھر سے باعزت روزگار حاصل کرنے کیلئے نکلیں تو ان کی پہلی منزل لنگر خانہ ہو دن بھر خوار ہونے کے بعد پناہ گاہ ان کی قسمت ہو ۔ رہی بات پٹرول قیمتوں میں اضافے کے اثرات کی تو
وہ اثرات تباہی کا آسیب بن کر باہیں کھول کر اپنے آغوش میں لینے کا منتظر ہے ۔ پٹرولیم کی مصنوعات میں گردن توڑ اضافے سے بنی گالا سے بھیجا جانے والا مہنگائی کا جن جو جادو دکھائے گا اس کے تباہ کن اثرات رواں ماہ شروع ہو جائیں گے ۔
عوام 27 فروری کو چیئرمین پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری
کے لانگ مارچ کو مشکلات سے نجات کا پیغام سمجھ کر اس کا حصہ بنیں اپنے بہترین حال اور اپنے بچوں کے باوقار مستقبل کیلئے بلاول بھٹو زرداری کے کارواں میں اپنی شمولیت کو یقینی بنائیں، عوام سونامی کی تباہی کو دیکھ چکے ، تبدیلی نے جو انہیں زخم دیئے ہیں کیا یہ کافی نہیں ہیں؟۔



