تحریر: نذیر ڈھوکی
ہمارے پیارے وطن کی سیاست میں
پردہ نشینوں کا اہم کردار رہا ہے یہ ہی وجہہ ہے کہ جمہوریت پائیدار تو
دور کی بات ہے ہمیشہ کٹہرے میں کھڑی رہی ہے ، مگر دور حاضر میں کوئی بات راز میں نہیں رہتی ، اب تو سیاسی شعور اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ عام آدمی بھی یہ بھید جان چکا ہے کہ تبدیلی کس کا خیال تھا؟
اس تبدیلی نے عمران خان کو وزیراعظم کے منصب پر بٹھایا، اور مراد سعید وزیر بن گئے مگر حالات نے ملتان کے شاہ محمود قریشی کو
کہاں لاکر کھڑا کردیا ہے جس سے ان کے مرید بھی پشیماں نظر آتے ہیں، تین دہائیاں قبل کے زمانے اور آج کے زمانے میں بہت فرق ہے ساڑھے تین سال قبل تو کسی کو یاد ہی نہیں تھا کہ شاہ محمود قریشی کے والد نے بھٹو صاحب سے دغا کرکے جنرل ضیاء کے ساتھ مل گئے تھے ، مگر شاہ محمود قریشی کا موجودہ کردار دیکھ کر نوجوان گوگل پر جاکر شاہ محمود قریشی کا پس منظر معلوم کر رہے ہیں، در اصل عمران خان کے متبادل بننے شوق قریشی صاحب کو
کہیں کا نہیں چھوڑا۔ بات خبر ذرائع نے چار سال قبل بتایا تھا کہ تبدیلی
کے تخلیق کاروں نے قریشی صاحب
کو چکر دیا تھا کہ آپ پیپلزپارٹی کو
چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں عمران خان کے بعد آپ پی ٹی آئی کے صدر ہوں گے اور آسانی سے وزیراعظم بن جائیں گے حقیقت یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی نے حد درجہ خوشامد کی وجہ سے عمران خان کی قربت حاصل کی اور ترین کا پتہ کاٹنے میں کامیاب ہوگئے، سیاسی اور صحافتی تجزیہ نگار اس وقت حیران ہو گئے جب قومی
اسمبلی میں خطاب کے دوران شاہ محمود قریشی نے خود کو کپتان کا ٹائیگر کہا ، یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے عمران خان کے ایک پالتو کتے کا نام ٹائیگر ہے ، لطف کی بات یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی سے باعزت تو خیبر پختونخوا کے پولیس
اہلکار نکلے جنہوں نے اپنے لیئے شیرو کا نام قبول نہیں کیا کیونکہ شیرو بھی عمران خان کے کتے کا نام ہے ، اس بات کو ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ تین سال قبل چیئرمین پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری کے خلاف قومی اسمبلی میں گھٹیا زبان استعمال کرنے کے لیے مراد سعید کو سامنے
لایا جاتا تھا اب مراد سعید کی جگہ
شاہ محمود قریشی نے لی ہے یہ حالات کا جبر ہے ،وقت کی ستم ظریفی ہے یا تاریخ کا انتقام ہے سیاست میں شاہ محمود قریشی کو
مراد سعید کے مد مقابل لا کر کھڑا کردیا ہے ؟
شاہ محمود قریشی بمقابلہ مراد سعید



