تحریر نذیر ڈھوکی
Nazirdhoki8@gmail.com
چیئرمین پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے 27 فروری کواسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کے اعلان کے بعد سیاسی ہلچل شروع ہوگئی ہے لاھور جہاں صدرجناب آصف علی زرداری قیام پذیر ہیں سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے ۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کے بلوچستان کے دورے میں عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا پتہ دے رہی ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے 27 فروری کو
مزار قائد سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں عوام کی شرکت کی تعداد کیا ہوگی۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عمران حکومت کے خلاف پہلے لانگ مارچ ہوگا یا عدم اعتماد کی تحریک آئے گی تاہم یہ بات یقین سے
کہی جا سکتی ہے کہ عمران خان کا
اقتدار میں رہنا خطروں میں گھر چکا ہے ۔جمہوری سیاست کے امام کا انداز سیاست یہ ہی رہا ہے کہ وہ اس وقت تیر چلاتے ہیں جب انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے ان کا چلایا ہو تیر ٹھیک نشانہ پر ہوگا ۔ کوئی کیسے بھول سکتا ہے کہ 2008 کے
انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کو سادہ اکثریت ملی تھی اور اتحادی حکومت وجود میں آئی تھی تو جناب آصف علی زرداری نے جنرل پرویز مشرف کو باور کرایا تھا کہ اقتدار چھوڑ دو یا مواخذہ کیلئے تیار رہو اس کے چند دنوں بعد خود کو طاقت صدر تصور کرنے والے پرویز مشرف نے ایوان صدر چھوڑنے
میں عافیت سمجھی اور انتہائی بے بسی کے عالم میں ایوان صدر سے رخصت ہوئے۔ کوئی مانے یا نہ مانیں
مگر فیصل آباد میں وزیراعظم عمران خان کا خطاب ان کی اقتدار سے رخصتی کی نشاندہی کرتا ہوا نظر آیا اس سے قبل انہوں نے بھڑک
ماری تھی کہ وہ اقتدار سے باہر آئے تو زیادہ خطرناک ہونگے اس حوالے سے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بحث تاحال جاری ہے کہ بھپرے
ہوئے خان نے یہ دھمکی کس کو دی تھی ؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے خان کرکٹ کے اچھے کھلاڑی ہیں تاہم کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے اس رائے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں ان کی رائے یہ ہے خان نے کرکٹ میں جوا اور بال ٹمپرنگ متعارف کرایا رہی بات خان کی اصول پرستی کی تو کرکٹ کے وہ دیوانے
ابھی زندہ ہیں جنہوں نے خان کو پی سی بی کو لات مار کر کیری پیکر کے پیارے ہونے کا۔منظر اپنی
آنکھوں سے دیکھا تھا خان کا یہ عمل دولت سے دیوانگی ظاہر کرتا ہے۔ بدھ کے روز وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں اگر چہ ساڑھے تین سال پہلے کا بیانیہ دہرایا
مگر سچ یہ ہے کہ خان صاحب کے
چہرے پر مایوسی اور شکست کے آثار نمایاں تھے جو میک اپ کے باوجود صاف نظر آ رہے تھے ۔ممکن ہے کہ خان صاحب کے ارد گرد رہنے
والے مشیر انہیں تسلی دے رہے ہوں
کہ 27 فروری کو شروع ہونے والا لانگ مارچ غیر موثر ہوگا کیونکہ اس لانگ مارچ میں کسی پاشا کی
آشا شامل نہیں ہے مگر نالائق اتنے
بھی نالائق نہیں ہیں کہ یہ نہ سمجھے کہ انہیں ڈھارس دینے والے
جھیل کے وہ پرندے ہیں اڑان کرنے میں دیر ہی نہیں کرتے ۔
جیسے جیسے 27 فروری قریب آئے گی سیاسی سرگرمیوں میں بھی گرمی آئے گی اور خان بھی اعصاب شکن صورتحال سے دوچار ہونگے انہیں چیئرمین پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ بھی پریشان کرے گا اور متوقع عدم اعتماد کی تحریک بھی
بے چین کریگی کیونکہ مزار قائد سے
شروع ہونے والے کارواں میں سیکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد عوام ہونگے ،بلوچستان اور
سندھ کے لاکھوں لوگوں کا صادق آباد میں عوام کا جم غفیر شریک ہوگا ، بہت ساری شخصیات پیپلزپارٹی میں شمولیت کے ساتھ چیئرمین بلاول بھٹو کے کارواں میں
شامل ہونگی اس دوران سیاسی حالات تبدیل ہو چکے ہونگے اور چیئرمین پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے
کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا زرداری کا لانگ مارچ جب اسلام آباد پہنچے گا تو ایک بار پھر
18 اکتوبر 2007 کو کراچی میں
محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے استقبال کی یاد تازہ ہو جائے گی۔
کیا معلوم اس سے قبل عمران خان
جنرل پرویز مشرف کی طرح اقتدار چھوڑنے میں عافیت سمجھیں۔ کیونکہ چیئرمین پیپلزپارٹی کے کارواں میں مہنگائی، بیروزگاری، معاشی بدحالی کے شکار عوام شریک ہونگے اس لیئے خان صاحب کے پاس کوچ کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے اور پھر احتساب کا بھی سامنا ہوگا۔



