تحریر: نذیر ڈھوکی
بچپن سے سنتے چلے آ رہے تھے کہ ہمارا ملک نازک دور سے گزر رہا ہے مگر آج کے حالات دیکھ کر واقعی لگ رہا ہے کہ ہم نازک دور سے گزر رہے ہیں ایسے لگ رہا ہے جیسے ہمارا جہاز نالائق کپتان کے رحم و کرم پر ہے ،یہ ہمارا المیہ رہا ہے ہم اندھوں سے راستہ پوچھنے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ دوسری بات یہ ہے ہم خود فریبی کے شکار ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ ہم عالمی سطح پر تنہائی کے شکار ہو چکے ہیں اس تنہائی سے نکلنے کیلئے ہمیں لیڈر کی ضرورت ہے نرسری اگائے ہوئے سیاستدان کینہیں۔ ملک کی خارجہ پالیسی کیا ہے پارلیمان لا علم ہے ، قرضے کن شرائط پر لیئے جا رہے ہیں پارلیمان بے خبر ہے ، دہشت گردوں کے خلاف ریاست کی پالیسی کیا ہے پارلیمان کو لاتعلق رکھا جا رہا ہے ،
سوال یہ ہے آصف علی زرداری نےملک کو ایک سمت دی تھی ، آزاد اور باوقار خارجہ پالیسی ، مضبوط معیشت، اور ریاست کے دشمنوں کو ملیا میٹ کرنے کی حکمت عملی دی تھی ۔ پاکستان کی آزاد ،خود مختار اور باوقار خارجہ پالیسی کی دنیا قدر کر رہی تھی ، صدر جناب زرداری نے ایڈ نہیں ٹریڈ کا بیانیہ دیا جس سے دنیا کو یہ پیغام ملا کہہمیں فقیر سمجھ کر امداد کی بجائے ہمارے ساتھ تجارت کی جائے ، جبکہ ملک میں امن کی بحالی کیلئے سوات آپریشن کے ذریعے ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو باور کرایا کہ جہاں سے آئےہو وہاں واپس چلے جاو ہماری دھرتی تمہارے ناپاک وجود کیلئے جہنم بن چکی ہے اور پھر انسانیت کے دشمنوں وحشی درندوں کیلئے دھرتی جہنم بنادی، سوال یہ ہے کہ2008 کو صدر جناب آصف علی زرداری کی زیر قیادت پاکستان پیپلزپارٹی کو تباہ حال خارجہ پالیسی ، زمین بوس معیشت اور قدم قدم پر دہشت گردوں کی طرف سے جلائی گئی آگ کے شعلوں میں لپٹا ہو ملک ملا تھا مگر کس طرح انہوں نے دنیا کیلئے قابل رشک اور کامیاب پاکستان کی خارجہ پالیسی دی ، زبوں حال معیشت کو سنبھالا اور ملک میں امن بحال کیا اور 2013 میں آنے والی حکومت کو سیاسی، جمہوری اور معاشی طور مستحکم ملک سپرد کیا ۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کی یہ بھی تاریخ رہی ہےاس نے غیرملکی حکومتوں کو ذاتی نہیں صرف پاکستان کا دوست بنایا ۔ موجودہ حکومت جس کا پیپلزپارٹی سے بغض کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے میڈیا کے سامنےاعتراف کر چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں گردشی قرضے زیرو تھے، رہی بات داخلی امور کی صدر جناب آصف علی زرداری کی پالیسی بلکل واضع تھی پاکستان کا پرچم اتارنے اور ریاست کی رٹ چیلنج کرکے بندوق اٹھانے والے پاکستان کے دشمن ہیں اور محصوم انسانوں کا خون بہانے والے ناقابل معافی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیا ماجرا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی زیر قیادت حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے 9 سال بعد ملک کیسے الٹے پاؤں چلنے لگا ؟ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عالمی سطح پر ہم تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ داخلی طور بھی سیاسی عدم استحکام کے شکار ہیں، عام معاشی طور بدحال ہیں مہنگائی نے ان زندگی کو عذاب بنادیا ہے
بیروزگاری بال کھولے رکس کر رہی ہے جبکہ نوجوان اپنے مستقبل کے بارے فکر مند ہیں۔ درمیانہ طبقے کی سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ چکا ہے ، نچلے گریڈ کے سرکاری ملازمین کا جینا مشکل بن چکا ہے سچی بات تو یہ ہے کہ ماہانہ تیس ہزار کمانے والے غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، صنعتیں اور تجارت کے کا شعبہ دم توڑ رہا ہے رہی بچارے غریب کی بات تو ان کیلئے چاند کی طرح ہو چکی ہے یعنی کبھی پوری روٹی ،کبھی پونی روٹی ،کبھی آدھی روٹی، کبھی ایک چوتھائی روٹی اور کبھی بلکل بھی میسر نہیں ہوتی جو ایٹمی قوت کے حامل ملک کیلئے انتہائی خوفناک بات ہے ۔ ایسے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام معاشی طور کمزور انسانوں کیلئے بہت بڑی غنیمت ہی کہا جا سکتا ہے اگر چہ حکومت نے اس کو احساس کارڈ کا نام دیا ہے مگر غریب اتنے باشعور ضرور ہیں جو اس امداد کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی طرف سے امداد قراردیتے ہیں، رواں ماہ 27 فروری کو چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری کراچی سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر چکے ہیں ان کا بیانیہ بلکل واضع اورحقیقت پر مبنی ہے کہ مزید تباہی سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ نالائق وزیراعظم کو واپس گھر بھیج دیا جائے ورنہ وہ ہر چیز تباہ کر دیگا جس کا ازالہ مشکل بن جائے گا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نیازی حکومت ملک کو قرضوں میں جکڑ کر جشن منا رہی ہے اور اس کو اپنیکامیابی قرار دے رہی ہے اسے کوئی فکر نہیں کہ قوم یہ قرضے اتارے گی کیسے ؟ ملک کی زراعت کو تباہ کیا جا رہا ہے جب کاشتکاروں اور کسانوں کیلئے ذرعی کھاد کا حصول مشکل بنایا جائے اور انہیں فصل کی لاگت اور محنت کی مناسب قیمت نہیں ملے تو ان کا حوصلہ ٹوٹنا فطری بات ہے صنعت کاروں اور تاجروں کو نیب کے ذریعے ہراساں کیا جائے تو صنعت اور تجارت کی تباہی کو کس طرح روکا جا سکتا ہے؟ جب کسانوں سے 18 سو فی منگندم خرید کی جائے اور عوام کو 90 روپے فی کلو آٹا فروخت کیا جائے تو اس عمل کو کسانوں اور کاشتکاروں کے معاشی استحصال کا نام نہ دیا جائے تو آخر کیا نام دیا جائے ، سوال یہ ہے کہ آخر ہم جا کہاں رہے ہیں؟ ایسے میں چیئرمین پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا مقصد ملک کو مزید تباہی سے روکنا ہے ۔



