بیجنگ(شِنہوا)پاکستان کے حبیب بینک لمیٹڈ(ایچ بی ایل) کی بیجنگ برانچ کی افتتاحی تقریب 22 دسمبر کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ واضح رہے کہ بیجنگ برانچ ارومچی کے بعد چین میں ایچ بی ایل کی دوسری اور مرکزی برانچ ہے۔ایچ بی ایل 1941 میں قائم ہوا تھا اور 1947 میں پاکستان میں اس کو نافذ کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان کا پہلا کمرشل بینک اور ابھی بھی اپنی سر فہرست اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس نے چائنہ مشینری انجینئرنگ کارپوریشن اور چین کی اسٹیٹ گرڈ کارپوریشن جیسی متعدد سرکاری ملکیت کاروباری اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ ایچ بی ایل نے مئی 2005 میں بیجنگ میں نمائندہ دفتر کھول دیا تھا۔ ایچ بی ایل نے دسمبر 2019 میں بیجنگ برانچ کو قائم کرنے کی منظوری کامیابی سے حاصل کر لی تھی اور آخر کار 5 مارچ 2021 کو باقاعدہ طور پر کھول دیا۔ایچ بی ایل کے چیئرمین سلطان علی الانہ نے بیجنگ برانچ کے افتتاح پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومت اور نگران اداروں کی جانب حمایت اور اعتماد نے ایچ بی ایل کے چین میں واقع برانچ کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔سال 2021 کو چین اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ اس نے ایچ بی ایل کی بیجنگ برانچ کے قیام کو خصوصی اہمیت بھی دے دی ہے۔پاکستان میں چین کے کمرشل کونسلر شیئی گو شیانگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے مابین معاشی تبادلے کو گہرا کرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے مالیاتی اداروں میں بھی سازگار میل جول کا مظاہرہ ہوا ہے جس نے نہ صرف بڑے منصوبوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کو یقینی بنایا بلکہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی سہولیات میں بھی بہتری پیدا کی ہے۔افتتاحی تقریب کے اختتام پر ایچ بی ایل بیجنگ برانچ کے صدر چھنگ وی نے بالترتیب بینک آف کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ اور چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے ساتھ سنگ میل دستخط مکمل کیے اور اسٹریٹجک تعاون پر اتفاق رائے پایا۔بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں مجموعی طور پر 65 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی گئی ہے۔ پاکستان میں قرض دینے والے سب سے بڑے ادارے کی حیثیت سے ایچ بی ایل نے بھی “بیلٹ اینڈ روڈ” کے تحت پاکستان میں متعدد منصوبوں کو فنانسنگ سمیت متنوع مالی خدمات فراہم کی ہے جس کا مجموعی حجم تقریباً 6 ارب امریکی ڈالر ہے۔ایچ بی ایل کی چین میں موجودگی کی مدد سے بینک کو سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشٹیو (بی آر آئی) کے منصوبوں میں شامل سرکاری کمپنیوں اور نمایاں مالیاتی اداروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ ایچ بی ایل کے لیے چین کی مارکیٹ کی اہمیت صرف چین اور سی پیک میں کاروبار تک محدود نہیں، بلکہ ایچ بی ایل اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے مختلف ممالک میں چین کی کمپنیوں کی شمولیت کو مزید وسیع دے سکتا ہے۔
ایچ بی ایل کی بیجنگ برانچ چینی کاروباری اداروں کیلئے عالمی سطح پر سازگار ماحول لائے گی



