واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملہ ہیرس نے ملک میں ایشیائی باشندوں کے خلاف تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں رواں ہفتے ہونے والے فائرنگ واقعہ پر خاموشی اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگی کے خلاف خبردار کیا ہے، فائرنگ سے چھ ایشیائی خواتین سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ایشیائی امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اٹلانٹا میں ایمورے یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے ، بائیڈن نے اعتراف کیا کہ گذشتہ سال ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت میں آسمان کی بلندی کو چھوتا ہوا اضافہ ہوا۔ جبکہ ہیریس نے ایک سنجیدہ حقیقتی خطرے سے خبردار کیا کہ نسل پرستی،غیر ملکیوں کے خلاف پرتشدد نفرت اور جنس پرستی اور یہ سب امریکہ میں ایک حقیقت اور ہمیشہ سے موجود رہی ہیں۔اٹلانٹا میں فائرنگ کی وجہ کے حوالے سے بائیڈن نے کہا کہ اس کی جو بھی وجہ ہو ہم جانتے ہیں کہ بہت سارے ایشیائی امریکی گزشتہ سال گلیوں میں آتے جاتے،ہر صبح بیدار ہوتے وقت اپنی اور اپنے پیاروں کی سلامتی کے حوالے سے فکرمند رہے،ان پر حملےکئے گئے، الزام تراشی کی گئی،انکو قربانی کا بکرا بنایا گیا، ہراساں کیا گیا۔ ان پر زبانی اور جسمانی حملے کئے گئے۔صدر نے افسوس کا اظہار کیا کہ اٹلانٹا میں فائرنگ سے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کی کوئی دل جوئی نہیں کی گئی اور ان کے سوالوں کے جواب نہیں دئے گئے اور کرونا وائرس کی وبا کے دوران بے گناہ ایشیائی امریکیوں کو نشانہ بنانے کے خلاف ملک کافی غم وغصے کا اظہار کرنے میں ناکام رہا۔
بائیڈن اور نائب صدر کی ملک میں ایشیائی باشندوں کے خلاف تشدد کی مذمت



