ہم بھی تھے وہاں موجود۔۔۔۔ اثر خامہ : قاضی عبدالقدیر خاموش

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو۔۔ اقبالؒ نے تو یہ اصطلاح کسی اورتناظر میں استعمال کی تھی لیکن اس پر پوار اترنے والا شخص میرا چھوٹا بھائی اور دوست ہے، جسے دنیا علامہ حافظ طاہر اشرفی کے نام سے جانتی ہے۔میرے بھائی کی جولان گاہ کبھی پورا پاکستان ہواکرتا تھا ، مگر وہ بات پرانی ہے ، اب وہ پوری دنیا میں اپنی لیاقت اور سیاست کا لوہا منوارہے ہیں ۔طاہر اشرفی ایک رول ماڈل ہے،ایک عام پاکستانی جو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا نہ کسی سیاسی جاگیر کا وارث ٹھہرا بلکہ اس کا واحد حوالہ پاکستان ہے ، وہ محنت کرتا ہےاور خلوص نیت کے ساتھ اپنی منزل پر نگاہ رکھتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور دنیا کے لئے اک مثال بن جاتا ہے۔ حافظ طاہر اشرفی کی پوری جدوجہد ہمارے نظروں کے سامنے ہے،جس میں کوئی شارٹ کٹ دکھائی نہیں دیتا، حقیقت تو یہ ہے کہ کامیاب زندگی کا کوئی شارٹ کٹ ہوتا بھی نہیں ، البتہ ایک بات ،بلکہ خوبی ایسی ہے جسے نہ صرف حافظ طاہر اشرفی کا خصوصی وصف قرار دیا جا سکتا ہے ،بلکہ یہ ہر کامیاب انسان کی زندگی میں آپ کو نظر آئے گی کہ وہ اپنے راستے کی کسی رکاوٹ کو پرکاہ اہمیت نہیں دیتے ۔ الزام تراشی سے لے کر پروپگنڈے اور سازشوں پر نظر ضرور رکھتے ہیں مگر اس میں الجھ کر کبھی اپنا راستہ کھوٹا نہیں کرتے ،اورنہ ہی کسی کے خلاف سازشیں کرنے اور چور راستے تلاش کرنےمیں وقت ضائع کرتے ہیں ۔ اوپر اقبال کے جس شعر کا مصرع اول لکھا گیا اس کا دوسرا مصرع بھی ان پر پورا اترتا ہے کہ ’’ رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز‘‘۔
وقت نے یہ منظر بھی بارہا بار دکھایا کہ ایک وقت میں سازشیں اورپروپیگنڈہ کا طومار باندھنےوالے تھک کر نہ صرف پیچھے رہ گئے بلکہ ان میں سے اکثر کو علامہ طاہر اشرفی کے یمین و یسار بھی پایا ، حیرت انگیز طور پر اس کشادہ دل انسان کی زبان کبھی ان کے ماضی کے کردار پر نکتہ چین نہیں ہوتی ۔ مصطفیٰ خان شیفتہ نے شائد ایسی ہی کسی صورتحال میں کہا تھا ۔
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
حافظ طاہر اشرفی کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ شیفتہ کی طرح ہزار دام سے نکلنے کا دعویٰ بھی نہیں کرتے ، ہاں یہ ضرور ہے کہ جو کوئی انہیں شکار کرنے آیا ، ان کے دام محبت کا خود ہی اسیر ہوگیا ۔ہم نے اپنے بھائی کوجب بھی دیکھا مصروف کارہی دیکھا،اللہ نظر بد سے محفوظ فرمائے مگر کبھی انسان سوچتا ہے کہ اتنی انرجی کہاں سے آتی ہے ۔ اک خبر آتی ہے کہ وہ اسلام آباد کے ایوان ہائے اقتدار میں دینی اقداراوراسلامی قوانین کا دفاع کرتے پائے جا رہے ہیں تو دوسری خبر ملتی ہے کہ پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی خاطر دساور میں گرج برس رہے ہیں ۔ایک جانب تنظیمی مصروفیات میں کارکنوں اور تنظیمی عہدیداروں کی دلداری میں مشغول دکھائی دیتے ہیں تو اگلے ہی لمحے اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں مسکراہٹیں بکھیرنے کی جھلکیاں دکھائی پڑ جاتی ہیں ، اس قدر مصروف زندگی میں بھی ذاتی دوستوں سے لمبی گپ شپ کا وقت نکال لینے کا ہنر جانتے ہیں حالانکہ ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ اپنی فیملی کو بھی مکمل وقت دیتے ہیں ۔ اللہ ان کی مصروفیات میں برکت ڈالے ۔صحت وعافیت کے ساتھ انہیں یوں ہی متحرک رکھے کہ وہ ملک بھر کے علما کی جانب سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں ۔ جس کی تازہ ترین مثال مذہب کی جبری تبدیلی کے نام پر این جی اوز کے مقاصد کو پورا کرتا قبول اسلام پر عملا ً قدغن لگانے کے بل کا معاملہ ہے کہ انہوں نے اوروفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اورچیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹرقبلہ ایاز نے خاموشی اورمہارت کے ساتھ ارباب اقتدارکواتنی خوبصورتی سے قائل کیا کہ ملک اک بڑے فتنے سے محفوظ ہوگیا ۔ابھی حال ہی میں عشرہ رحمۃ اللعالمینﷺ کے سلسلہ میں ان کے زیر صدارت اور زیر انتظام خواتین اور اقلیتوں کے حقوق سیرت طیبہ ﷺکی روشنی کے عنوان پر سیمیناربھی ایک شاندار اور جاندار ایونٹ تھا ۔ جس میں روائتی کرداروں سے ہٹ کر متنوع اور مختلف خیالات اور نظریات کی حامل شخصیات کو ایسے حسن انتظام کے ساتھ مدعو کیا گیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی ۔ ترکی، عراق ، مصر، فلسطین ، سعودی عرب کے مذہبی امور کے قونصل اور یورپی ممالک کے سفرا ء کو پہلی بار کسی مذہبی حوالہ سے ہونے والی تقریب میں اکٹھا دیکھا گیا ، انبتہائی مصروف اور انتہائی اہم تقریبات کے سوا وقت نہ نکال پانے پانے یہ احباب اگر یہاں نموجود تھے وہ صرف حافظ طاہر اشرفی کی وجہ سے تھے ۔سمینار کے مہمانان خصوصی میںپیر نور الحق قادری اور رابطہ عالم اسلامی کے ڈائریکٹر سعد الحارثی شامل تھے ، تو مقررین میں ایک جانب صاحبزادہ حسان حسیب الرحمن ، پیر نقیب الرحمن ، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز، ڈاکٹر ضیاء الحق جیسے مختلف مکاتب فکر کے علما ء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تو دوسری جانب مسیحی مذہبی قائدین بشپ ازراء اور فادر جوزف نے بھی سامعین کو اپنے علم و بیاں سے نوازا ۔ مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا قاسم قاسمی ، مولانا نعمان حاشر، علامہ زبیر عابد، مولانا طاہر عقیل اعوان ،مولانا ابو بکر صابری، ڈاکٹر فرخندہ ، علامہ طاہر الحسن ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا عبید اللہ گورمانی ، مولانا عقیل الرحمن زبیری ، مولانا زبیر کھٹانہ جیسے نوجوان علماء اور سکالرز کو اس سیمینار کا حسن قرار نہ دینا زیادتی ہوگی ۔سمینار میں حضور رحمۃ اللعالمین ﷺ کی تعلیمات کے ذکر کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی حقیقی شکل واضح کرنے کی خاطرآپ کی روشن تعلیمات کے تناظر میں ملک بھر کے علماء و مشائخ کے ہمراہ خواتین کی تعلیم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف بھرپور مہم چلانے اور ہر سطح پر رابطہ سینٹرز قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تاکہ بے دین اور دشمانان دین کی جانب سے پروپگنڈے اور اسلام کو بدنام کرنے کا راستہ بند کیا جا سکے ورنہ کون نہیں جانتا کہ جبر کی بنیاد پر مسلمان بنانے کا تصور ہی اسلام میں موجود نہیں ہے ۔ اس سیمینار میں وزیراعظم کی طرف سے سیرت اتھارٹی قائم کرنے کے اعلان کی مکمل تائید و حمایت کا علان کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے لئے انٹر فیتھ ہارمنی کونسل کام کر رہی ہے ، گذشتہ ایک سال کے دوران بین المسالک و بین المذاہب رواداری اور مکالمہ کی فضا بہتر ہوئی ہے ۔ارباب علم ودانش کی یہ مجلس کچھ کہنے سے زیادہ سننے سے تعلق رکھتی تھی، مگر دعوت سخن پر امیر مینائی کا خوبصورت شعر سامنے آگیا کہ
امیر جمع ہیں احباب درد دل کہہ لے پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے
ہم نے اپنے پیش رو احباب کے خیالات کی توثیق کی کہ پاکستان کے آئین کے مطابق مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق طے کردئے گئے ہیں ، اس پر عمل درآمد کرنا ہو گا، کسی کو ملک میں مذہب کی بنا پر خوف و ہراس نہیں پھیلانے دیں گے ، مذہب کے نام پر نفرتیں پھیلا نے کا عمل ختم ہو رہا ہے ۔دیگر مقررین کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور کہا کہ اسلام ہی خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ہے ، رسول اکرم ﷺ رحمت للعالمین ہیں، رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات انسانی حقوق کی محافظ ہیں، اسلام کسی بھی فرد کو جبراً مسلمان بنانے کی اجازت نہیں دیتا، جبراً شادی اور نکاح کا بھی اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے ۔ بچیوں کی تعلیم اور وراثت میںعورت کا حق سیرت مصطفیٰ ﷺ کی روشن تعلیمات ہیں۔ اسلام مرد اور عورت دونوں کو تعلیم ، تجارت کا حق دیتا ہے ۔ اسلام اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ہے ، اسلام انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے ، پاکستان مسلم اور غیر مسلموں کی جدوجہد سے قیام میں آیا ہے ، آئین پاکستان میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا تعین ہو چکا ہے ، موجودہ حکومت نے پاکستان میں رہنے والے غیرمسلموں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر اقدامات کیے ہیں، جبری شادی ہو یا جبری مذہب کی تبدیلی ، پاکستان کے تمام مسلم مکاتب فکر کا مؤقف واضح ہے کہ اسلام میںا س کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
منعم مرابکوہ و بیاباں برابر است
ہر جا کروفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر