تحریر : تمحید صادق
محسنِ پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کا دفاع مضبوط بنانے کے بعد آخرکار اپنے خالقِ حقیقی سے جامِلے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
آپ ایک انتہائی محنتی ، بے داغ اور باوفا پاکستانی تھے۔پاکستانی قوم آپ کی تاحیات ممنون اور احسان مند رہے گی۔ جہاں ہمیں آپ کی ذاتِ گرامی پہ فخر ہے وہاں ہم بحیثیت پاکستانی قوم ہم اپنے آپکو بھی خوش قسمت اور اپنے اوپر بھی فخر ہے کہ ہمارا تعلق بھی اسی قوم اور ملک سے ہے جس سے آپکی نسبت ہے۔
بطور سربراہ ایٹمی پروگرام آپکی زندگی ہمیشہ خطروں میں گھِری رہی لیکن آپ نے کبھی بھی ان جان لیوا خطروں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا مشن اپنے ملک کیلئے جاری رکھا اوربالآخر پاکستان کو دنیا کی ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں شامل کیا اور پہلی اسلامی ایٹمی ریاست ہونے کا اعزاز دلا کر دشمنوں کےخوابوں کو خاک میں ملا دیا۔
پاکستان کے دشمن دن رات ہمارے ایٹمی اثاثاجات کو زائل کرنے کی ناکام کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن آپکی انتھک محنت سے اب ہمارے ملک کا دفاع مضبوط ہے اور وہ اپنے مظموم ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گےاور انشا اللہ ان کو ہر دفعہ منہ کی کھانی پڑے گی۔
سن2000کی دہائی کے اوائل سالوں میں ایک بزدل کمینے اور کم ظرف شخص نے اپنے آقائوں کو خوش کرنے اور چند ڈالروں کے عوض عالی مرتبت جناب ڈاکٹر صاحب کو ایک قومی مجرم بنا کر ٹی وی پر پیش کرکے ان سے معافی منگوائی اور اپنی کتاب جو ایک جھوٹ کا پلندہ تھی اس میں آپکو غلط قرار دیا ۔ اس کے علاوہ ایک جھولی چُک اور بیہودہ قسم کے انسان نے اپنے باس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے آپکے متعلق انتہائی غلط زبان استعمال کی اور بدقسمتی سے وہ شخص موجودہ سیٹ اپ کا بھی حصہ ہے اور وزارت اطلاعات کے قلمدان پر فائز ہے۔
مگر ان ناہنجار قوتوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ پاکستان ایک غیور قوم ہیں جس نے اپنے محسن کی قدر و منزلت میں اور بھی بے پناہ اضافہ کیا ۔ جلدیا بدیر لوگ اپنے گریبانوں میں جھانکیں گے اور شرمندہ ضرور ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔
زندہ قومیں اپنے محسنوں کو اپنے سر کا تاج بنا کر رکھتی ہیں۔ جیسا کہ ہمسایہ ملک نے اپنے جوہری پروگرام کے خالق کو ملک کے سب سے بڑے عہدہ صدارت پر فائز کیا اور ہمارے اس وقت کے ناعاقبت حکمرانوں نے انہیں دنیا کو مجرم بنا کر پیش کیا اور سلام ہے اس مردِ مجاہد پر جس نے کسی اور کا گناہ اپنے سر لے کر ایک مرتبہ پھر تاریخ میں اپنے آپکو امر کر دیا۔
آخر میں کہوں گا ڈاکٹر صاحب یہ قوم ہمیشہ آپکی مقروض رہے گی۔
’’حق تو یہ ہے حق ادا نہ ہوا‘‘
ڈاکٹر عبدالقدير خان إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ



