”خواتین برائے تسکین جاپان کے بنائے جنسی قید خانے جہاں لاکھوں لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زنا انجام دیا گیا“

زمانہ قدیم سے ہی زنا بالجبر یعنی ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے ، جس کا مقصد دشمن کی ملکیت یعنی عورتوں کی تذلیل کر کے اپنی فتح مندی کو ثابت کرنا ہوتا تھا ، ریپ کو زمانہ قدیم میں بطور جنگی ہتھیار کے کیسے استعمال کیا گیا اس کی ایک مثال ایران کے کاجگار خاندان کے بادشاہ فتح کاجگار کی ہے ، جس نے قفقاس کے علاقے پر حملہ کر کے اسے فتح کیا تو اس کے فوجیوں نے نہ صرف مفتوحہ عورتوں کا ریپ کیا بلکہ ان کی دائیں رانوں کی ایک رگ کاٹ کر انہیں زندگی بھر کے لئے مفلوج بھی کر دیا ، جب بھی یہ عوروتیں لنگڑا کر چلتیں تو دیکھنے والا سمجھ جاتا کہ یہ وہ عورتیں ہیں کہ جن کا ایرانی فوجیوں نے ریپ کیا تھا ، اوریہ کوئی ایک واقعہ نہیں ، تاریخ ایسی کہانیوں سے بھری پڑی ہے ، سکندر اعظم سے لیکر دور جدید کی جنگوں تک میں مردوں کی جنگوں کا خمیازہ عورتیں ہی بھگتی رہی ہیں ، لیکن دوستو تاریخ انسانیت میں عورتوں پرظلم و ستم اور وحشیانہ سلوک کی جو مثال دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے قائم کی وہ دنیا میں آج تک تنازعات کا سبب بنی ہوئی ہےآج جب جنگ عظیم کو گزرے 75 سال ہو چکے ہین ، جاپان کےلئے اس کے پڑوسی ممالک جنوبی کوریا چین اور فلپائن کی رنجشیں ختم نہیں ہو سکی ہیں ، ان ممالک کے لوگ آج بھی جاپان سے شدید نفرت کرتے ہیں ، اس کی وجہ جاپانیوں کی جانب سے ان ممالک کی عورتوں کے ساتھ برتا گیا وہ ناروا سلوک ہے جو جنگ عظیم دوم کے دوران روا رکھا گیا ، جب جاپان کی ایمپیریل آرمی نے چین جنوبی کوریا اور مشرقی بعید کے دیگر ممالک پر قبضہ کیا تو یہاں شرمناک اداروں کی بنیاد رکھی گئی ، ان اداروں کو کمفرت اسٹیشن کا نام دیا گیا تھا یہ کمفرٹ اسٹیشنز جاپان کے فتح کردہ علاقون میں جگہ جگہ اور شہر شہر پائے جاتے تھے ، ان کمفرٹ اٹیشنز مین کام کرنے والی عورتوں کو کمفرٹ وومن کا نام دیا جاتا تھا ، جس کا مقصدصرف جاپانی فوجیوں کی جنسی تسکین تھی ، ابتداء میں یہ کمفرٹ وومنز جاپان سے منگوائی گئی وہ بازاری عورتیں تھیں ، کہ جنہوں نے خود کو جاپانی فوجیوں کے لئے وقف کر دیا تھا ، اور یہ اپنا جسم ملک کی خدمت میں قربان کرنے کو تیار تھیں ، جاپان کا مقصد یہ تھا کہ جاپانی فوجیوں کو گھر سے دور رہتے ہوئے جنسی تسکین حاصل رہےاور وہ مقامی عورتوں اور لڑکیوں کا ریپ کرنے سے باز رہیں ، اسی لئے چین جنوبی کوریا اور دیگر ،فتوحہ علاقوں میں چاؤنیوں کے ساتھ کمفرٹ اسٹیشنز کھولے گئے ، جن میں فوجیوں کی تسکین کا سامان موجود تھا ، لیکن جاپانیوں کو اس الٹا نقصان ہوا اور اس حربے کا الٹا اثر ہوا کہ جو عورتیں جاپانی فوجیوں کی جنسی تسکین کے لئے رضاکارانہ طور پر بھیجی گئی تھیں وہ جاپانی فوجیون کو کم پڑنے لگی ، اور جاپانی فوجیوں نے مختلف علاقوں کو فتح کرنے کے بعد وہاں موجود کم عمر حسین لڑکیوں کو پکڑ لیا اور ان کو کمفرٹ زون کی زینت بنا دیا جاتا ، اور ان کے ساتھ جانورں سے بدتر سلوک روا رکھا جاتا ، مختلف بستیوں سے قید کر کے لائی گئی ان عورتوں کی تعددا اتنی بڑھ چکی تھی کہ جاپانی فوج ان کی خوراک پوری کرنے سے قاصر تھی ، اسی لئے انہیں بہت تھوڑی سی مقدار کھانے کی فراہم کی جاتی ، جو صرف زندہ رکنے کو کافی ہوتی اور دوسری طرف جاپانی فوجیوں کی حوس تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ،نہ صرف چائنا اور کوریا بلکہ فلپائن آسٹریلیاانڈیا ایشیا تک سے لڑکیاں اغوا کر کے ان کمفرٹ اسٹیشنز میں لائی جاتی تھیں ، ان میں سے کچھ لڑکیاں ایسی بھی تھین جن کا تعلق جاپان کے زیر تسلط علاقوں سے نہ تھا ، بلکہ انہیں مختلف ممالک سے کاروبار اور پیسے کا لالچ اور جھانسہ دے کر اکٹھا کیا گیا تھا اور انہیں پھر کمفرٹ اسٹیشنز میں رکھا گیا تھا،اس دور میں جاپانی فوج کے علاوہ کسی کو بھی ان کمفرٹ زون میں داخلے کی اجازت نہ تھی ، لہذا کوئی ان اذیتیوں سے باخبر نہ تھا کہ جو یہ لڑکیاں چار دیواری کے اندر برداشت کر رہی تھیں ، جنگ کے خاتمے اور جاپان کی شکست کے بعد جب ان معصوم عورتوں نے اپنی درد بھری داستانیں سنائیں تو اندازہ ہوا کہ جاپانیوں نے کس سفاکی کے ساتھ ان عورتوں کی زندگی کو تباہ کیا ،کمفرٹ وومنز میں ان عورتوں کی ایک تعداد جاپانیوں کے ان جنسی کمفرٹ میں گھٹ گھٹ کر دم توڑ گئی ، کمفرٹ ووومنز کی تعداد میں بھی ان ممالک میں اختلاف پایا جا تا ہے ، جاپان کا کہنا ہے کہ کل 50 ہزار وومنز سے فوجیوں نے استفادہ کیا ، جبکہ چین کے مطابق ان کی 3 لاکھ سے زائد عورتیں جاپان کے ان قحبہ خانوں کی نظر ہو گئیں ،جن میں سے ایک کثیر تعداد جنگ عظیم کے دوران ہی ان کمفرٹ اسٹیشنز میں دم توڑ گئی ، اسی طرح جنوبی کوریا اور فلپائن بھی اپنی لاکھوں عورتوں کی ہلاکت کا زمہدار جاپان کو سمجھتے ہیں ، آج جنگ عظیم دوم کو ایک عرصہ گزر چکا ہے لیکن مشرق بعید کے ان ممالک کے تعلقات اب تک بہتر نہیں ہو سکے ، کیونکہ کمفرٹ وومنز کا مسلہ ہر مرتبہ تعلقات کے بیچ میں آ جاتا ہے ، کچھ عرصہ پہلےجاپان نے جنوبی کوریا سے کمفرٹ وومنز کے مسلے کو حل کرنے کے لئے ،زندہ بچ جانے والی کمفرٹ وومنز کو ایک عدد جاپانی کرنسی دینے کا اعلان کیا ، لیکن اپنی عورتوں کی عزت اور زندگی کو پیسوں میں تولنے کی بجائے ، جنوبی کوریا نے سیول اور بوسان میں واقع جاپان کے سفارتخانے کے باہر کمفرٹ وومن کا مجسمہ نصب کیا ، جبکہ دوسری طرف ایک جاپانی شخص کو اس کی طرف جھکتے ہوئے دکھایا گیا ، دلچسپ بات یہ ہے کہ جس آدمی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے اس کی شکل ہو بہو جاپانی وزیر اعظم سے ملتی ہے، دوستوں یہ دو مجسمے ان دونوں ممالک کے بہتر ہوتے تعلقات پر بری طرح اثر انداز ہوئے ،اور جاپان نے ان مجسموں کے ہٹائے جانے تک اپنے سفیر واپس بلا لئے ، جبکہ دوسری طرف جاپان کے دوسری ہمسائے ملک فلپائن چین تائیوان سے کچھ اچھے تعلقات نہیں ، جس کی وجہ صرف اور صرف جنگ عظیم دوم کے وقت جاپانیوں کی سفاکیت اور ان مماالک کی لاکھوں لڑکیوں کی زندگی نگل جانا ہے ، آج دنیامیں چند ہی کمفرٹ وومن بچی ہیں ، لیکن ان ممالک میں آج بھی زندہ بچ جانے والی ان کمفرٹ وومنز کو لڑنے والے فوجیوں سے زیادہ عزت دی جاتی ہے ، کوریا کی بسون میں ایک سیٹ ان کمفرٹ وومنز کے نام سے مختص کی جاتی ہے ، جس پر کمفرٹ وومن کا ایک مجسمہ نصب ہوتا ہے ، تا کہ ان کی آنے والی نسلیں اپنے اجداد پر ہونے والے مظالم سے آشنا رہیں ، چین اور فلپائن میں بھی کمفرٹ وومنز کے مجسمے نصب کئے جاتے ہیں ، ان کے نام سے فاؤنڈیشنز اور عمارات بنائی جاتی ہیں ،۔معزز خواتین و حضرات ظالم اورمظلوم کی باہمی جنگ ہابیل اورقابیل کے وقت سے چلی آرہی ہے،دنیاکاعام مشاہدہ یہ ہے کہ اکثرلوگ مظلوم کی مددکی بجائے ظالم کاساتھ دیتے ہیں ،جس کی بناء پرانسانی معاشرے میں بگاڑ پیداہوتاہے،نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کاارشادگرامی ہے”جومجرم کوپناہ دیتاہے اس پراللہ کی لعنت ہے۔سوجس پرلعنت کی گئی ہوا س کے حالات کیسے درست ہوسکتے ہیں؟ظلم کے برے اثرات نہ صرف یہ کہ ظالم پراورانسانی معاشرے پرپڑتے ہیں بلکہ ظلم کے اثرات سے حیوانات اوراشجاربھی متاثرہوتے ہیں۔چنانچہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ایک شخص نے کہاکہ ”ظالم خوداپناہی نقصان کرتاہے،کسی دوسرے کاکچھ نہیں بگاڑتا”،اس پرحضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا”تم غلط کہتے ہو بلکہ ظلم کااثرہرچیزپڑتاہے حتی کہ درخت اورنباتات بھی ظلم کے اثرسے محفوظ نہیں رہتے،اورپرندے بھی انسانی معاشرے میں پھیلے ہوئے ظلم اورناانصافی کی وجہ سے اپنے گھونسلوں میں لاغرہوکرمرتے ہیں ،جب کوئی ناہنجارآدمی مرجاتاہے تودرخت کہتے ہیں الحمدللہ یہ موذی انسان اس دنیاسے چلاگیا”۔مشہورمؤرخ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھاہے کہ ”ظلم کی وجہ سے آبادیاں اورسلطنتیں خراب ہوتی ہیں،آبادیوں میں نقصان پہنچتاہے اوراس کاخمیازہ سلطنت کوبھگتناپڑتاہے،اوریہ نہ سمجھاجائے کہ ظلم فقط یہی ہے کہ کوئی مال یاملک اس کے مالک سے بلاسبب وعوض چھین لیاجائے،جیساکہ عام طورپرلوگوں نے ظلم کے یہی معنی سمجھ رکھے ہیں،حقیقت میں ظلم عام ہے ،کسی کی ملکیت کاچھین لینا،عمل میں غصب کرنا،بغیرحق کے کسی بات کاطالب ہونا،یاکسی پرایسے حق کاواجب کردیناجوشریعت نے واجب نہ کیاہو،یہ سب ظلم میں شامل ہے،پس بغیرحق مال پرٹیکس لگاناظلم ہے اورایساکرنے والے بیشک ظالم ہیں،اورمال ودولت کے لوٹنے والے بھی ظالم ہیں،اوران سب کاوبال سلطنت کی گردن پرپڑتاہے۔اسلام اپنے متبعین کونہ ظلم کرنے کی اجازت دیتاہے اورنہ ہی ظلم پرخاموش رہنے کی،اگرکسی پرناحق ظلم کیاجائے توقرآن کریم میں یہ حق دیاگیاہے کہ وہ اس پرآوازاٹھائے اوراحتجاج کرے ،اپنے جائزحقوق کامطالبہ اوردفاع کرے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسی بات کابرملااظہارکرناجس سے دوسرے کوتکلیف ہو اللہ کوپسندنہیں ہے،ہاں!مظلوم کواجازت ہے کہ وہ اپنے ظالم کے خلاف بددعاکرے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ظلم سے بچنے اور مظلوم کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین ۔



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر