کورونا ویکسی نیشن کا ایک اور حیران کن فائدہ سامنے آگیا

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد کو اگر بریک تھرو انفیکشن (ویکسنیشن کے بعد بیماری کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) کا سامنا ہوتا ہے تو ان میں لانگ کووڈ کا امکان 49 فیصد تک کم ہوتا ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کنگز کالج لندن کی اس تحقیق کے لیے ماہرین نے یوکے زوئی کووڈ سیمپٹم اسٹڈ ایپ کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 8 دسمبر 2020 سے 4 جولائی 2021 تک جمع کیا گیا۔یہ لاکھوں افراد کا ڈیٹا تھا جس میں سے 12 لاکھ 40 ہزار 9 افراد نے ویکسین کی ایک خوراک استعمال کی تھی جبکہ 9 لاکھ 71 ہزار 504 نے 2 خوراکیں استعمال کی تھیں۔محققین نے مختلف عناصر بشمول عمر، جسمانی یا ذہنی تنزلی اور دیگر کا موازنہ ویکسینیشن کے بعد ہونے والی بیماری سے کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر ویکسین کی 2 خوراکوں کے بعد بھی کوئی بدقسمتی سے کووڈ کا شکارہوجاتا ہے تو بھی اس میں طویل المعیاد علامات کا خطرہ ویکسینیشن نہ کرانے والے مریضوں کے مقابلے میں 49 فیصد کم ہوتا ہے۔اسی طرح ویکسینیشن کے بعد بیماری پر ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 73 فیصد تک کم ہوتا ہے اور بیماری کی شدید علامات کا خطرہ 31 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ان افراد میں عام علامات ویکسین استعمال نہ کرنے والے افراد سے ملتی جلتی ہے جن میں سونگھنے کی حس سے محرومی، کھانسی، بخار، سردرد اور تھکاوٹ قابل ذکر ہیں۔ان تمام علامات کی شدت معمولی ہوتی ہے اور ویکسینیشن والے افراد کی جانب سے ان کو رپورٹ کرنے کی شرح بھی کم ہوتی ہے اور بیماری کے پہلے ہفتے میں متعدد علامات کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔بریک تھرو انفیکشن کا سامنا کرنے والے افراد میں چھینکیں واحد علامت تھی جس کو زیادہ تر مریضوں نے رپورٹ کیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ غریب علاقوں کے رہنے واللے ہوتے ہیں ان میں ویکسین کی ایک خوراک کے بعد بیماری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جبکہ عمر بذات خود خطرہ بڑھانے والا عنصر نہیں، مگر پہلے سے کسی بیماری کے شکار افراد میں ویکسینیشن کے بعد کووڈ کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ لانگ کووڈ کے بوجھ کے حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ ویکسینیشن مکمل کرانے پر کووڈ سے متاثر ہونے اور بدقسمتی سے بیمار ہونے پر طویل المعیاد علامات کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔مگر کمزور اور بزرگ افراد میں یہ خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر ویکسین کی دوسری یا بوسٹر ڈوز دی جانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن سے لانگ کووڈ کا خطرہ 2 وجوہات کے باعث کم ہوتا ہے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی علامات کا خطرہ 8 سے 10 گنا کم ہوجاتا ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ بیماری کا سامنا ہونے پر علامات کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے اور شدت بھی معمولی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ویکسین کی دوسری خوراک کو جلد از جلد لگوالیں۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ انفیکشیز ڈیزیز میں شائع ہوئے۔



  تازہ ترین   
شہباز شریف کی صدر زرداری سے ملاقات، پارٹی سطح پر مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق
بھارت سے ساولکوٹ ڈیم پر تفصیلات طلب، پانی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: دفتر خارجہ
بانی پی ٹی آئی کی بینائی صرف 15 فیصد باقی ہے: بیرسٹر سلمان صفدر
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر