انقرہ (نیشنل ٹائمز)ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ شام سے اچھی خبریں موصول ہو رہی ہیں، تاہم اسرائیل وہاں بھی افراتفری پھیلانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خطے کو بحرانوں کے ایسے طوفان کا سامنا ہے جس کی شدت روز بروز بڑھ رہی ہے ۔روس اور یوکرین کی جنگ چند ماہ میں پانچویں سال میں داخل ہو جائے گی۔ معاہدوں پر دستخط ہونے کے باوجود فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جنگ جاری ہے ، ایران میں کشیدگی مکمل طور پر ختم ہونے سے پہلے ہی یمن میں ایک نیا تنازع شروع ہوگیا ہے ۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ کردیا ہے ۔ انہوں نے سعودی عرب کو ترکیہ کا دوست اور ہمدرد ملک قرار دیا۔ ترکیہ نے شام اور عراق میں اپنی فوج کی تعیناتی سرحدی سلامتی مکمل طور پر یقینی ہونے سے مشروط کر دی۔ وزیر دفاع یاشار گولر نے بتایا کہ دونوں ممالک میں ترک فوجی موجودگی برقرار ہے ۔ ان کے مطابق علاقائی سلامتی، سرحدی تحفظ اور دہشت گردی کے خطرات ختم ہونے پر فوجی اڈوں اور تعیناتی کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
اسرائیل شام میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہا :ترک صدر



