کراچی(نیشنل ٹائمز) پی اے سی میں ڈاؤ یونیورسٹی کے 27 ملازمین کی تعلیمی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، جبکہ 5 ہزار 350 ملازمین میں سے 3 ہزار 400 کی ڈگریوں کی ایچ ای سی سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ پی اے سی نے جعلی ڈگری رکھنے والے 27 ملازمین سے تمام تنخواہیں واپس لینے اور سرکاری جامعات کے ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کی رپورٹ طلب کرلی۔منگل کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی زیرصدارت ہوا۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس زین العابدین شاہ نے بتایا کہ ڈگریوں کی تصدیق کیلئے ایچ آر ایس جی کمپنی سے 73 لاکھ 60 ہزار روپے میں معاہدہ کیا گیا، اب تک 1945 ملازمین کی ڈگریاں تصدیق ہوچکی ہیں جن میں 27 جعلی ثابت ہوئیں۔
جعلی ڈگری رکھنے والے تمام ملازمین کو برطرف کردیا گیا جبکہ 3400 ڈگریوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے ۔وی سی ڈاؤ یونیورسٹی نازلی حسین نے بتایا کہ 70 فیصد سے زائد اکیڈمک ڈاکٹروں کی ڈگریوں کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ نثار کھوڑو نے جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونے والے ملازمین سے تنخواہوں کی وصولی اور تمام سرکاری جامعات کے ملازمین و اکیڈمک اسٹاف کی ڈگریوں کی تصدیق کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کا سالانہ بجٹ 26 ارب جبکہ مختلف ذرائع سے ریونیو 25 ارب روپے ہے ۔ پی اے سی نے سندھ بھر کے سول ہسپتالوں کا میڈیکل یونیورسٹیوں سے الگ آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی کردی۔



