اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 36 کھرب روپے سے تجاوزکر گیا، حکومت نے گیس شعبے میں ڈی ریگولیشن کے منصوبے پر ورکنگ شروع کر دی، گیس تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی جائے گی، دو ہفتوں میں وزیراعظم کو پلان پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف شرائط کیمطابق گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کی جائے گی، عالمی مالیاتی ادارے کیساتھ بات چیت کی جا چکی ہے ، گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین کو منتقل کرنے اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے ، کراس سبسڈی، گیس چوری و نقصانات اور پرانے واجبات کے حل کو اصلاحات کے لیے اہم قرار دے دیا گیا، حکومت کے زیر غور مجوزہ اصلاحاتی منصوبے کے تحت گیس مارکیٹ کو مرحلہ وار مسابقتی بنانے ، گیس کمپنیوں کی مالی حالت بہتر کرنے ، قیمتوں کے تعین کے نظام میں پائیداری لانے اور صارفین پر مالی دباؤ کو متوازن رکھنے کے اقدامات کیے جائیں گے ۔ درآمدی گیس پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث گیس کی لاگت میں اضافے کا بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں گیس سیکٹر کی تنظیم نو، ڈی ریگولیشن اور مالی مسائل کے حل کے لیے مجوزہ روڈ میپ کا جائزہ لیا گیا۔ یہ اصلاحاتی فریم ورک آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے چوتھے جائزے کے موقع پر طے پانے والے اقدامات سے متعلق ہے ۔مجوزہ اصلاحات کے تحت گیس مارکیٹ کو مرحلہ وار مسابقتی بنانے ، کمپنیوں کی مالی حالت بہتر کرنے ، قیمتوں کے تعین کا پائیدار نظام متعارف کرانے اور نجی سرمایہ کاری بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ درآمدی مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی بڑھتی لاگت اور قیمتوں کے تعین میں تاخیر کے باعث گیس کمپنیوں کے مالی خسارے اور گردشی قرض میں اضافے کا خدشہ بھی زیر بحث آیا۔حکومت گیس کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ بروقت صارفین تک منتقل کرنے کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے ، تاہم قیمتوں کے تعین میں صارفین کی قوت خرید، صنعتی پیداوار اور کاروباری لاگت کو بھی مدنظر رکھنے پر زور دیا گیا ہے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق اصلاحات کا مقصد گیس کمپنیوں کی مالی پائیداری، آپریشنل کارکردگی، صارفین کے مفادات اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے درمیان توازن قائم کرنا ہے ۔
اجلاس میں گیس سیکٹر کے گردشی قرض، کراس سبسڈی، گیس کے نقصانات، طلب و رسد میں عدم توازن اور پرانے واجبات کے مستقل حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام نے اس امر پر زور دیا کہ نئی گیس مارکیٹ کے قیام کے بعد بھی سابقہ مالی مسائل اس کی کارکردگی متاثر نہ کریں۔مجوزہ منصوبے میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے ، کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست گیس کی خرید و فروخت کے مواقع پیدا کرنے اور مسابقتی ماحول کو فروغ دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ اس کے تحت گیس کی فراہمی اور تجارت کے طریقہ کار کو زیادہ مؤثر اور لچکدار بنانے کے ساتھ ریگولیٹری نگرانی اور سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔وزارت خزانہ کے مطابق اصلاحات سے نجی سرمایہ کاری بڑھانے ، کاروباری اداروں کو مسابقتی نرخوں پر گیس فراہم کرنے اور سرکاری مالیاتی خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
برآمدی شعبے کے لیے نسبتاً مسابقتی نرخوں پر گیس کی دستیابی اور نقصانات میں کمی کے لیے کارکردگی کے واضح معیار متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔اصلاحاتی فریم ورک کی تیاری میں ترکیہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے تجربات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے ، تاہم ان سے حاصل ہونے والے اسباق کو پاکستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے ، مقامی مارکیٹ، گیس کی طلب و رسد اور صارفین کے مفادات کے مطابق اپنانے پر زور دیا گیا ہے ۔وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق اصلاحاتی منصوبہ وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا جس کے بعد متعلقہ اداروں اور فریقین سے مشاورت کے ذریعے اسے حتمی شکل دی جائے گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور قابل عمل اصلاحاتی ڈھانچہ تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی، وزارت پٹرولیم ،وزارت خزانہ کے سینئر حکام، گیس کمپنیوں کے نمائندوں اور عالمی بینک کی ٹیم نے شرکت کی۔



