بیجنگ (شِنہوا) چین کے قومی ادارہ شماریات نے جمعہ کے روز بتایا کہ 2025 میں ملک کے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.2 فیصد بڑھ کر 39.3 کھرب یوآن (تقریباً 584.5 ارب امریکی ڈالر) ہو گئے۔
قومی ادارہ شماریات کے ماہر شماریات لو چھیوشی کے مطابق 14ویں 5 سالہ منصوبے (2021 تا2025)کے دوران چین کے تحقیق و ترقی کے اخراجات میں سالانہ اوسطاً 10 فیصد اضافہ ہوا اور اب چین تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔
تحقیق و ترقی پر اخراجات کا مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں تناسب ظاہر کرنے والا اشاریہ گزشتہ سال 0.11 فیصد پوائنٹس اضافے کے ساتھ 2.8 فیصد ہو گیا۔ یہ پہلی بار اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے 2.72 فیصد کے اوسط سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس لحاظ سے چین دنیا میں 12ویں نمبر پر رہا۔
تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں کی مختلف اقسام کے لحاظ سے بنیادی تحقیق، اطلاقی تحقیق اور تجرباتی ترقی پر اخراجات میں گزشتہ سال کی نسبت بالترتیب 13.3 فیصد، 3.2 فیصد اور 8.4 فیصد اضافہ ہوا۔ اس مدت میں اخراجات بالترتیب 283.46 ارب یوآن، 444.16 ارب یوآن اور 32 کھرب یوآن رہے۔
2025 میں بنیادی تحقیق کے لئے فنڈز میں اضافے کی شرح تحقیق و ترقی کے مجموعی اخراجات میں اضافے کی شرح سے 5.1 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی، جبکہ بنیادی تحقیق کے لئے فنڈنگ میں مسلسل دو ہندسوں کی شرح سے اضافہ برقرار رہا۔
اس وقت بنیادی تحقیق کے لئے مجموعی فنڈنگ کے لحاظ سے چین دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔
کاروباری اداروں کے تحقیق و ترقی کے اخراجات پہلی بار 30 کھرب یوآن سے تجاوز کر گئے اور مجموعی اخراجات کا 77.4 فیصد رہے۔
2025 کے دوران چین کے تحقیقی و ترقی کے اخراجات میں 8.2 فیصد اضافہ



