فوژو (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے فوجیان کے شہر ننگ دے میں بدھ سے جمعہ تک ورلڈ انرجی سٹوریج کانفرنس 2026 منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں شریک افراد جدید ترین ٹیکنالوجیز، توانائی ذخیرہ کرنے کی صنعت کے مستقبل اور توانائی ذخیرہ کرنے کی عالمی مارکیٹ میں چین کی حیثیت پر تبادلہ خیال کریں گے۔
2025 میں دنیا بھر میں بیٹریوں کے ذریعے توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں سالانہ اضافہ تقریباً 307 گیگاواٹ آور تک پہنچ گیا جس میں چین کا حصہ 56 فیصد رہا۔
بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (ایرینا) کے تحت قائم اتحاد برائے عملی اقدامات کی سربراہ ایلینا سٹیفانووا نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی وسیع پیمانے پر تنصیب توانائی ذخیرہ کرنے کی عالمی مارکیٹ کے لئے بنیادی اہمیت اختیار کر چکی ہے اور اس سے قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی معاشی افادیت میں تبدیلی آ رہی ہے۔
ایلینا سٹیفانووا نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، نظاموں کی تنصیب اور بجلی کی ترسیل کے قومی نظام میں انضمام کے حوالے سے چین کا تجربہ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی کے عمل میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
چین کی معروف بیٹری ساز کمپنی سی اے ٹی ایل کے بانی اور چیئرمین زینگ یوچھون نے کہا کہ جیسے جیسے قابل تجدید توانائی دنیا بھر میں توانائی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی جا رہی ہے، توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام ایک معاون سہولت سے ترقی کرکے بجلی کے نظام کے لئے بنیادی اور ناگزیر ڈھانچے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کو بجلی کے ترسیلی نیٹ ورک کی مختلف ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ قابل اعتماد کارکردگی اور استحکام میں مسلسل بہتری بھی لانا ہوگی۔ سی اے ٹی ایل کا صدر دفتر ننگ دے شہر میں واقع ہے۔
صنعتی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اقدامات کر رہا ہے۔
صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر شیونگ جی جون نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ چین کی توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید صنعت نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین میں ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں کی پیداوار 420 گیگاواٹ آور سے تجاوز کر گئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 110 فیصد زیادہ ہے۔ یہ صنعت مختلف تکنیکی طریقوں کے ذریعے ترقی کر رہی ہے، جن میں لیتھیم بیٹریاں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ سوڈیم آئن اور فلو بیٹریاں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔
چین میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی تنصیب سے قابل تجدید بجلی کی معاشی افادیت بڑھ رہی ہے، ایرینا عہدیدار



