توہین رسالت کی سزا صرف موت۔ ایک تاریخ ساز فیصلہ

1986 میں جب سیکشن 295 C کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کیا گیا، تو اس جرم جسے عرف عام میں blasphemy کہتے ہیں، کی سزا موت یا عمر قید تجویز کی گئی۔ لیکن ایمان کی حرارت والے اس سے متفق نظر نہ آئے۔ اہل ایمان کا یہ بر محل موقف تھا، کہ نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی بھی طرح کی توہین خواہ وہ زبانی ہو، تحریری ہو، اشاروں کنایوں میں، بالواسطہ یا بلا واسطہ ہو، یا اس سے توہین رسالت کا تاثر ہی ابھرتا ہو، یہ ناقابل معافی جرم ہے، اور اسکی قرآن و سنت کی روشنی میں صرف ایک ہی سزا ہے، اور وہ سزائے موت ہے۔ لہزا 1987 میں عقیدہ ختم نبوت کے ایک بڑے عظیم مجاہد محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے اپنی طرف سے ایک پیٹیشن محمد اسماعیل قریشی بنام پاکستان بزریعہ سیکرٹری لا اینڈ پارلیمانی افیئرز، وفاقی شرعی عدالت میں دائر کی۔ جسکی پانچ رکنی فل بنچ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس گل محمد خان کی سربراہی میں دیگر چار ججز جسٹس عبدالکریم خان کندی، جسٹس عبادت یار خان، جسٹس عبدالرزاق اے تیھم اورجسٹس فدا محمد خان،شامل تھے۔ اس تاریخ ساز فیصلہ کو لکھنے کی سعادت چیف جسٹس گل محمد خان صاحب کے حصہ میں آئی۔ چاروں صوبوں کے لا آفیسرز کو سماعت کیا گیا، مگر وفاقی شرعی عدالت نے پبلک نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل علماء اور سکالرز کو عدالتی معاونت کے لئے بھی طلب کیا۔ مولانا سعید الدین شیرکوٹی، مولانا عبدالشکور، مولانا فضل ہادی، مولانا عبدلافلاح، مولانا سبحان محمود، مفتی غلام سرور قادری، مولانا گوہر امان اور مولانا ریاض الحسن نوری شامل تھے۔ ان سب علمائے دین اور سکالرز کو اس نکتہ پر تفصیل سے سنا گیا۔ ان میں چھ علماء نے واضح اور دو ٹوک موقف لیا کہ توہین رسالت کی سزا صرف موت ہے۔ البتہ تین علماء کا موقف تھا کہ اگر توہین کرنے والا شرمندگی، ندامت محسوس کرتے ہوئے معافی کا خواستگار ہو، تو اسے معاف کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک عالم دین کا موقف تھا، کہ کم سزا سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس اہم پیٹیشن کی طویل سماعت مختلف شہروں میں کی۔ عدالتی معاونت کرنے والے اکثریتی علماء اور سکالرز نے قرآن و سنت کی روشنی میں بڑی مدلل اور پختہ رائے دی، کہ قرآن پاک میں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تو اونچا بولنے سے سارے اعمال ضائع ہونے کی وعید ہے، اور بےشمار جگہوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کی عزت و حرمت اور تقدس کو پامال کرنے والوں کے لئے سخت عزاب اور سزا کا بھی حکم ہے۔ نبی محتشم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی زندگی میں توہین رسالت کے مرتکب کی سزا موت ہی پر عمل ہوا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس منافق کا سر تن سے جدا کر دیا، جو ایک یہودی کے ساتھ اپنے تنازعہ کا فیصلہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے خلاف کرانے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس وہی قضیہ دوبارہ فیصلہ کرانے کے لئے حاضر ہوا۔ اسی طرح متعدد دیگر مواقع پر صحابہ کرام اور خود سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توہین رسالت کے مرتکب افراد کو جہنم واصل کیا۔ اس پیٹیشن کی سماعت کے دوران توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کی نیت پر بڑی سیر حاصل بحث ہوئی۔ اتفاقیہ، غلط فہمی سے، بھول چوک میں اور دانستہ اور شعوری طور پر اس جرم کے ارتکاب پر ہر زاویہ سے بحث کی گئی۔ توہین رسالت کے لئے ارتکاب جرم کرنے والے کی نیت بنیادی حثیت رکھتی ہے۔ پھر اس بات پر بھی سبھی علماء اور لا آفیسرز کا اتفاق تھا کہ توہین رسالت کے ملزم کو معاف کرنے کا اختیار صرف نبی آخرالزماں صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا۔ انکے بعد یہ اختیار نہ کسی نے استعمال کیا نہ ہی کوئی استعمال کرنے کا مجاز ہے۔ عدالت نے قاضی ایاز کی ایک روایت امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کی ہے، کہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک سے توہین رسالت کی سزا کے بارے پوچھا کہ عراق میں کچھ سکالرز نے اس پر کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے، تو امام مالک نے نے سخت ناراضگی اور غصہ کے عالم میں فرمایا کہ” اے امیرالمومنین امت کو یہ حق کس نے دیا ہے، کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی سزا میں کمی کرے۔ اور اس امت کو جینے کا کیا حق ہے، جبکہ اس کے نبی کی توہین کی جا رہی ہو۔ اور فرمایا کہ توہین رسالت کے مرتکب کو سزائے موت دو اور انکے ساتھیوں کی توہین کرنے والے کو کوڑے مارو۔ اس طرح اتنی جامعیت اور واشگاف انداز میں جب ساری حقیقت عدالت کے سامنے آشکار ہو گئی، تو پھر وفاقی شرعی عدالت نے اسکا تاریخی فیصلہ یوں صادر فرمایا کہ توہین رسالت کی سزا صرف موت ہے، اور متبادل سزائے عمر قید خلاف قرآن و سنت ہے، لہزا حکومت پاکستان کو یہ حکم صادر کیا گیا کہ قانون میں ضروری ترمیم مورخہ 30 اپریل 1991 تک کی جائے۔ اور متبادل سزا کو 295 C سے حزف کرتے ہوئے صرف سزائے موت کو برقرار رکھا جائے۔ اس فیصلہ کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ اس قانون کی اس شق بابت توہین رسالت کو دیگر انبیائے کرام کی توہین پر بھی منطبق کیا جائے گا۔ اور اللہ تعالٰی کے کسی بھی نبی اور پیغمبر کی توہین کی سزا صرف موت ہو گی۔ اس طرح عقیدہ ختم نبوت کے پیروکاروں اور پروانوں نے قانونی اور عدالتی محاذ پر ایک بڑی عظیم الشان فتح اور کامیابی سمیٹتے ہوئے نہ صرف نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلکہ ان سے پہلے آنے والے تمام انبیا و رسل کی عزت و ناموس پر پہرے داری کا احسن فریضہ خوب نبھایا۔



  تازہ ترین   
پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری و سلامتی کیلئے شانہ بشانہ کھڑا ہے: وزیراعظم
گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں: محسن نقوی
گورنر فیصل کریم کنڈی کا خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان
پنجاب اے آئی دور میں داخل جبکہ خیبرپختونخوا پتھر کے دور میں ہے: مریم نواز
پی ٹی آئی مثبت کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور ہو سکتا ہے: رانا ثناء اللہ
سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، حقِ دفاع کی توثیق
حرمین شریفین کے دفاع کے لئے ہم متحد ہیں: ترجمان سعودی فوجی اتحاد
حوثی میزائلوں کے پرزے 16 ممالک سے یمن پہنچنے کا انکشاف





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر