یروشلم (شِنہوا) ایتھوپیا کی ایئرلائنز کی ادیس ابابا سے تل ابیب جانے والی ایک مال بردار پرواز نے اڑان بھرنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد اسرائیلی سکیورٹی پابندیوں کے باعث اپنا رخ موڑ لیا اور روانگی کے ہوائی اڈے پر واپس پہنچ گئی۔ یہ پابندیاں عملے کے ارکان کی شہریت سے متعلق تھیں۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے فضائی سکیورٹی نظام نے نشاندہی کی کہ طیارے کے عملے کا ایک رکن انڈونیشیا کا شہری ہے، جس کے بعد پرواز کو واپس لوٹنا پڑا۔ انڈونیشیا کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
30 ستمبر کو تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز میں حملے کی کوشش کے بعد اسرائیل نے غیر ملکی ایئرلائنز کے لئے سکیورٹی تقاضوں میں نمایاں سختی کر دی تھی۔ اس حملے کی کوشش میں شریک پائلٹ عمان کا شہری تھا، جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے نئے اقدامات کے تحت ایئرلائنز کے لئے عملے کے ارکان کی سکیورٹی جانچ پڑتال کے نئے تقاضے پورے کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ایسے ممالک کے شہریوں کو اسرائیل جانے والی پروازوں کے عملے میں شامل نہیں کیا جا سکتا جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اس پابندی میں دوہری شہریت رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
ایتھوپین ایئرلائنز کی اسرائیل جانے والی مال بردار پرواز کو عملے کے انڈونیشی رکن کے باعث واپس بھیج دیا گیا



