تہران (شِنہوا) ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ کے خاتمے کے لئے پیش کردہ منصوبے پر امریکی موقف کا جواب آئندہ چند روز میں دے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران میں ایک نماز جنازہ کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور تہران اور واشنگٹن ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو 7 روزہ منصوبے پر امریکی موقف موصول ہو گیا ہے اور وہ اس وقت اس کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران نے 22 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو اپنا منصوبہ پیش کیا تھا جس میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی تھی۔
اس منصوبے کے تحت تہران نے تجویز دی تھی کہ اگر امریکہ اس کی شرائط قبول کر لے تو 7 روز کے اندر جنگ ختم کرکے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا جاری سفارتی عمل کے بنیادی مقاصد ہیں۔
تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ختم کرنے اور امریکی مطالبات پورے کرنے کے لئے ایران کو اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی۔
تسنیم کے مطابق جمعرات کو ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے اس بیان کے جواب میں کہا کہ یورینیم کی افزودگی جوہری صنعت کا ایک “لازمی” حصہ ہے اور امریکہ کی دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے باوجود تہران اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اسلامی نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ حفاظتی معاہدے اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے مطابق ہے۔
ایران کا امریکہ کو جنگ کے خاتمے کے لئے 7 روزہ مجوزہ منصوبے پر چند روز میں جواب دینے کا اعلان



