پیانگ یانگ (شِنہوا) عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) کی وزارت خارجہ نے جزیرہ نما کوریا کے غیر فوجی علاقے میں حالیہ بارودی سرنگ کے دھماکے کا الزام جنوبی کوریا کی جانب سے گھڑا گیا اور یکطرفہ طور پر طے شدہ ڈرامہ قرار دیا ہے۔
کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی ذمہ داری ڈی پی آر کے پر ڈالنے اور اس کے بین الاقوامی تشخص کو داغدار کرنے کی سیول کی کوشش ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈی پی آر کے کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ جنوبی کوریا کی فوج کی جانب سے تیار کی گئی ایک سازش تھی، جس کا مقصد ڈی پی آر کے کی جنوبی سرحد پر قلعہ بندی کو ’’فوجی حملے‘‘ کے طور پر پیش کرنا اور واقعے کی ذمہ داری ڈی پی آر کے پر ڈالنا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈی پی آر کے اپنی جنوبی سرحد کی سلامتی یقینی بنانے کے لئے مزید پرعزم اور جرات مندانہ انداز میں اقدامات کرے گا۔
21 ستمبر کو جنوبی کوریا کے 3 فوجی اہلکار حد بندی لائن کے قریب غیر فوجی علاقے میں ایک مشن انجام دیتے ہوئے بارودی سرنگ کے دھماکے میں زخمی ہوئے تھے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ایک پریس کانفرنس میں اپنی تحقیقات کے حتمی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکہ فوجی حد بندی لائن کے جنوب میں ڈی پی آر کے کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگوں کے باعث ہوا۔ جنوبی کوریا نے ڈی پی آر کے سے معافی مانگنے اور متعلقہ بارودی سرنگوں کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔
عوامی جمہوریہ کوریا نے بارودی سرنگ دھماکے کا جنوبی کوریا کا الزام ’’سنگین اشتعال انگیزی‘‘ قرار دے دیا



