لانژو (شِنہوا) چوتھی جماعت کے طالب علم زینگ ہان یانگ نے ریموٹ کنٹرول کو مضبوطی سے تھاما اور اپنے ڈرون کو گول کی جانب بڑھایا جبکہ ڈرون فٹ بال میچ کی تیاری کے دوران ہم جماعت طلبہ نے پرجوش انداز میں حوصلہ افزائی کی۔
چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے شہر بائی ین کے بائی ین ضلع کے نمبر ایک پرائمری سکول کے طالب علم زینگ گزشتہ سال سے ڈرون فٹ بال سیکھ رہے ہیں۔ یہ کھیل گانسو بھر میں کم عمر طلبہ میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور سکول مقامی اور اعلیٰ سطح کے مقابلوں کے لیے طلبہ کو تربیت دے رہے ہیں۔
زینگ نے کہا کہ ’’مجھے ڈرون فٹ بال کھیلنا پسند ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے استاد نے میچوں سے قبل انہیں ڈرون جوڑنے کا طریقہ بھی سکھایا۔
سکول کے سائنس ٹیچر ژانگ تنگ جیانگ نے کہا کہ ڈرون فٹ بال میں مسابقتی کھیل، پروگرامنگ کی مہارت اور عملی مشق یکجا ہوتی ہیں جس سے طلبہ میں ہاتھ اور آنکھ کے باہمی ربط، جگہ اور سمت کا ادراک اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں۔
ژانگ نے کہا کہ ’’زینگ جیسے طلبہ ہفتے میں کم از کم ایک بار گروپ سرگرمیوں کے دوران ڈرون فٹ بال کی مشق کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ بچوں کو ڈرون چلانے کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ انہیں طیارے کے بنیادی اصول اور ساخت بھی سمجھاتے ہیں۔
لانژو کے قریبی بائی ین روڈ پرائمری سکول میں بھی کئی برس سے ڈرون فٹ بال کے کورسز کرائے جا رہے ہیں۔ اس سکول کے طلبہ نے جنوری 2025 میں ورلڈ روبوٹ مقابلے کے فائنلز میں ڈرون فٹ بال کے مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
صوبے بھر میں ڈرون فٹ بال جیسے سائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی نوجوانوں کے کھیل بدستور مقبول ہیں۔ حکام کے مطابق جون میں لین شیا شہر میں منعقد ہونے والے یوتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سپورٹس اینڈ ایئرو سپیس ماڈل یو اے وی ایجوکیشن مقابلے میں 13 شہروں اور علاقوں کی 318 ٹیموں اور 5 ہزار سے زائد کھلاڑیوں اور کوچز نے حصہ لیا۔
گانسو کے محکمہ تعلیم کے مطابق ڈرون فٹ بال اور ہوابازی کی ماڈل سازی جیسے مقابلے صوبے کے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ مقابلوں اور شرکاء کی تعداد میں اضافے کے ساتھ گانسو میں نوجوانوں کے سائنس و ٹیکنالوجی کھیلوں کے سالانہ مقابلوں میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اب 2 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین میں نوجوان طلبہ میں ڈرون فٹ بال کی مقبولیت میں اضافہ



