بشکیک (شِنہوا) ابتدا میں چینی ٹی وی ڈراموں کی شوقین 19 سالہ زورا ذکیرووا اب چینی زبان کی طالبہ ہیں۔
حال ہی میں کرغزستان کی اوش اسٹیٹ یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں زیر تعلیم تیسرے سال کی طالبہ نے ادارے کی ایک تقریب میں جدید چینی گانا پیش کیا اور روایتی چینی تار والا ساز گوژینگ بجایا، جس پر حاضرین نے زوردار تالیاں بجا کر داد دی۔ یہ ان کی 2 سالہ چینی زبان سیکھنے کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
وہ چینی فینٹسی ٹی وی ڈرامے دیکھنا بہت پسند کرتی ہیں۔ ان کے بقول ’’میں خاص طور پر اداکاروں کے قدیم طرز کے ملبوسات سے بہت متاثر ہوتی ہوں۔‘‘ یہ چینی ثقافت کے ساتھ ان کی دلچسپی کا صرف ایک پہلو ہے۔
چینی ثقافت میں بزرگوں کے احترام اور خاندانی رشتوں کو اہمیت دینے کی روایت اس کرغز لڑکی کو خاص طور پر متاثر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہماری ثقافت میں بھی ایسے ہی تصورات پائے جاتے ہیں۔ مجھے یہ بہت اچھا لگتا ہے جب تہوار کے موقع پر میرا خاندان دسترخوان کے گرد جمع ہوتا ہے اور سب خوشی خوشی باتیں کرتے ہیں۔ اس پرمسرت ماحول میں مجھے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان سیکھنے کے تجربے نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ’’میں زیادہ پراعتماد ہو گئی ہوں، پہلے میں بہت شرمیلی تھی۔ یہاں میری ملاقات بہت سے اساتذہ سے ہوئی اور میرے بہت سے دوست بن گئے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اب میں چینی لوگوں سے ان کی اپنی زبان میں آزادانہ طور پر بات چیت کر سکتی ہوں۔‘‘
ذکیرووا نے کہا کہ وہ بھی اپنے والدین کی طرح ٹیچر بننا چاہتی ہیں۔ ’’میں امید کرتی ہوں کہ کرغزستان کے لوگوں کو چینی زبان سکھاؤں گی اور اس زبان کے ذریعے ان کی ذاتی ترقی میں مدد کروں گی۔‘‘
کرغزستان کے نوجوانوں میں چینی زبان سیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے



