لاس اینجلس(شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو پر ایران کے ممکنہ حملوں کے خیال سے متعلق بیانات پر کیلیفورنیا کے حکومتی رہنماؤں کی جانب سے شدید مذمت سامنے آئی ہے۔
لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق ریاست نیبراسکا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ’’زبردست کامیابی‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں۔
اخبار کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’’دنیا کو محفوظ رکھنے اور اپنے ملک کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ ایک معمولی قیمت ہے۔ وہ ایک شہر کو تباہ کر سکتے ہیں، انہیں لاس اینجلس کو تباہ کرنے دیں، انہیں سان ڈیاگو کو تباہ کرنے دیں۔ یہ بہت معمولی قیمت ہے۔‘‘
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ کو ’’بے قابو اور خطرناک‘‘ قرار دیا۔
نیوسوم نے کہا کہ ’’نیشنل گارڈ اور میرینز کو کیلیفورنیا پر قابض ہونے کے لئے بھیجنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے غیر ملکی دشمن لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ’تباہ کر دیں‘۔‘‘
لاس اینجلس کی میئر کیرن باس نے بھی ایکس پر ان بیانات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ کے صدر نے ایک غیر ملکی حکومت کو لاس اینجلس پر حملے کی تجویز دی ہے۔ ہمارے شہر کے خلاف ان کے بیانات خطرناک ہیں اور ممکنہ طور پر ہماری سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘‘
سان ڈیاگو کے میئر ٹوڈ گلوریا نے ایکس پر کہا کہ ’’سان ڈیاگو جنگ میں ہونے والے ضمنی نقصان کا حصہ نہیں ہے۔ ہم قربانی دینے کے لئے نہیں ہیں اور ہم کبھی بھی ’معمولی قیمت‘ نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے ٹرمپ پر زور دیا کہ ’’اپنی غیر ذمہ دارانہ جنگی گفتگو سے ہمارے شہر کو دور رکھیں۔‘‘
نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتیں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے مقابلہ کر رہی ہیں۔ امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اور ملک کی سب سے بڑی معیشت رکھنے والی کیلیفورنیا طویل عرصے سے ڈیموکریٹک جماعت کا مضبوط گڑھ رہی ہے۔
لاس اینجلس اور سان ڈیاگو پر ایران کے ممکنہ حملوں سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر کیلیفورنیا میں شدید ردعمل



