اقوام متحدہ عہدیدار نے پائیدار ترقی کے فروغ میں جی ڈی آئی کا کردار انتہائی اہم قرار دے دیا

اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) پیش کئے جانے کے پانچ سال بعد اس کی توجہ بتدریج ایسے عملی تعاون کی جانب بڑھ رہی ہے جو ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات سے ہم آنگ ہے۔
اقوام متحدہ کے جنوب-جنوب تعاون کے دفتر (یواین او ایس ایس سی) کی ڈائریکٹر دیما الخطیب نے شِنہوا کو تحریری انٹرویو میں کہا کہ پانچ سال گزرنے کے بعد گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو یہ ظاہر کر رہا ہے کہ مشترکہ عزم کو ترقی کے لئے عملی تعاون میں کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے لئے شراکت داری، علم اور وسائل متحرک کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی) کی چین سے متعلق ایک دستاویز کے مطابق گلوبل ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ پول کے تحت 2024 کے آخر تک 600 سے زائد منصوبے شروع کئے جا چکے تھے یا ان پر کام جاری تھا۔ جبکہ گلوبل ڈیویلپمنٹ کیپٹل پول کے تحت مارچ 2025 تک 14 ارب امریکی ڈالر کی مالی معاونت کا انتظام کیا جا چکا تھا۔
دیما الخطیب نے کہا کہ یہ طریقہ کار ظاہر کرتا ہے کہ جی ڈی آئی کے تحت تعاون ترقیاتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل کی فراہمی اور ان پر عملدرآمد میں کس طرح معاونت کر رہا ہے۔
الخطیب نے یواین او ایس ایس سی کے ساتھ چین کے دیرینہ تعاون کو اجاگر کیا جو دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوب-جنوب تعاون کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے معاشروں کے لئے موثر حل تیار کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کی ایک مثال گلوبل ساؤتھ ۔جنوبی ترقیاتی مرکز منصوبہ ہے، جس کا دوسرا مرحلہ چین-اقوام متحدہ عالمی جنوب-جنوب ترقیاتی سہولت کے تحت 2025 میں شروع ہوا۔
چین کے بین الاقوامی اقتصادی و تکنیکی تبادلے کے مرکز کے ساتھ مل کر اس منصوبے کا مقصد 60 سے زائد تکنیکی اداروں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔
مغربی افریقہ میں عالمی خوراک پروگرام، افریقی یونین اور دیگر شراکت داروں کی جانب سے چلائے جانے والے چاول کے ایک منصوبے میں ٹیکنالوجی اور تربیت کو یکجا کیا گیا ہے جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور دیہی آبادی کے روزگار کو سہارا دینا ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں تعاون کو بھی اجاگر کیا، جس میں ای کامرس کی تربیت بھی شامل ہے۔ اس تربیت سے 90 سے زائد ممالک کے افراد نے استفادہ کیا جبکہ اس کے بعد 22 ترقی پذیر ممالک کے پالیسی سازوں نے چین میں عملی مطالعاتی دورے کئے۔
2030 کی مقررہ مدت پوری ہونے میں اب صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں۔ الخطیب نے کہا کہ گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) قومی سطح پر طے کی گئی ترجیحات کو ٹیکنالوجی، تکنیکی مہارت، مالی وسائل اور استعداد کار میں اضافے سے جوڑ کر پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) پر عملدرآمد کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔



  تازہ ترین   
تہران اجلاس: پاکستان سمیت چار ممالک کا علاقائی امن کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
صدر، وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، شہداء کو خراج عقیدت پیش
مشکلات کے باوجود کشمیری اپنے عزم، حوصلے، ثابت قدمی پر قائم ہیں: اسحاق ڈار
مصر کا دفاعی معاونت کیلئے اہم فیصلہ، سعودیہ کو فوجی امداد کی منظوری دیدی
پاکستان کا سعودیہ کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم کا اعادہ
پیپلزپارٹی نے اتفاق رائے پیدا کیا، جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہئے: یوسف رضا گیلانی
سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر
افغان طالبان کے الزامات بے بنیاد، دہشت گردی کے خلاف دفاع پاکستان کا حق ہے: دفتر خارجہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر