تہران(نیشنل ٹائمز) ایران کے 30 سے زائد سابق حکومتی عہدیداروں نے کھلے خط کے ذریعے ایرانی حکومت سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی سے نکلنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق وزرا اور سابق نائب صدور بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ایران کیلئے این پی ٹی میں موجود رہنا اب ملکی مفاد میں نہیں رہا، سپریم قومی سلامتی کمیٹی، حکومت اور پارلیمان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے تحت تعاون روکنے اور اس سے با ضابطہ علیحدگی کے قانونی عمل کا آغاز کریں۔
خط لکھنے والوں میں محمد رضا میر تاج الدینی، محمد رضا رحیمی اور مسعود زریبافان شامل ہیں جو سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں نائب صدر رہ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ سابق وزیر اطلاعات حیدر مصلحی اور سابق صدر ابراہیم رئیسی کے دور کے نائب صدور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی، میثم لطیفی اور انسیہ خزعلی بھی خط کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ایران 1970ء میں این پی ٹی کا رکن بنا تھا، اس معاہدے کے تحت ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال نہ کرنے کی پابندی تسلیم کی تھی۔



