بیجنگ (شِنہوا) چین میں غیر ملکی سیاحوں کے لئے بیجنگ کی ایک دن کی سیر اب صرف ممنوعہ شہر یا عظیم دیوار تک محدود نہیں رہی۔
شہر کا سیاحتی نقشہ وسیع ہو رہا ہے۔ شہر کے مضافاتی اضلاع میں دیہی قیام کو خوبصورت مناظر سے بھرپور ٹرین کے سفر یا کسی بڑے سائنسی مرکز کے دورے کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے، جبکہ قدیم قصبے اور جدید صنعتیں بھی بین الاقوامی سیاحوں کے سفری پروگراموں کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
آسٹریلوی ٹور آپریٹر مینوئل کونڈولیون نے کہا کہ چین نہ صرف متاثر کن تاریخی مقامات پیش کرتا ہے بلکہ جدید سیاحتی مصنوعات اور سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گاہک اب زیادہ سے زیادہ اپنی پسند کے مطابق سیاحتی تجربات اور مقامی گھروں میں قیام کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق سیاحوں کو چین کی طرف متوجہ کرنے والی ایک بڑی وجہ یہاں کا محفوظ ماحول بھی ہے۔
سیاحت کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا یہی پہلو بیجنگ میں منعقدہ خدمات کی تجارت کے بین الاقوامی چینی میلے (سی آئی ایف ٹی آئی ایس) 2026 کے دوران ہونے والی عالمی کانفرنس برائے سیاحتی تعاون اور ترقی 2026 کا مرکزی موضوع تھا۔
کانفرنس میں آئی ایس او 11778 کے تحت سیاحتی شہروں کے برانڈز کی درجہ بندی کے لئے 121 تفصیلی معیارات جاری کئے گئے۔ ورلڈ ٹورازم سٹیز فیڈریشن (ڈبلیو ٹی سی ایف) کی قیادت میں تیار کیا گیا آئی ایس او 11778 دنیا کا پہلا بین الاقوامی معیار ہے جو خصوصی طور پر سیاحتی شہروں کے برانڈز کی جانچ کے لئے بنایا گیا ہے۔
نئے معیار میں آٹھ بنیادی اور 53 ثانوی اشاریوں کو بنیاد بنایا گیا ہے جن میں سیاحتی وسائل، بنیادی شہری سہولتوں، سہولیات تک رسائی، ماحولیاتی پائیداری، سلامتی، متعلقہ فریقوں کی رائے، سیاحوں کی تعداد اور مالی کارکردگی سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
چینی سیاحتی ادارے کے صدر دائی بن نے کہا کہ سیاحوں کی تعداد اور سیاحتی آمدنی جیسے مقداری اشاریے اب بھی اہم ہیں تاہم اس بات کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے کہ سیاح کسی مقام پر عملی طور پر کیا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔
سفر میں آسانی اور بہتر تجربات سے چین کی سیاحتی کشش میں اضافہ



