پاکستان میں آج کل ایک عجیب تماشا برپا ہے۔ عوام اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لئے پریشان ہیں اور حکمران ہر سوال کا جواب آئی ایم ایف کے دفتر سے منگوا کر لاتے ہیں۔ بجلی مہنگی ہو تو آئی ایم ایف ذمہ دار، پٹرول کی قیمت بڑھے تو آئی ایم ایف کا حکم، گیس کا نرخ آسمان کو چھوئے تو آئی ایم ایف کی مجبوری، ٹیکسوں کا بوجھ عام آدمی کی کمر توڑ دے تو آئی ایم ایف کی شرط، تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ریاست کے حوالے کرے تو آئی ایم ایف کی ضرورت اور چھوٹا تاجر کاروبار کے بجائے ٹیکسوں اور جرمانوں کے دفتر کے چکر کاٹے تو پھر بھی قصور آئی ایم ایف کا۔ گویا اس ملک میں حکومت نام کی کوئی شے موجود نہیں رہی اور اقتدار کی مسند پر بیٹھے ہوئے صاحبان اختیار محض ایک ایسے منشی کا کردار ادا کر رہے ہیں جس کے ہاتھ میں قلم تو ہے مگر فیصلہ لکھنے کا اختیار کسی اور کے پاس ہے۔ مان لیجئے کہ پاکستان نے قرض لیا ہے اور قرض کے ساتھ شرائط بھی آئی ہیں۔ مان لیجئے کہ معیشت کو نظم و ضبط کی ضرورت ہے اور یہ بھی مان لیجئے کہ توانائی کے شعبے میں برسوں کی بدانتظامی اور گردشی قرضے نے پورے نظام کو ایک عجب بھنور میں ڈال رکھا ہے۔ آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام میں واقعی یہ بات واضح ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخ لاگت سے ہم آہنگ کئے جائیں اور توانائی کے شعبے میں مالیاتی پائیداری پیدا کی جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے حکمرانوں کو یہ کب کہا ہے کہ اپنے اقتدار کے تمام مراعاتی دروازے کھلے رکھو اور عوام کے لئے ہر دروازہ بند کردو۔ آئی ایم ایف نے کب کہا ہے کہ اشرافیہ کے اخراجات پر ہاتھ نہ ڈالو۔ اس نے کب کہا ہے کہ سرکاری اداروں میں سیاسی تقرریاں کرو۔ اس نے کب کہا ہے کہ حکومتی نمائندے ایسے دورے کریں جن کا بوجھ بالآخر قومی خزانے یا عوامی وسائل پر پڑے۔ اس نے کب کہا ہے کہ طاقتور کے لئے رعایت اور کمزور کے لئے قانون کی پوری کتاب کھول دو۔ اصل سوال یہی ہے اور شاید اس سوال سے زیادہ خطرناک سوال اس وقت پاکستان میں کوئی دوسرا نہیں کہ حکومت کمزور ہے یا اس نے خود کو کمزور ظاہر کرنے میں عافیت تلاش کرلی ہے۔
عوام جب حکومت سے کہتے ہیں کہ حضور بجلی کا بل کچھ کم کردیجئے تو جواب آتا ہے آئی ایم ایف اجازت نہیں دیتا۔ پٹرول کچھ سستا کردیجئے تو جواب آتا ہے آئی ایم ایف کی شرط ہے۔ گیس نے گھر کا بجٹ چاٹ لیا ہے تو پھر وہی ورد کہ آئی ایم ایف اجازت نہیں دیتا۔ دوائی مہنگی ہے، آٹا مہنگا ہے، دال مہنگی ہے، بچوں کی فیس بڑھ گئی ہے، مکان کا کرایہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے، روزگار کے دروازے سکڑتے جا رہے ہیں اور کاروبار کرنے والا شخص کاروبار کرنے سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ اگلا نوٹس کس محکمے سے آئے گا۔ مگر اسی ملک میں اقتدار کی غلام گردشوں میں وسائل کی کمی کبھی اتنی شدت سے محسوس نہیں ہوتی۔ وہاں گاڑیوں کے قافلے بھی ہیں، دفاتر کی شان و شوکت بھی ہے، پروٹوکول بھی ہے اور بیرونی دوروں کی داستانیں بھی ہیں۔ یہاں ایک طرف عام آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی ایک معاشی فلسفہ بن چکی ہے اور دوسری طرف حکمران طبقہ عوام کو یہ سمجھانے میں مصروف ہے کہ صبر کرو کیونکہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ حضور والا! ملک تو واقعی مشکل دور سے گزر رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ مشکل دور صرف عوام کے لئے کیوں ہے۔ غریب کی جیب خالی ہے تو اسے کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے، تنخواہ دار کی آمدنی ختم ہو رہی ہے تو اسے ٹیکس کا وعظ سنایا جاتا ہے، دکاندار کی فروخت کم ہے تو اسے جرمانے کا نوٹس تھما دیا جاتا ہے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں کفایت شعاری کا تصور اتنا اجنبی کیوں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آئی ایم ایف کا نام ایک ڈھال بن جاتا ہے اور حکومت اس ڈھال کے پیچھے چھپ کر اپنے ہر فیصلے کو مقدس فرمان کا درجہ دے دیتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف خود اپنی دستاویزات میں اصلاحات کے ساتھ کمزور طبقات کے تحفظ اور ہدفی معاونت کی ضرورت تسلیم کرتا ہے۔
اور پھر آتے ہیں اس بجلی کے عذاب کی طرف جس نے پاکستانی گھرانے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ برسوں سے بجلی کے شعبے میں ایسے معاہدوں اور ایسے مالیاتی بندوبست کی داستانیں سنائی جاتی رہی ہیں جن میں پیداوار کے ساتھ صلاحیت کی ادائیگی اور دوسرے مقررہ اخراجات بھی شامل رہے ہیں۔ نیپرا کے اپنے ریکارڈ میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لئے صلاحیتی ادائیگیوں کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے اور بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے کے اعداد بھی اس بحران کی سنگینی کا پتہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر نظام میں اتنی خامیاں برسوں سے موجود تھیں تو ان کا حساب عوام سے ہی کیوں لیا جا رہا ہے۔ بجلی استعمال کرنے والا شہری پہلے یونٹ کی قیمت دیتا ہے پھر مختلف ایڈجسٹمنٹ ادا کرتا ہے پھر ٹیکس دیتا ہے پھر سرچارج برداشت کرتا ہے اور آخر میں اسے بتایا جاتا ہے کہ ملک کا بجلی کا نظام خسارے میں ہے۔ سبحان اللہ! خسارہ بھی عوام کا اور ادائیگی بھی عوام کی۔ کاروباری طبقہ توانائی کی قیمت سے پریشان ہے، صنعت اپنی پیداواری لاگت میں دب رہی ہے اور گھر کا سربراہ بجلی کا بل دیکھ کر یوں بیٹھ جاتا ہے جیسے عدالت نے عمر قید کا پروانہ تھما دیا ہو۔ اس کے باوجود حکمرانوں کی زبان پر وہی ایک فقرہ ہے کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اگر واقعی ہاتھ بندھے ہوئے ہیں تو پھر قوم کو بتایا جائے کہ یہ ہاتھ کس نے باندھے ہیں اور اگر ہاتھ حکومت کے اپنے ہیں تو پھر انہیں کھولنے کی کوشش کون کرے گا۔ ملک چلانے کے لئے صرف قرض خواہوں کی شرائط پڑھنا کافی نہیں ہوتا، کبھی اپنے فیصلوں کا احتساب بھی کرنا پڑتا ہے۔ نیپرا کے ریکارڈ میں بھی بجلی کے بحران کی بڑی وجوہات میں ترسیلی و تقسیمی نقصانات، کم وصولیاں اور سبسڈی کی ادائیگی میں تاخیر جیسے داخلی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تو پھر ہر مصیبت کا نام آئی ایم ایف رکھ دینا شاید سب سے آسان سیاسی ہنر ہے۔
اس سارے منظرنامے میں وہ معاشی ٹیم بھی یاد آتی ہے جس کے قصیدے پی ڈی ایم کے دور میں پڑھے گئے تھے۔ قوم کو بتایا گیا تھا کہ تجربہ کار لوگ آگئے ہیں، معیشت کے نبض شناس آگئے ہیں، خزانے کے ماہر آگئے ہیں اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیم میدان میں اتر چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی وہی تجربہ کار ٹیم ہے تو پھر تجربے کا نتیجہ کہاں ہے۔ بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے سائے، کاروبار کی بند ہوتی دکانیں، بجلی کے ناقابل برداشت نرخ، پٹرول کی قیمتیں، ٹیکسوں کا پھیلتا ہوا جال اور عام آدمی کے بجٹ کا روز بروز سکڑتا ہوا دامن کیا اسی تجربے کی سند ہیں۔ حکمرانوں سے جب عوام کے دکھ کا ذکر کیا جاتا ہے تو انہیں شاید یہ یاد دلانا پڑتا ہے کہ رعایا کوئی معاشی عدد نہیں ہوتی۔ یہ گوشت پوست کے انسان ہیں۔ ان کے بھی بچے ہیں، ان کی بھی بیماریاں ہیں، ان کی بھی خواہشیں ہیں، ان کے بھی خواب ہیں۔ اشرافیہ کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرسکتے ہیں، بیماری کی صورت میں بیرون ملک علاج کراسکتے ہیں اور زندگی کی سہولتیں خرید سکتے ہیں لیکن ایک عام پاکستانی اپنے بچے کے بخار کی دوا خریدنے سے پہلے جیب ٹٹولتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت دیکھ لیجئے، بنیادی سہولتوں کی کمی دیکھ لیجئے اور پھر ان لوگوں سے پوچھئے جو ہر روز عوام کو صبر کا درس دیتے ہیں کہ اگر صبر ہی ریاستی پالیسی ہے تو اس صبر کا امتحان ہمیشہ غریب ہی کیوں دے۔ حکومتیں صرف بجٹ بنانے کے لئے نہیں ہوتیں، حکومتیں انسانوں کو سہارا دینے کے لئے ہوتی ہیں۔ اگر ریاست اپنے شہری کو دو وقت کی روٹی، مناسب علاج، سستی توانائی اور باعزت روزگار دینے سے قاصر ہوجائے تو پھر محض اعداد و شمار کی خوبصورت عمارتیں قوم کے پیٹ نہیں بھرتیں۔
اور اس تمام معاشی ابتری کے بیچ ملک کی سلامتی کا سوال بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہماری افواج نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور آج بھی سرحدوں سے لے کر بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک ہمارے جوان جانیں دے رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں فوجی قیادت کی جانب سے جوانوں اور افسروں کا حوصلہ بلند رکھنا ایک اہم ذمہ داری ہے اور ان قربانیوں کی قدر کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کے ایوانوں کو بھی اس قربانی کا احساس ہے۔ ایک طرف سپاہی وطن کے لئے جان دے رہا ہے اور دوسری طرف اگر ریاستی نظم و نسق میں نااہلی، سیاسی نوازشات، غیر ضروری تقرریاں، بڑھتے ہوئے اخراجات اور عوامی وسائل کے غیر محتاط استعمال کا تاثر پیدا ہو تو یہ تضاد صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی حوصلے کے لئے بھی نقصان دہ بن جاتا ہے۔ بلوچستان کی بے چینی ہو یا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، امن صرف بندوق سے قائم نہیں ہوتا، امن کے لئے انصاف، روزگار، مضبوط ریاستی ادارے اور عوام کا اعتماد بھی درکار ہوتا ہے۔ ملک کے محافظ اپنے خون سے سرحدوں کی حفاظت کریں اور اقتدار کے محافظ عوام کے صبر کا امتحان لیتے رہیں تو یہ منظر کسی بھی حساس دل کے لئے باعث تشویش ہونا چاہئے۔ حکومت کو اب یہ طے کرنا ہوگا کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے۔ اگر آئی ایم ایف کے پاس ہر فیصلے کی چابی ہے تو پھر حکومت قوم کے سامنے اپنی ذمہ داری کا تعین کرے اور اگر حکومت کے پاس اختیار موجود ہے تو پھر ہر درد کا ملبہ آئی ایم ایف کے سر ڈالنے کا سلسلہ بند کرے۔ قرض خواں اپنی رقم واپس مانگتا ہے، ریاست اپنے شہری سے وفاداری مانگتی ہے اور عوام اپنی ریاست سے صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں زندہ رہنے کے قابل حالات میسر ہوں۔ یہ کوئی شاہانہ مطالبہ نہیں، یہ ریاست اور شہری کے درمیان بنیادی معاہدہ ہے۔ حکمران اگر واقعی عوام کے نمائندے ہیں تو انہیں اب اپنے سینے پر پتھر رکھنے کا دعویٰ نہیں بلکہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیں۔ کیونکہ جب ایک قوم سے مسلسل قربانیاں مانگی جائیں اور اقتدار کے ایوان مسلسل آسائشیں سمیٹتے رہیں تو پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ حکومت طاقتور ہے یا آئی ایم ایف بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ آخر اس ملک میں طاقتور ہے کون اور مظلوم ہمیشہ عوام ہی کیوں۔
پاکستان کے اصل حکمران کون؟



