نئی دہلی(شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے با ہمی ملا قات میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس اہم اتفاق رائے پر پہنچے کہ چین اور بھارت کو شراکت دار ہونا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔
شی نے کہا کہ چین ہمیشہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو تزویراتی بلندی اور طویل المدتی نقط نظر سے دیکھتا اور فروغ دیتا آیا ہے۔
شی نے کہا کہ گزشتہ 2برس کے دوران ان کی مودی سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی، جس کے نتیجے میں دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی شروعات سے مزید بہتری کی جانب رہنمائی ملی۔
شی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تبادلے بتدریج بحال ہوئے ہیں، تعاون کے شعبوں کی فہرست مسلسل وسیع ہوئی ہے اور دوطرفہ تجارت نئی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔
شی نے کہا کہ بڑی محنت سے حاصل ہونے والی اس پیش رفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چین اور بھارت کے قومی حالات مختلف ہیں، تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کی طاقت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ایک دوسرے کی حمایت کر سکتے ہیں، ایک دوسرے کی کامیابی میں مدد دے سکتے ہیں اور مشترکہ ترقی کے حصول کی کوشش کر سکتے ہیں۔
شی نے کہا کہ ہنگامہ خیز بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں چین اور بھارت، دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم ارکان کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔
شی نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ انسانیت کے مستقبل اور عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے برکس تعاون کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں اور عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے مزید مثبت توانائی فراہم کریں۔
چین-بھارت تعلقات کو درست سمت دینے کے لیے منطقی اور حقیقت پسندانہ تزویراتی سوچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شی نے کہا کہ چین اور بھارت تعاون کے شراکت دار ہیں، حریف نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔
شی نے کہا کہ یہ تزویراتی فیصلہ دونوں ممالک کی ترقی کے مراحل اور بین الاقوامی ماحول کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مشترکہ مفادات کے مطابق ہے۔
شی نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے ذریعے ایک دوسرے کی کامیابی میں مدد کریں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ترقی کو اپنا سب سے بڑا مشترکہ نقطہ اتفاق بناتے ہوئے دوستانہ تبادلوں اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔
انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ عوامی سطح پر تبادلوں، براہ راست پروازوں اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں تاکہ دوطرفہ تعلقات کے لیے عوامی حمایت کو مئوثر طور پر مضبوط کیا جا سکے۔
شی نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے اقتصادی اور تجارتی خدشات میں توازن پیدا کرتے ہوئے انہیں مناسب طریقے سے حل کرنا چاہیے اور دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کی مثبت اور مستحکم ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔
شی نے چین اور بھارت پر زور دیا کہ وہ باہمی احترام اور افہام و تفہیم کی سیاسی دانش سے کام لیتے ہوئے رکاوٹوں پر قابو پائیں۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات اور سرحدی امور میں متوازی پیش رفت جاری رکھیں اور دونوں راستوں کو ایک دوسرے کو تقویت دینے دیں، تاکہ سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے چین اور بھارت پر یہ بھی زور دیا کہ وہ کھلے پن اور شمولیت کے ساتھ کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دیں تاکہ دنیا کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
شی نے کہا کہ دونوں ممالک کو برکس کی باری باری صدارت سنبھالتے ہوئے ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے، اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور گروپ آف 20 جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کے اندر رابطہ مضبوط بنانا چاہیے، عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں متحد ہو کر کام کرنا چاہیے اور بین الاقوامی انصاف و عدل کی واضح طور پر پاسداری کرنی چاہیے۔
مودی نے کہا کہ انہوں نے شی کے ساتھ کئی نتیجہ خیز ملاقاتیں کی ہیں، جن سے بھارت-چین تعلقات کو مثبت سمت میں آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے، جو دونوں ممالک کے 2.8 ارب سے زیادہ عوام کے مشترکہ مفادات کے لیے بہترین ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین کی دو عظیم تہذیبوں نے ہزاروں برس کے دوران باہمی تبادلوں کے ذریعے ایک دوسرے سے سیکھا اور ہاتھ سے ہاتھ ملا کر ترقی کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ بھارت-چین تعلقات کو تزویراتی بلندی اور طویل المدتی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور چین کے ساتھ حریف کے بجائے شراکت دار بننے اور ایک دوسرے کی ترقی کو چیلنج کے بجائے موقع سمجھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت آزاد خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات کی ترقی کسی تیسرے فریق کے اثر و رسوخ کے تابع نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تائیوان اور شی زانگ سے متعلق امور پر بھارت کی پالیسی اور مئوقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور بھارت کسی بھی قوت کو اپنی سرزمین پر چین مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کا تفصیلی تبادلہ خیال، چین اور بھارت کو شراکت دار بنانے پر اتفاق



