یہ انصاف نہیں، طاقتوروں کے لیے رعایت نامہ ہے۔ جب غریب کا ہیلمٹ جرم بن جائے اور طاقتور کی گاڑی سے بہنے والا خون بھی صلح نامے میں دھل جائے۔پاکستان میں انصاف کا ترازو شاید اب بھی عدالتوں میں موجود ہے، مگر اس ترازو کے دونوں پلڑوں کا وزن ایک جیسا نہیں رہا۔ ایک پلڑے میں غریب کھڑا ہے، جس کے پاس نہ دولت ہے، نہ اختیار ہے، نہ سفارش ہے، نہ سیاسی پشت پناہی ہے، اور دوسرے پلڑے میں وہ لوگ کھڑے ہیں جن کے پاس دولت بھی ہے، تعلقات بھی ہیں، اقتدار کے دروازوں تک رسائی بھی ہے اور ایسا سماجی اثر و رسوخ بھی ہے جس کے سامنے قانون کی رفتار اچانک دھیمی پڑ جاتی ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے پاکستان کے عام شہری کے دل میں ریاست کے بارے میں سب سے خطرناک سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا یہاں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا قانون صرف اس وقت پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آتا ہے جب سامنے کوئی کمزور آدمی ہو؟ کیونکہ ایک غریب موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ نہ پہنے تو قانون کی پوری طاقت اس کے سر پر آ جاتی ہے، اشارہ توڑ دے تو جرم بن جاتا ہے، کاغذات مکمل نہ ہوں تو گاڑی بند ہو جاتی ہے، معمولی خلاف ورزی پر پولیس اہلکار اسے سڑک کنارے روک کر ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے وہ ریاست کا سب سے بڑا مجرم ہو، لیکن اگر کسی بااثر شخص کی تیز رفتار گاڑی کسی انسان کی زندگی چھین لے تو اچانک قانون کے معنی بدلنے لگتے ہیں، دفعات کی تشریح بدل جاتی ہے، مقدمے کی سمت بدل جاتی ہے، صلح کے دروازے کھل جاتے ہیں اور پھر وہ سوال سامنے آتا ہے جس کا جواب اس ملک کی حکومتوں کو بھی دینا ہے، پولیس کو بھی دینا ہے، پراسیکیوشن کو بھی دینا ہے اور عدلیہ کو بھی دینا ہے کہ آخر ایک غریب شہری کی جان اور ایک امیر شہری کی جان کی قیمت الگ الگ کیوں محسوس ہونے لگی ہے؟کارساز کا سانحہ اسی تلخ حقیقت کا ایک ایسا باب ہے جسے پاکستان کبھی بھلا نہیں سکتا۔ 19 اگست 2024 کو کراچی کے کارساز روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں عمران عارف اور ان کی نوجوان بیٹی آمنہ جاں بحق ہوگئے اور کئی دوسرے افراد زخمی ہوئے۔ اس حادثے کی ویڈیوز نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا کیونکہ کیمروں میں وہ سب کچھ محفوظ تھا جو سڑک پر ہوا تھا۔ ایک گاڑی کی رفتار، دوسرے لوگوں کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے ٹکر اور پھر ایک باپ اور بیٹی کی زندگی کا اچانک اختتام۔ یہ محض ایک ٹریفک حادثہ نہیں تھا، یہ دو خاندانوں کی دنیا اجڑنے کا واقعہ تھا۔ ایک ماں سے اس کا بیٹا چھین لیا گیا، ایک خاندان سے بیٹی چھین لی گئی، ایک گھر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور پھر اس واقعے کے بعد پاکستان نے ایک مرتبہ پھر وہ منظر دیکھا جو اس ملک کے عوام کے لیے نیا نہیں ہے۔ مقتول خاندان کی جانب سے صلح سامنے آئی اور عدالت نے قانونی تقاضوں کے مطابق اس صلح کو قبول کرتے ہوئے مقدمے میں ملزمہ کو بری کردیا۔ بعد ازاں منشیات کے مقدمے میں بھی عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر بریت کا فیصلہ دیا۔ یہاں قانونی سوال اپنی جگہ موجود ہے اور عدالت کے فیصلے کا احترام اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن عوام کے دل میں پیدا ہونے والا سوال اس سے کہیں بڑا ہے کہ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر ہر بار طاقتور اور کمزور کے درمیان صلح کا نتیجہ اتنا مختلف کیوں دکھائی دیتا ہے؟ کیا ریاست نے کبھی یہ سنجیدگی سے سوچا کہ ایک مقتول خاندان جب ایک طاقتور خاندان کے سامنے صلح کرتا ہے تو اس صلح کے پیچھے معاشی دباؤ، سماجی دباؤ، خوف یا مستقبل کی مجبوریوں کا کتنا حصہ ہوسکتا ہے؟ اور اگر ایک انسان کی جان چلی جائے تو کیا ریاست کی ذمہ داری صرف اتنی رہ جاتی ہے کہ وہ فریقین کے درمیان صلح دیکھ کر اپنا ہاتھ کھینچ لے؟اسلام نے انصاف کو کسی طبقے کی جاگیر نہیں بنایا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ
یعنی بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے اور قرآن ہی میں حکم ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ یہ اسلام کا تصور عدل ہے جس میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ ترازو نہیں ہے، جس میں حاکم اور محکوم کے لیے الگ قانون نہیں ہے، جس میں دولت مند اور غریب کے لیے الگ انصاف نہیں ہے۔ اسلام میں قانون کی اصل طاقت اس کی غیر جانب داری ہے اور ریاست کی اصل طاقت اس کا عدل ہے، لیکن پاکستان میں مسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ ہم نے قانون کو کتابوں میں تو برابر رکھا ہے، مگر اس کے عملی استعمال میں طبقاتی فرق پیدا کردیا ہے۔ غریب کی غلطی کو جرم کہا جاتا ہے اور طاقتور کی سنگین غلطی کو حادثہ کہا جاتا ہے۔ غریب کے لیے قانون کی سختی ہے اور طاقتور کے لیے قانون کی پیچیدگیاں ہیں۔ غریب کے لیے گرفتاری ہے اور طاقتور کے لیے ضمانت ہے۔ غریب کے لیے مقدمہ ہے اور طاقتور کے لیے صلح ہے۔ غریب کے لیے پولیس کی سختی ہے اور طاقتور کے لیے پروٹوکول ہے۔ اگر یہی ہمارا نظام ہے تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم اسلامی جمہوری ریاست ہونے کا دعویٰ کس بنیاد پر کرتے ہیں؟پاکستان میں قانون کی سب سے بڑی کمزوری شاید قانون کی کتاب میں نہیں بلکہ قانون کے اطلاق میں ہے۔ یہاں ایک عام آدمی اگر سڑک پر پولیس اہلکار سے بحث کرے تو اسے بدتمیزی کہا جاتا ہے۔ اگر غریب پولیس کے سامنے اپنی عزت اور حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے قانون شکن سمجھا جاتا ہے، مگر جب کوئی بااثر شخص ریاستی اداروں کو متاثر کرنے کی پوزیشن میں ہو تو پورا نظام اس کے ساتھ مختلف زبان میں بات کرتا محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو معاشرے میں قانون سے محبت ختم کرتا ہے اور لوگوں کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ قانون انصاف کے لیے نہیں بلکہ طاقت کے تابع ہے، اور جب عوام کا قانون پر اعتماد ختم ہوجائے تو ریاست کے پاس صرف وردی رہ جاتی ہے، صرف عدالتیں رہ جاتی ہیں، صرف دفعات رہ جاتی ہیں، مگر قانون کی روح ختم ہوجاتی ہے۔اسلام آباد کا واقعہ بھی اسی بحث کو ایک بار پھر سامنے لے آیا جب ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان کے زیر استعمال گاڑی سے دو نوجوان خواتین کی جان چلی گئی۔ اس معاملے میں مقدمہ درج ہوا، گرفتاری ہوئی، جسمانی ریمانڈ ہوا اور بعد میں متاثرہ خاندانوں کی جانب سے معافی اور صلح کے بعد ضمانت اور رہائی کا راستہ نکلا۔ اس واقعے کے بعد گاڑی کی قانونی حیثیت اور اثر و رسوخ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے اور معاملہ اعلیٰ سطح تک پہنچا۔ بعد ازاں جسٹس محمد آصف کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر شکایت بھی خارج کردی گئی، لیکن یہاں بھی بنیادی سوال ختم نہیں ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا کہ اگر ریاست کے طاقتور طبقے سے متعلق کسی معاملے میں قانونی عمل مکمل بھی ہوجائے تو کیا ریاست کو اس پورے عمل کے اخلاقی اور سماجی اثرات پر بھی غور نہیں کرنا چاہیے؟ کیا انصاف صرف عدالت کے فیصلے کا نام ہے یا انصاف اس احساس کا نام بھی ہے جو مقتول کے خاندان اور معاشرے کے عام شہری کے دل میں پیدا ہوتا ہے؟عدالتوں کے بارے میں تنقید کرنا آسان ہے، مگر عدلیہ پر تنقید کا مطلب عدلیہ کی توہین نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک جمہوری معاشرے میں عدلیہ سے سوال کرنا عوام کا حق بھی ہے اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی ہے۔ عدالتوں کا کام عوامی جذبات کے مطابق فیصلے کرنا نہیں بلکہ قانون اور شواہد کے مطابق فیصلے کرنا ہے، لیکن اس کے ساتھ عدالتوں کے سامنے ایک اور بڑی ذمہ داری بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ عام آدمی کو یہ یقین دلایا جائے کہ قانون کے دروازے پر اس کی حیثیت اس کے بینک بیلنس سے نہیں بلکہ اس کے انسان ہونے سے طے ہوتی ہے۔ اگر کسی عدالت کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہو مگر معاشرے کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کرے کہ انصاف صرف بااثر لوگوں کی دسترس میں ہے تو اس احساس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ عدلیہ کی طاقت صرف آئینی اختیار سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے بھی پیدا ہوتی ہے۔پولیس اور پراسیکیوشن کا کردار بھی اس پورے نظام میں بنیادی ہے۔ کمزور ایف آئی آر، کمزور تفتیش، ناقص شواہد، ناقص فرانزک کام اور مقدمے کی کمزور پیروی کسی بھی بڑے کیس کو اس مقام تک لے جاسکتی ہے جہاں عدالت کے سامنے سزا دینے کے لیے مطلوبہ قانونی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ اس لیے ہر بریت کے بعد صرف جج کو مورد الزام ٹھہرانا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ مقدمہ کس نے بنایا؟ تفتیش کس نے کی؟ شواہد کس نے محفوظ کیے؟ فرانزک کس نے کرایا؟ پراسیکیوشن نے عدالت میں کیا مؤقف اختیار کیا؟ اور ریاست نے مقتول کے خاندان کو کس حد تک قانونی تحفظ فراہم کیا؟ اگر ان تمام سوالات کا جواب شفاف طریقے سے نہیں دیا جاتا تو پھر عوامی بداعتمادی ختم نہیں ہوگی۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحران صرف معیشت کا بحران نہیں ہے، صرف مہنگائی کا بحران نہیں ہے، صرف بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کا بحران نہیں ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا بحران اعتماد کا بحران ہے۔ عام آدمی کو اگر یہ یقین ہوجائے کہ عدالت میں اس کی بات سنی جائے گی تو وہ ٹوٹا ہوا بھی ریاست کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، لیکن اگر اسے یہ یقین ہوجائے کہ دولت مند کے لیے الگ قانون ہے، طاقتور کے لیے الگ راستہ ہے اور غریب کے لیے صرف سزا ہے تو پھر ریاست اور شہری کے درمیان وہ رشتہ کمزور ہوجاتا ہے جس پر کسی بھی ملک کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ بات کہ ظلم پر قائم معاشرہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا، ایک معروف تصور ہے، اگرچہ اسے قرآن یا مستند حدیث کا براہ راست قول سمجھنا درست نہیں، لیکن اس کے اندر جو بنیادی تصور موجود ہے وہ قرآن کی تعلیمات سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ قرآن مجید عدل کا حکم دیتا ہے اور ظلم سے روکتا ہے۔ ریاست اگر عدل قائم نہیں کرے گی تو اس کی عمارت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو، اس کی بنیاد اندر سے کھوکھلی ہوجائے گی۔ تاریخ میں بڑے بڑے حکمران گزرے جن کے پاس لشکر تھے، خزانے تھے، محلات تھے، مگر وہ اس لیے ختم ہوگئے کہ ان کے معاشروں میں انصاف ختم ہوگیا۔پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت کسی نئی تقریر کی نہیں بلکہ اس سوال کے جواب کی ہے کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ اگر ایک غریب شہری معمولی ٹریفک خلاف ورزی پر پولیس کے سامنے بے بس ہے تو ایک امیر شہری کو بھی قانون کے سامنے اسی طرح جواب دہ ہونا چاہیے۔ اگر غریب کے لیے ہیلمٹ نہ پہننا قانون شکنی ہے تو دولت مند کے لیے خطرناک رفتار بھی قانون شکنی ہونی چاہیے۔ اگر غریب کے لیے لائسنس کے بغیر گاڑی چلانا جرم ہے تو بااثر خاندان کے کسی فرد کے لیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔ اگر غریب کے لیے ایک انسانی جان کی قیمت ہے تو طاقتور کے لیے بھی ایک انسانی جان کی قیمت وہی ہونی چاہیے۔ یہی قانون کی حکمرانی ہے اور یہی ریاست کی اصل آزمائش ہے۔سندھ حکومت اور وفاقی حکومت دونوں کو ایسے واقعات سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے بجائے ایک مستقل نظام بنانا چاہیے جس میں بااثر افراد کے جرائم کی تفتیش آزادانہ ہو، پولیس کی تفتیش کسی سیاسی یا معاشی دباؤ سے آزاد ہو، پراسیکیوشن مضبوط ہو، فرانزک نظام قابل اعتماد ہو، سی سی ٹی وی اور دیگر ڈیجیٹل شواہد محفوظ کیے جائیں اور مقتول خاندان کو ریاستی قانونی معاونت فراہم کی جائے تاکہ کسی خاندان کو صرف اس لیے صلح پر مجبور نہ ہونا پڑے کہ وہ برسوں تک مقدمہ لڑنے کی مالی طاقت نہیں رکھتا۔اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کو اس پورے مسئلے کو صرف ایک ایک مقدمے کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا، کیونکہ یہ صرف نتاشا کا معاملہ نہیں، یہ صرف کارساز کا معاملہ نہیں، یہ صرف اسلام آباد کا معاملہ نہیں، یہ ان تمام خاندانوں کا معاملہ ہے جنہوں نے سڑکوں پر اپنے پیارے کھوئے اور پھر عدالتوں کے دروازوں پر انصاف کی امید لے کر کھڑے ہوگئے۔ اگر عدالتوں میں بیٹھنے والے معزز ججز قانون کی روح اور عوام کے اعتماد دونوں کو سامنے رکھ کر نظام کی خامیوں کی نشاندہی کریں گے تو شاید یہ ملک دوبارہ اس راستے پر آسکے جہاں ریاست طاقتور کے سامنے جھکتی نہیں بلکہ طاقتور کو قانون کے سامنے جھکاتی ہے۔پاکستان کو ایسے قانون کی ضرورت نہیں جس سے صرف غریب ڈرے۔ پاکستان کو ایسے قانون کی ضرورت ہے جس کے سامنے طاقتور بھی ڈرے، کیونکہ قانون کا احترام اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب قانون طاقتور کی طاقت سے بڑا نظر آئے۔ اگر قانون امیر کے دروازے پر پہنچ کر کمزور پڑ جائے اور غریب کے دروازے پر پہنچ کر شیر بن جائے تو پھر یہ قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی ہے۔آج پاکستان کے حکمرانوں کو اپنے محلوں سے باہر نکل کر ان گھروں میں جھانکنا چاہیے جہاں ایک باپ اپنی بیٹی کے قتل کے بعد خاموش بیٹھا ہے، جہاں ایک ماں اپنے جوان بچے کی تصویر سینے سے لگا کر روتی ہے، جہاں ایک خاندان عدالت کی اگلی تاریخ کا انتظار کرتے کرتے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گنوا دیتا ہے۔ وہاں جاکر معلوم ہوگا کہ ایک مقدمہ صرف ایک ایف آئی آر نہیں ہوتا، ایک موت صرف ایک خبر نہیں ہوتی اور ایک بریت صرف ایک عدالتی فیصلہ نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے کسی کا پورا خاندان دفن ہوتا ہے۔اگر پاکستان کو واقعی اسلامی جمہوری ریاست بننا ہے تو اسے صرف آئین میں اسلامی اور جمہوری لکھنے سے کام نہیں چلے گا۔ اسے اپنے نظام میں عدل پیدا کرنا ہوگا، اسے پولیس میں انصاف پیدا کرنا ہوگا، اسے عدالتوں میں مساوات کا اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اسے دولت اور اختیار کو قانون سے اوپر جانے سے روکنا ہوگا اور اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس ملک میں کسی غریب کی جان کسی امیر کی گاڑی کے نیچے کچل کر محض ایک خبر نہیں بنے گی۔ورنہ تاریخ ہم سے ایک دن یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب انصاف کا ترازو ہمارے ہاتھ میں تھا تو ہم نے اسے برابر کیوں نہ رکھا؟اور اس دن ہمارے پاس شاید کوئی جواب نہیں ہوگا۔



