سیاست کی لاش پر اقتدار کا جشن

پاکستان میں جمہوریت کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ نہیں کہ اسے بار بار خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ اس کے محافظ ہی اکثر اس کی بنیادیں کھودتے رہے ہیں
ہم نے آمریت کے خلاف تقریریں بہت کیں مگر جب اقتدار کی کرسی سامنے آئی تو اپنے اختیار کا ایک حصہ کسی اور کے حوالے کرنے میں دیر نہیں لگائی
ہم نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے نعرے لگائے مگر جب پارلیمنٹ کو واقعی بالادست بنانے کا وقت آیا تو اپنی حکومت بچانے کے لیے ایسے دروازوں پر دستک دی جہاں سے واپس آنے کے بعد پارلیمنٹ پہلے سے زیادہ کمزور تھی
یہی پاکستان کی سیاست کا سب سے تلخ باب ہے اور شاید اسی لیے آج پارلیمنٹ کی عمارت کھڑی ہے مگر اس کا وقار زخمی ہے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے اسلام آباد میں صحافت کرتے ہوئے اور مختلف قومی اداروں سے وابستہ رہتے ہوئے پارلیمنٹ کی راہداریوں میں سیاست کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے اس وقت نائنٹی ٹو نیوز میں بطور سینئر رپورٹر پارلیمانی سیاست کی رپورٹنگ کرتے ہوئے جو کچھ آنکھوں کے سامنے آتا ہے وہ کبھی کبھی صحافی سے زیادہ ایک شہری کو پریشان کرتا ہے
کیونکہ پارلیمنٹ صرف اینٹ پتھر کی عمارت نہیں ہوتی
پارلیمنٹ دراصل عوام کے ووٹ کی عزت کا نام ہے
پارلیمنٹ اس امید کا نام ہے کہ جس شخص کو عوام نے منتخب کیا ہے وہ ان کی آواز بنے گا
پارلیمنٹ اس یقین کا نام ہے کہ ریاست کے فیصلے کسی بند کمرے میں نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہوں گے
لیکن آج سوال یہ ہے کہ کیا ہماری پارلیمنٹ واقعی وہی اختیار رکھتی ہے جس کا آئین نے اسے حق دیا ہے
اگر جواب ہاں ہے تو پھر ملک کے بڑے فیصلوں کی ذمہ داری کس پر ہے
اور اگر جواب نہیں ہے تو پھر عوام کے ووٹ سے بننے والی حکومت اور پارلیمنٹ کے وجود کا اصل مقصد کیا رہ جاتا ہے
یہ سوال کسی ایک وزیراعظم سے نہیں بلکہ پوری سیاسی اشرافیہ سے ہے
میں نے اس پارلیمنٹ میں نواز شریف کو وزیراعظم دیکھا ہے بینظیر بھٹو کی سیاسی قیادت دیکھی ہے شوکت عزیز کا دور دیکھا ہے جنرل مشرف کے زمانے میں چودھری شجاعت حسین اور میر ظفر اللہ خان جمالی کی وزارت عظمیٰ دیکھی ہے اختلافات بھی دیکھے ہیں محاذ آرائیاں بھی دیکھی ہیں سیاسی تلخیاں بھی دیکھی ہیں مگر اس پارلیمنٹ کی بے توقیری کا جو احساس آج پیدا ہوا ہے وہ اس سے پہلے کبھی اس شدت کے ساتھ محسوس نہیں ہوا
آج مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سیاستدان کمزور ہو گئے ہیں
مسئلہ یہ ہے کہ سیاستدانوں نے خود اپنے سیاسی اختیار کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا ہے
ہائبرڈ نظام کی بحث اسی مقام سے شروع ہوتی ہے
یہ نظام صرف باہر سے مسلط کیا ہوا کوئی بندوبست نہیں بلکہ اس کی تشکیل میں خود سیاستدانوں کے فیصلوں کا بھی حصہ ہے
سیاسی جماعتوں نے بارہا اپنے مخالف کو شکست دینے کے لیے ایسے سہارے تلاش کیے جو وقتی طور پر ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے مگر طویل مدت میں اسی سیاست کے لیے زہر بن گئے
کل جو دروازہ اپنے مخالف کو روکنے کے لیے کھولا گیا آج اسی دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بے اختیاری کا ماتم کیا جا رہا ہے
کل جس طاقت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا آج اسی طاقت کی موجودگی سیاست کے لیے سوال بن گئی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سیاستدانوں کو خود سے سوال کرنا چاہیے
کیا انہوں نے اقتدار حاصل کیا تھا یا صرف اقتدار کی کرسی حاصل کی تھی
کیونکہ اقتدار اور اختیار دو الگ چیزیں ہیں کرسی آپ کے پاس ہو سکتی ہے مگر اختیار کہیں اور حکومت آپ کی ہو سکتی ہے مگر فیصلہ سازی کسی اور کے ہاتھ میں پارلیمنٹ آپ کی ہو سکتی ہے مگر پالیسی کا رخ کہیں اور سے متعین ہو سکتا ہے
اور یہی وہ کیفیت ہے جس نے پاکستانی سیاست کو ایک ایسے چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر طرف راستہ موجود ہے مگر منزل دکھائی نہیں دیتی۔
موجودہ وزیراعظم شہباز شریف ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں ان کی سیاسی زندگی کئی دہائیوں پر محیط ہے وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے اپوزیشن لیڈر رہے وفاقی حکومت میں اہم ذمہ داریاں سنبھالتے رہے اور مسلم لیگ نون کی سیاست میں ایک مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں
لیکن سوال یہ نہیں کہ شہباز شریف کتنے تجربہ کار ہیں
سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں ان کے پاس فیصلہ کرنے کی حقیقی طاقت کتنی ہے
اور اگر ایک تجربہ کار سیاسی رہنما بھی اپنے اختیار کی مکمل تصویر عوام کے سامنے پیش نہیں کر سکتا تو پھر مسئلہ فرد کا نہیں نظام کا ہے
پاکستان کا اصل بحران آج مہنگائی سے بھی بڑا ہے
یہ اعتماد کا بحران ہے
کاروباری شخص کو یقین نہیں کہ کل پالیسی کیا ہوگی
صنعت کار کو یقین نہیں کہ توانائی کی قیمت کہاں جائے گی
نوجوان کو یقین نہیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار ملے گا یا نہیں
متوسط طبقے کو یقین نہیں کہ اگلا بجلی کا بل وہ کیسے ادا کرے گا
اور عام آدمی کو یقین نہیں کہ اگلی حکومت بھی اس کی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی لا سکے گی یا نہیں
یہی وہ کیفیت ہے جس میں معیشت صرف اعداد و شمار میں چلتی ہے اور زندگی حقیقت میں رک جاتی ہے
حکومت کہتی ہے معیشت بہتر ہو رہی ہے
عوام بازار جا کر پوچھتے ہیں آٹا سستا کیوں نہیں ہوا
حکومت کہتی ہے سرمایہ کاری آ رہی ہے
نوجوان پوچھتا ہے نوکری کہاں ہے
حکومت کہتی ہے دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے
عام شہری پوچھتا ہے میرے گھر کا چولہا کب آسان ہوگا
یہ وہ فاصلہ ہے جو کسی بھی حکومت کے لیے خطرناک ہوتا ہے
حکومت اگر عوام کی زبان سمجھنا چھوڑ دے تو عوام بھی حکومت کی زبان سننا چھوڑ دیتے ہیں
آج وزیراعظم کے دورے ہوتے ہیں ملاقاتیں ہوتی ہیں معاہدے ہوتے ہیں تصاویر بنتی ہیں بیانات جاری ہوتے ہیں مگر عام آدمی کا سوال اپنی جگہ موجود ہے
ان دوروں کا میرے لیے کیا فائدہ ہوا
میرے روزگار کے لیے کیا آیا
میرے کاروبار کے لیے کیا آیا
میرے بچوں کے مستقبل کے لیے کیا بدلا
یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ہر اس حکومت کے خلاف ہے جو عوام کے نام پر اقتدار حاصل کرتی ہے مگر اقتدار کے نتائج عوام تک پہنچانے میں ناکام رہتی ہے
سیاست کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وزیراعظم کتنی تقریریں کرتا ہے
اصل امتحان یہ ہے کہ عام آدمی کتنی آسانی سے زندگی گزار سکتا ہے
ملک کی ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ کتنی کانفرنسیں ہوئیں اصل پیمانہ یہ ہے کہ کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا ریاست کی کامیابی کا اصل ثبوت یہ نہیں کہ کتنے دورے ہوئے اصل ثبوت یہ ہے کہ کتنے کاروبار کھلے کتنی صنعتیں چلیں اور کتنے گھرانوں کے چولہے آسان ہوئے بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت نے سیاست کو عوامی خدمت سے زیادہ اقتدار کی بقا کا مسئلہ بنا دیا ہے
حکومت کی سب سے بڑی فکر حکومت بچانا ہے اپوزیشن کی سب سے بڑی فکر حکومت گرانا ہے اور عوام کی سب سے بڑی فکر گھر چلانا ہے یہ تینوں راستے ایک دوسرے سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی بحث اور عوام کے گھر میں ہونے والی گفتگو کے درمیان زمین آسمان کا فاصلہ پیدا ہو گیا ہے
یہ فاصلہ خطرناک ہے
کیونکہ جب عوام کو لگنے لگے کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی سیاست کا ان کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں تو پھر جمہوریت کا سب سے قیمتی سرمایہ یعنی عوام کا اعتماد کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے اور جس دن عوام کا اعتماد ختم ہو گیا اس دن صرف ایک حکومت نہیں گرے گی پورا سیاسی نظام کٹہرے میں کھڑا ہوگا اس لیے آج پاکستان کے سیاستدانوں کو دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنے سیاسی ماضی کا حساب کرنا ہوگا
انہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہائبرڈ سیاست کی موجودہ شکل صرف کسی ایک قوت کی پیداوار نہیں بلکہ اس میں سیاسی جماعتوں کی اپنی مصلحتوں اور غلط فیصلوں کا بھی حصہ ہے اپنے مخالف کو ختم کرنے کے لیے اختیار کا دروازہ کھولنا آسان تھا
اس دروازے کو دوبارہ بند کرنا مشکل ثابت ہوا اقتدار حاصل کرنا آسان تھا
اختیار واپس حاصل کرنا مشکل ہے
اور سب سے مشکل کام یہ ہے کہ عوام کو دوبارہ یقین دلایا جائے کہ ان کے ووٹ کی واقعی کوئی قیمت ہے
پاکستان کو اب ایک اور سیاسی نعرے کی ضرورت نہیں پاکستان کو ایک سیاسی عہد کی ضرورت ہے یہ عہد کہ پارلیمنٹ کسی کے سہارے پر نہیں بلکہ آئین کے سہارے پر چلے گی یہ عہد کہ حکومت اپنے فیصلوں کی ذمہ داری خود قبول کرے گی یہ عہد کہ اپوزیشن صرف حکومت گرانے کے لیے نہیں بلکہ بہتر متبادل دینے کے لیے بھی موجود ہوگی یہ عہد کہ سیاسی جماعتیں وقتی اقتدار کے لیے اپنے مستقبل کا سودا نہیں کریں گی اور سب سے بڑھ کر یہ عہد کہ عوام کے ووٹ کو صرف حکومت بنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ریاستی اختیار کی بنیاد سمجھا جائے گا کیونکہ پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون حکومت کر رہا ہے
اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کس اختیار کے ساتھ کر رہا ہے
اور اگر سیاستدان اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے رہے تو تاریخ ان سے یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب ان کے پاس اختیار تھا تو انہوں نے اسے محفوظ کیوں نہیں کیا جب پارلیمنٹ ان کے ہاتھ میں تھی تو انہوں نے اسے مضبوط کیوں نہیں کیا
جب عوام ان کے ساتھ تھے تو انہوں نے عوام کے اعتماد کی حفاظت کیوں نہیں کی اور جب وقت نے انہیں اختیار کی حفاظت کا موقع دیا تو انہوں نے اپنی کرسی بچانے کے لیے اپنا اختیار کیوں قربان کر دیا یہی وہ سوال ہے جس سے آج پاکستان کی پوری سیاسی اشرافیہ کو نظریں ملانا ہوں گی کیونکہ وقت گزر رہا ہے
معیشت انتظار نہیں کرتی
بے روزگار نوجوان انتظار نہیں کرتا
مہنگائی انتظار نہیں کرتی
عوام کا صبر بھی ہمیشہ انتظار نہیں کرتا اور تاریخ بھی کسی حکومت کے لیے اپنی گھڑی روک کر نہیں بیٹھتی
اب فیصلہ سیاستدانوں کو کرنا ہے کہ وہ ایک ایسی پارلیمنٹ چھوڑ کر جائیں گے جس میں صرف کرسیاں اور مائیک باقی ہوں گے یا ایک ایسی پارلیمنٹ جس میں عوام کے ووٹ کی طاقت بھی محسوس ہو کیونکہ قومیں صرف حکومتوں سے نہیں چلتیں
قومیں اختیار کی سچائی سے چلتی ہیں اور پاکستان کی سیاست کے سامنے آج آخری سوال یہی کھڑا ہے
اگر اختیار بھی کسی اور کا ہو اور جواب دہی بھی عوام کے سامنے ہو تو پھر سیاستدان آخر کس چیز کے حکمران ہیں۔



  تازہ ترین   
ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی
امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی
امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی
امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج
امریکا کی ایران کی مالی معاونت کرنیوالے عالمی مالیاتی اداروں کو سنگین نتائج کی دھمکی
ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 36 دہشتگرد جہنم واصل





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر