ارمچی (شِنہوا) پاکستانی کاروباری شخصیت اسلم محمد شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے کی اس دور افتادہ سرحدی کاؤنٹی میں ہر شام اپنے ریسٹورنٹ کے باہر ایک مانوس منظر کو رونما ہوتے دیکھتے ہیں۔چینی سیاح پاکستانی کھانوں کے لئے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ مقامی باشندے پاکستانی تاجروں سے بات چیت کرتے ہیں۔ سالن، نان اور پاکستانی دودھ پتی کی خوشبو ان گلیوں میں پھیل جاتی ہے جو کبھی بنیادی طور پر پہاڑوں کے راستے ایک گزرگاہ کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ہنزہ سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ تاجر اسلم کے لئے 9سال قبل قائم کیا گیا ریستوران محض کھانا فراہم کرنے کی جگہ نہیں رہا بلکہ یہ چین اور پاکستان کی سرحد کے دونوں جانب عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کی ایک چھوٹی سی جھلک بن چکا ہے۔اسلم نے اپنے ریستوران “ہنزہ کچن” میں گاہکوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب میں نے یہ کام شروع کیا تو میرا مقصد صرف یہ تھا کہ گھر سے دور رہنے والے اپنے ان ہم وطن پاکستانیوں کو وہ ذائقے فراہم کروں جن کی انہیں یاد آتی ہے۔اسلم نے کہا کہ ’’بعد میں تاشقورغان کے مقامی لوگوں نے بھی یہ کھانے پسند کرنا شروع کئے۔ گزشتہ 2برسوں کے دوران چینی گاہکوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ بعض اوقات پاکستانیوں کو بھی بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی۔پامیر کے بلند پہاڑوں کے مشرقی دامن میں واقع عام طور پر تاشقورغان کہلانے والی تاشقورغان تاجک خودمختار کاؤنٹی پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کی سرحدوں سے ملحق ہے۔ چین اور پاکستان کو ملانے والی خنجراب پورٹ کے سال بھر کھلے رہنے کے باعث یہ کاؤنٹی سرحد پار تجارت کا ایک اہم مرکز اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں کی ایک کھڑکی بن گئی ہے۔تاشقورغان سے بلند پہاڑوں کے دوسری جانب ہنزہ واقع ہے جو چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے ساتھ ایک اور اہم مقام ہے۔ دونوں علاقے جون 2023 میں باضابطہ طور پر سسٹر سٹی بنے جبکہ انہیں ملانے والا سرحد پار سیاحتی راستہ دسمبر 2024 میں مکمل طور پر کھول دیا گیا۔ یہ دونوں جانب کی کاؤنٹیوں کے درمیان سرحد پار ثقافتی سیاحتی تعاون کا پہلا منصوبہ تھا۔ہنزہ سے اسلم تقریباً 6 گھنٹے گاڑی چلا کر چین-پاکستان دوستی شاہراہ سے گزرتے ہوئے اور تقریباً 5 ہزار میٹر بلند خنجراب پاس عبور کرکے تاشقورغان پہنچ سکتے ہیں۔جغرافیائی قربت نے ان کے بہت سے ہم وطن پاکستانیوں کو تاشقورغان میں کاروبار کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔آج ہنزہ کچن اپنے قیام کے وقت کے مقابلے میں تقریباً نصف زیادہ بڑا ہو چکا ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سرحدی کاؤنٹی میں سیاحت کے فروغ کی عکاسی کرتی ہے اور یہ ریستوران تاشقورغان کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقامات میں شامل ہو گیا ہے۔حالیہ برسوں میں اس کاؤنٹی میں سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی سیاحتی حکام کے مطابق رواں سال کے پہلے 7ماہ کے دوران تاشقورغان میں 19 لاکھ 10 ہزار سیاحتی دورے ریکارڈ کئے گئے جبکہ پامیر کے بارے میں سفری مواد چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلسل مقبول ہو رہا ہے۔بہت سے مسافروں کے لئے اب تاشقورغان کا سفر ایک مانوس مشورے کے ساتھ مکمل ہوتا ہے کہ پاکستانی کھانا ضرور آزمائیں۔گوشت والا سالن، نان، چنے، آلو کے ساتھ قیمہ شدہ یاک کا گوشت اور پاکستانی دودھ پتی جیسے کھانے چینی سیاحوں میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ 50 ہزار سے بھی کم مستقل آبادی رکھنے والی اس کاؤنٹی میں پاکستانی طرز کے تقریباً 10 ریستوران کھل چکے ہیں جو علاقے میں بڑھتی ہوئی ثقافتی تنوع کی عکاسی کرتے ہیں۔تاہم یہ تبادلے صرف کھانے تک محدود نہیں ہیں۔کاؤنٹی کے مختصر مرکزی علاقے میں چہل قدمی کرتے ہوئے سیاح اکثر پاکستانی تاجروں کو چینی سیاحوں سے بات چیت کرتے دیکھ سکتے ہیں۔ مقامی سٹریٹ ڈانس کی تقریبات میں پاکستانی باشندے بھی اکثر مقامی لوگوں کے ساتھ عقاب رقص پیش کرتے ہیں جو تاجک قوم کا روایتی رقص ہے اور چین کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ہنزہ کچن سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر سرحد پار روابط کی ایک اور علامت ’’با تیے نائٹ مارکیٹ‘‘ قائم ہے۔ ’’با تیے‘‘ پاکستان کے لئے چینی زبان میں استعمال ہونے والا ایک مقبول عرف ہے جس کا مطلب ’’آہنی بھائی‘‘ ہے۔غیر ملکی تاجروں کو بہتر سہولیات اور انتظام فراہم کرنے کے لئے کاؤنٹی کی حکومت نے 3 ہزار مربع میٹر پر محیط اس مارکیٹ کو مخصوص کاروباری علاقے کے طور پر قائم کیا۔تاشقورغان کے سرحدی رہائشیوں کے باہمی تجارتی خدمات مرکز کے ایک عہدیدار کے مطابق اس سے قبل پاکستانی تاجر قصبے کے مختلف مقامات پر منتشر انداز میں سامان فروخت کرتے تھے جس سے خدمات کی فراہمی اور انتظام مشکل ہو جاتا تھا۔ مارکیٹ میں مستقل سٹالز کے ساتھ قانونی اور مشاورتی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں تاکہ تنازعات کے حل میں مدد مل سکے۔نائٹ مارکیٹ نے اکتوبر 2024 میں بتدریج شکل اختیار کرنا شروع کی۔ زیادہ تر دکاندار پاکستانی تاجر ہیں جو قیمتی پتھر، قالین اور دیگر خصوصی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔ مارکیٹ کے منتظمین کے مطابق 2025 میں پاکستانی دکانداروں نے 27 ہزار سے زائد مرتبہ سٹالز لگائے اور تقریباً 18 لاکھ یوآن کی مجموعی فروخت کی۔ مصروف ترین اوقات میں روزانہ آنے والے افراد کی تعداد 4 ہزارسے تجاوز کر گئی۔بہت سے مقامی باشندوں اور سیاحوں کے لئے یہ مارکیٹ چین-پاکستان دوستی کی ایک نمایاں علامت بن چکی ہے۔یہاں تجارت، کھانے اور ثقافتی پرفارمنس ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ مقامی باشندوں نے گانے اور رقص کے گروپ بھی تشکیل دیئے ہیں جن کی پرفارمنس آن لائن براہ راست نشر کی جاتی ہے تاکہ دونوں ممالک کے عام لوگوں کے درمیان روابط کی زندگی اور توانائی کو اجاگر کیا جا سکے۔ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی تاجروں کے لئے چین کے ساتھ تعلق محض تاریخ ہی نہیں بلکہ مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔انہیں اب بھی بزرگ نسل کی سنائی ہوئی وہ کہانیاں یاد ہیں جن میں ایسے تاجروں کا ذکر ملتا ہے جو کبھی گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہو کر پہاڑوں کو عبور کرتے اور چین کے ساتھ تجارت کرتے تھے۔حالیہ برسوں میں ہنزہ کے موسم بہار کے مناظر نے بھی چینی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ برف سے ڈھکے پہاڑوں کے پس منظر میں خوبانی کے پھولوں کے لئے مشہور ہنزہ اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث مقبول ہو رہا ہے۔اسلم نے کہا کہ ’’ میں اپنے خاندان میں چین کے ساتھ روابط قائم کرنے والی پہلی نسل میں شامل ہوں۔ مجھے امید ہے کہ میں اپنے تجربے اور اس دوستی کو اگلی نسل تک منتقل کر سکوں گا۔ان کا بھتیجا اسلام آباد میں چینی زبان کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اور اسلم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے نوجوان افراد کے ساتھ چینی لوگوں کے ساتھ برسوں کاروبار کرنے کے دوران حاصل ہونے والے تجربات شیئر کریں۔یہ خواہش ان بہت سے پاکستانی تاجروں کی بھی ہے جنہیں تاشقورغان میں کاروباری مواقع ملے ہیں۔رات ڈھلتے ہی کاؤنٹی روشن ہو جاتی ہے۔ با تیے نائٹ مارکیٹ میں چینی اور پاکستانی افراد ہجوم میں گھل مل جاتے ہیں اور کھانے، گفتگو اور قہقہوں میں شریک ہوتے ہیں۔100 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع خنجراب پاس پر چین اور پاکستان کے درمیان ٹرکوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے جو دونوں ممالک کو ملانے والے پہاڑوں کے راستے سامان لے کر آتے جاتے ہیں۔اسلم کے لئے اب یہ پہاڑ رکاوٹ نہیں رہے۔یہ ایک پل بن چکے ہیں۔
پاک۔چین کہانیاں |چینی سرحدی قصبے میں پاکستانی ذائقوں نے جڑیں پکڑ لیں



