سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے، معاملہ سیاسی نہ بنانے کا حکم

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا جہاں ان کا مکمل طبی معائنہ ہوگا، عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک دن ملاقات کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو اگلی سماعت تک شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال میں سخت سکیورٹی میں رکھا جائے اور ان کی منتقلی کو کسی بھی صورت سیاسی معاملہ نہ بنایا جائے، ہسپتال کے باہر کسی قسم کے جلسے، جلوس یا احتجاج کی اجازت نہ دی جائے۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو خفیہ نہیں رہے گا۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا آپ کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ انجیوگرافی کرانی ہے، کیا جیل میں انجیوگرافی ہو سکتی ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا باہر ہسپتال سے ہو سکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی کی نہ نبض نارمل ہے، نہ ہی دل، میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وائیٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

فاضل جج نے استفسار کیا بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی، جس پر عدالت نے کہا اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں، ان کا بنیادی حق ہے، ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ تین سال میں بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی 48 ملاقاتیں کرائی گئیں، جس پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے 3 سال کے دوران بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب کر لیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کرانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔

وکیل پی ٹی آئی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بہنوں کی تو کم سے کم ملاقات کرانی چاہیے، بہنوں اور ڈاکٹرز کو بانی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔

جسٹس نعیم اختر نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی کو بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا شفاء انٹرنیشل ہسپتال میں مکمل چیک اپ کرایا جائے، جس پر جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ باہر آ کر میڈیا ٹاک نہیں ہوگی؟ وکیل نے کہا ڈاکٹر عظمیٰ کا وکیل ہوں اور ان کی ہدایات کے مطابق ہی گارنٹی دے رہا ہوں کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر عاصم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔

عظمیٰ خان کے وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کو ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے پوچھا کیا ڈاکٹر عظمیٰ کیا پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں؟ وکیل نے کہا نہیں، عظمیٰ میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف تو معدے کے ڈاکٹر ہیں اور رپورٹ کے مطابق انہیں معدے کا کوئی مسئلہ نہیں، کسی درخواست گزار نے بانی کا چیک اپ کرنے والے ڈاکٹرز کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہ کرنے کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس زیرِ سماعت ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میڈیا ٹاک کر کے یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ یقین دہانی میری تھی، باقیوں کا کیا قصور ہے؟

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہم افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کریں گے تو پھر سلمان اکرم راجہ کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو ایک چیز طے کر لینی چاہیے کہ بانی کی طبی حالت پر کوئی سیاست نہیں ہوگی، بانی پی ٹی آئی کے علاج پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پی ٹی آئی اور فیملی کو بیانِ حلفی دینا ہوگا کہ ملاقات کے بعد کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہوگی، عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران عظمیٰ خان کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں بات نہ کریں۔

عظمیٰ بخاری کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا بانی پی ٹی آئی کا بلڈ کلاٹ کیوں ہوا اس کی وجہ سامنے آنی چاہیے، 1979 میں جو کچھ ہوا، نہیں چاہتے دوبارہ ہو۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کی مکمل تفصیل طلب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کتنے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی ہیں، تفصیل فراہم کی جائے، بانی کتنے کیسز میں سزا یافتہ ہیں؟ کتنے کیسز میں سزا معطل ہو چکی ہے، اس کی بھی تفصیل دیں۔

سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل حکام سے بانی سے گزشتہ تین سال کی ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا بتایا جائے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کیوں ہوئی؟

جسٹس شاہد وحید نے پوچھا کس بہن کی ملاقات ہونی چاہیے؟ جس پر عزیر بھنڈاری نے کہا کہ عظمیٰ خان کیونکہ ڈاکٹر ہیں اس لیے ان کی ملاقات کرائی جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عظمیٰ خان کی درخواست پر ہمیں نوٹس جاری نہیں ہوا، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا آپ کا نکتہ بھی دیکھ لیں گے، اس میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد پیش ہو چکے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کا کہنا تھا میں عظمیٰ خان والے کیس میں پیش نہیں ہوا، جس پر جسٹس نعیم افغان نے کہا آپ نے یہ بات صبح کیوں نہیں کی؟ جسٹس شاہد وحید بولے آپ اسلام آباد کے سینئر ترین لا افسر ہیں، ایسے نہ کریں۔

جسٹس شاہد وحید نے پوچھا کہ آپ نجی ہسپتال ہی کیوں منتقلی چاہتے ہیں؟ جس پر وکیل عزیر بھنڈاری کا کہنا تھا پمز میں تو اکثر لے کر جایا جاتا ہے، فاضل جج نے پوچھا کہ نجی ہسپتال کے اخراجات کون ادا کرے گا؟ اس پر وکیل عظمیٰ خان کا کہنا تھا نجی ہسپتال کے اخراجات ہم ادا کریں گے۔

عدالت نے پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کی رپورٹس پبلک نہ کرنے کی گارنٹی کون دے گا؟ میڈیکل رپورٹ کو سیاست کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا، اس کی یقین دہانی کون کرائے گا؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی جماعت میڈیکل رپورٹ سیاست کیلئے استعمال نہیں کرے گی، میڈیکل رپورٹ ڈاکٹرز اور بانی کی فیملی کا معاملہ ہے۔

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو علاج پر سیاست کرنے سے بھی روکتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹرعظمیٰ خان بھی بانی پی ٹی آئی کے ہمراہ ہوں گے، ہفتے میں ایک دن بانی پی ٹی آئی سے اہلخانہ کی ملاقات کا حکم دے دیا اور کہ کہ بانی آئندہ سماعت تک ہسپتال میں رہیں گے، نجی ہسپتال کے تمام اخراجات پی ٹی آئی برداشت کرے گی۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل حکام کو بھی طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو اگلی سماعت تک شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیاجائے، بانی پی ٹی آئی کو سخت سکیورٹی میں ہسپتال منتقل کیا جائے، ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16ستمبر تک ملتوی کر دی۔



  تازہ ترین   
سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے، معاملہ سیاسی نہ بنانے کا حکم
عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشت گرد ہلاک
بجلی 2.52 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری، نیپرا میں درخواست دائر
پنجاب میں بلدیاتی حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال
بھارت ایک سال بعد بھی معرکہ حق میں شکست تسلیم کرنے سے انکاری ہے: آئی ایس پی آر
بھارت میں گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں: دفتر خارجہ
مون سون شجرکاری کا آغاز، درختوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: صدر مملکت





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر