تحریر: عابد حسین قریشی
گزشتہ چودہ سو سال سے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس، ان کی شخصیت، ان کے سراپا مبارک، ان کے خصائل و سیرت پر اتنا کچھ لکھا اور پڑھا گیا، کہ اس کا احاطہ کرنا ممکن نہ ہے۔ یہ موضوع اتنا وسیع اور جامع ہے، اور تاجدار ختم نبوت تو ایسی ستودہ صفات ہستی ہیں کہ جن کے ذکر پاک سے ہی دل تابندہ و روشن ہو جاتا ہے۔ ربیع الاول کے مبارک مہینہ میں اپنی کتاب عجز عاجزانہ سے ایک منتخب اقتباس نظر قارئین کر رہا ہوں، جس میں اللہ تعالٰی کی خاص عطا سے اس کے نبی محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات اور شخصیت مبارک کا ایک نقشہ کھینچا ہے۔ امید ہے یہ عشاقان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب و روح میں سما کر عشق و سر مستی کا جذب و شوق پیدا کر دے گا۔ اب ان الفاظ اور ان کے معنی پر غور فرمائیں، یقیناً لطف آئے گا۔ “” اللہ تعالٰی نے ختم نبوت کا تاج محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر سجایا ہے، اور سچی بات تو یہ ہے، کہ وہی اس تاج کے اصل اور صحیح حقدار ہیں۔ یہ دلکش شخصیت، یہ چاند سا مکھڑا، یہ طلسماتی زلفیں، یہ دلکش انداز گفتگو، یہ وسیع القلبی، یہ تسامح، یہ وضع داری اور حسن تکلم، یہ محویت و استغراق، یہ تواضع و انکسار، یہ دیدہ حق شناس، یہ پیکر جود و سخا، یہ بے مثل عفو و درگزر، یہ حکمت و دانائی کا سرچشمہ، یہ عزت و تکریم کی بلندیاں، یہ بے مثل پختگی کردار، یہ بلند پایہ فضل و امتنان، یہ لاجواب رضوان و فضیلت، یہ انسانی معراج کی خلعت فاخرہ، یہ محبت و جانثاری کا بادۂ گلفام، یہ راہ عشق و دلبری کا نقیب، یہ انسانوں کی فلاح کا حریص، یہ زمانہ امن کا مصلح، قاضی، امام، نبی اور پیغمبر، اور یہ میدان کارزار کا عظیم سپاہی اور کمانڈر، یہ ایک بہترین دوست، ساتھی اور غمگسار، یہ اپنی صفات میں یگانہ اور عدیم النظیر، یہ پیکر شفقت و محبت اور ایثار و قربانی، یہ غریبوں اور یتیموں کا والی و سرپرست، یہ اپنی برکات میں سر تا پا رحمت العالمین، یہ سلسلہ نبوت کی آخری اینٹ، یہ انسانیت کا فخر، یہ ہم سب کے دلوں کا قرار اور انسانیت کا وقار، یہ قرآن کریم کی زبان میں یاسین، طاہا، مزمل اور مدثر، یہ اخلاق کی وسعتوں اور گہرائیوں کا پیامبر، یہ علم و حکمت کا بیش قیمت خزینہ، یہ شافع روز محشر، یہ اللہ تعالٰی کی حکمتوں اور پوشیدہ مصلحتوں کا راز داں، یہ قرآن کریم کے چشمہ صافی و شیریں سے سیراب اور فیض یاب، یہ کہ جن کے فیض نظر سے ریگزار عرب کے حقیر ذرے آفتاب و مہتاب بن کر چمکے، یہ حامل قرآن اور شارع قرآن، یہ کہ جو شاہد بھی، بشیر بھی اور نذیر بھی۔ یہ کہ جو افضل الانبیاء بھی اور افضل الابشر بھی۔ یہ کہ جو نبیوں کا امام بھی اور اماموں کا نبی بھی، یہ سیدہ کائنات فاطمہ سلام اللہ علیہا کا بابا اور حسنین کریمین کا نانا، یہ انسانیت کے ماتھے کا جھومر، محسن انسانیت، ہماری آن اور شان محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تو ہیں۔ اور جو ختم نبوت کی مہر ہیں۔



