جکارتہ (نیشنل ٹائمز)انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا کہ وہ ان سرکاری اداروں کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی عدالت کے قیام کے امکان پر غور کر رہے ہیں جو ‘‘غیر پیداواری’’ ہیں اور ‘‘من گھڑت’’ منافع ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے عہد کیا کہ سال کے اختتام تک 750 سرکاری ملکیتی ادارے بند کر دئیے جائیں گے ۔ پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں پرابوو نے کہا بہت زیادہ غیر پیداواری سرکاری ادارے موجود ہیں، جو مسلسل خسارے کی رپورٹ دیتے ہیں لیکن منافع ظاہر کرتے ہیں یہ منافع محض من گھڑت ہوتا ہے ۔ صدر نے قانون سازوں کو بتایا کہ گزشتہ سال سرکاری اثاثوں کے انتظام کے لیے دانانتارا خودمختار دولت فنڈ قائم کرنے کے بعد حکومت کو معلوم ہوا کہ ملک میں 1,074 سرکاری ملکیتی ادارے موجود ہیں میں سمجھتا تھا کہ سرکاری اداروں کی تعداد 300 یا 400 ہوگی، پرابوو کے مطابق اب تک 290 ادارے بند کیے جا چکے ہیں اور 31 دسمبر تک ان کی تعداد 300 سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا ہم 750 سے زیادہ ادارے بند کریں گے اور صرف انہی کو برقرار رکھیں گے جو پیداواری ہوں اور عوام کے لیے اضافی قدر پیدا کریں۔ انہوں نے اس اقدام کو ‘‘دنیا کی سب سے بڑی کارپوریٹ تنظیمِ نو’’ قرار دیا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے 2025 کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس میں انڈونیشیا نے 100 میں سے صرف 34 نمبر حاصل کیے ۔
انڈونیشین صدر کا 750 سرکاری ملکیتی ادارے بند کرنیکا عہد



