تاثرات: مظہر طفیل
پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے کے نظام کی موجودہ صورت حال محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک ایسے پیچیدہ، فرسودہ اور عام آدمی سے لاتعلق نظام کی تصویر ہے جس نے ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور کر دیا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو شہری اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے حکومت کو جائز ٹیکس ادا کرنا چاہتا ہے ریاست اس کے لیے راستہ آسان بناتی اسے سہولت فراہم کرتی اس کے لیے گوشوارہ جمع کرانے کا طریقہ سادہ اور قابلِ فہم بناتی مگر بدقسمتی سے محکمہ محصولات نے اس بنیادی اصول ہی کو نظر انداز کر دیا ہے خصوصاً موجودہ حکومت کے دور میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے جو فارم اور شرائط سامنے آئی ہیں وہ اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ایک عام شہری ایک چھوٹا تاجر، ایک دکاندار یا محدود آمدنی رکھنے والا ملازم اگر اپنی آمدنی کے مطابق دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنا بھی چاہے تو اسے مختلف ماہرین اور حساب کتاب کے ماہرین کی مدد لینا پڑتی ہے اور اس اضافی خدمت کے لیے اسے الگ رقم ادا کرنا پڑتی ہے سوال یہ ہے کہ اگر ریاست شہری کو ٹیکس دینے پر آمادہ کرنا چاہتی ہے تو پھر ٹیکس دینا اتنا مشکل کیوں بنا دیا گیا ہے؟ اگر ایک شخص اپنی قومی ذمہ داری پوری کرنا چاہتا ہے تو اسے کاغذی کارروائی، پیچیدہ خانوں، مشکل اصطلاحات اور ناقابلِ فہم تقاضوں کی بھول بھلیاں میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں محاصل کا نظام طویل عرصے سے اصلاحات کے نام پر تبدیلیوں کے تجربات سے گزر رہا ہے مگر اس کے باوجود عام شہری کے لیے آسانی پیدا ہونے کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ پہلے باقاعدگی سے گوشوارے جمع کراتے تھے ان میں بھی بددلی پیدا ہوئی اور جو لوگ نظام میں شامل ہونا چاہتے تھے وہ بھی پیچیدگی دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے حالانکہ کسی بھی کامیاب محاصل کے نظام کی بنیاد خوف پیچیدگی اور سزا نہیں بلکہ سہولت، شفافیت اور اعتماد ہوتی ہے حکومت کو یہ بنیادی حقیقت سمجھنا ہوگی کہ محاصل کا دائرہ صرف تنخواہ دار طبقے، پٹرول، بجلی، گیس، ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیا پر بوجھ ڈال کر وسیع نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب ریاست بار بار بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عام آدمی کی جیب پر ہاتھ ڈالتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر مہنگائی پر پڑتا ہے قوتِ خرید کم ہوتی ہے کاروباری سرگرمی متاثر ہوتی ہیں اور بالآخر معیشت کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے موجودہ حکومت نے اپنی ناکام پالیسیوں پر پردہ پوشی کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر لیویز بڑھا کر زندگی کے تمام شعبہ پر ایک ایسا کاری وار کیا ہے جس سے سب سے پہلے ملک میں نقل و حمل مہنگی ہوگی اس کے ساتھ ہی ہر خاص و عام کے لیے زندگی کی تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے عام عوام کی زندگی اجیرن بنا ڈالی یہیں پر حکومت نے بس نہیں کیا بلکہ بجلی پر ٹیکس بڑھا کر ملکی صنعت اور کاروبار کی لاگت میں توازن کو تباہ و برباد کرکے ملکی صنعت کی بندش میں خاموش قاتل کا کردار ادا کیا جبکہ صنعتی اور عام گھریلو صارفین کے لیے ایل این جی اور قدرتی گیس مہنگی کرکے بڑھتی مہنگائی اور بند ہوتی ملکی معیشت کو طوام بخشا جس سے ملک کے اندر پیداواری اخراجات بڑھتے چلے جارہے ہیں ادھر جب ملک میں مہنگائی کی وجہ سے ادویات اور خوراک پر اضافی بوجھ پڑا تو اس سے عام آدمی کی زندگی مزید دشوار ہو گی ہے یوں حکومت اپنی آمدنی بڑھانے کی کوشش میں بالآخر ایسے معاشی دباؤ کو جنم دیے رہی ہے جو پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار تینوں کو متاثر کرتا ہے اگر محاصل جمع کرنے والے ادارے اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر پا رہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ ہر مرتبہ پٹرول، بجلی، گیس، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا پر مزید بوجھ ڈال دیا جائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ محاصل کا بنیادی نظام کیوں مؤثر نہیں ہو رہا، ٹیکس کا دائرہ وسیع کیوں نہیں ہو رہا، غیر دستاویزی معیشت کو باقاعدہ نظام میں کیوں نہیں لایا جا رہا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو شہری ٹیکس دینا چاہتا ہے اس کے لیے راستہ آسان کیوں نہیں کیا جا رہا ایک طرف حکومت محاصل کی کمی کا شکوہ کرتی ہے اور دوسری طرف ایسا پیچیدہ گوشوارہ سامنے رکھ دیتی ہے جسے ایک عام شہری اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کرنے سے قاصر رہتا ہے یہ تضاد خود اس نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ایف بی آر کے پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لے اور سب سے پہلے ٹیکس گوشوارے کے موجودہ پیچیدہ طریقۂ کار کو ختم کرکے ایسا سادہ، واضح اور قابلِ فہم گوشوارہ متعارف کرائے جسے ایک عام شہری بھی کسی ماہر کی مدد کے بغیر اپنی آمدنی، اخراجات اور قابلِ ادا ٹیکس کی بنیادی تفصیلات درج کرکے جمع کرا سکے ہر اضافی خانہ ہر غیر ضروری شرط اور ہر ایسی پیچیدگی جو ٹیکس دہندہ کو ماہرین کے دروازے تک پہنچنے پر مجبور کرتی ہے دراصل ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنے کے بجائے محدود کرتی ہے حکومت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر ایک عام شہری کو ہر سال اپنا گوشوارہ جمع کرانے کے لیے الگ سے رقم خرچ کرنا پڑے گی تو بہت سے لوگ اس پورے عمل سے ہی کنارہ کشی اختیار کریں گے اور جب نئے لوگ ٹیکس نظام میں شامل نہیں ہوں گے تو محاصل کا خسارہ مزید بڑھے گا یہ عجیب صورت حال ہے کہ ریاست شہری سے ٹیکس مانگتی ہے مگر ٹیکس دینے کا راستہ آسان نہیں کرتی پھر جب شہری پیچیدہ نظام سے تنگ آکر پیچھے ہٹتا ہے تو اسے ٹیکس چور قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے اصلاح کا آغاز شہری کو مجرم سمجھنے سے نہیں بلکہ اسے شریکِ ریاست سمجھنے سے ہونا چاہیے محکمہ محصولات کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کا اصل کام صرف چھاپے مارنا نوٹس جاری کرنا یا موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کرنا کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا شفافیت پیدا کرنا اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد قائم کرنا ہے اگر ملک میں صنعتی پہیہ رک رہا ہے کارخانے بند ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے، کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کار بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں تو حکومت کو محض مزید ٹیکس عائد کرنے کے بجائے اس پورے معاشی ڈھانچے کا جائزہ لینا ہوگا جس میں پیداواری شعبہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے کوئی بھی معیشت اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک اس کا محاصل کا نظام منصفانہ آسان شفاف اور وسیع بنیادوں پر قائم نہ ہو پاکستان کو ایسا نظام درکار ہے جس میں ٹیکس دینا ایک اذیت ناک عمل نہیں بلکہ معمول کی شہری ذمہ داری بن جائے ایسا نظام جس میں ایمانداری سے گوشوارہ جمع کرانے والا شہری ریاست سے خوفزدہ نہ ہو بلکہ ریاست پر اعتماد کرے ایسا نظام جس میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے جدید نگرانی اور مؤثر احتساب ہو مگر ایماندار ٹیکس دہندہ کو غیر ضروری کاغذی کارروائی میں نہ الجھایا جائے حکومت اگر واقعی محاصل میں اضافہ چاہتی ہے تو اسے پہلے ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانا ہوگی اور ٹیکس دہندگان کی تعداد اسی وقت بڑھے گی جب ریاست ٹیکس دینے کے عمل کو آسان بنائے گی لہٰذا فوری طور پر موجودہ ٹیکس گوشواروں کو آسان مختصر اور عام فہم بنایا جائے غیر ضروری شرائط ختم کی جائیں عام شہری کے لیے بلا معاوضہ رہنمائی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے چھوٹے تاجروں اور محدود آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے الگ سادہ طریقۂ کار وضع کیا جائے اور پورے محکمہ محصولات میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن کا مقصد شہری کو مزید دبانا نہیں بلکہ اسے نظام کا حصہ بنانا ہو کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست صرف ٹیکس بڑھا کر امیر نہیں ہوتی ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے شہری خوش دلی سے ٹیکس ادا کریں صنعت چلتی ہو، کاروبار پھلتا پھولتا ہو، سرمایہ کاری بڑھتی ہو اور حکومت اپنے شہریوں سے وصول کیے گئے محاصل کو عوامی فلاح اور معاشی ترقی پر خرچ کرتی ہو اگر حکومت نے اس بنیادی حقیقت کو نہ سمجھا اور محاصل کے ناکام اور پیچیدہ نظام کا بوجھ مسلسل عام آدمی تنخواہ دار طبقے صارفین اور پیداواری شعبے پر منتقل کرتی رہی تو محاصل کا مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید سنگین ہوگا اور معیشت پر دباؤ بڑھتا چلا جائے گا وقت آ گیا ہے کہ حکومت اعداد و شمار کی ظاہری کامیابی کے بجائے نظام کی حقیقی اصلاح کرے ٹیکس گوشوارے کو عام آدمی کی زبان میں لائے ٹیکس دینے والے شہری کے لیے راستہ آسان کرے اور محکمہ محصولات کو ایسا ادارہ بنائے جس سے شہری خوف نہیں بلکہ اعتماد محسوس کرے کیونکہ ٹیکس کا نظام جتنا آسان ہوگا ٹیکس دہندگان کا دائرہ اتنا وسیع ہوگا اور ٹیکس دہندگان کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا ریاست کی معیشت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔



