بیجنگ (شِنہوا) چینی مین لینڈ کی ایک ترجمان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ کوئی بھی شخص آبنائے تائیوان کے دونوں جانب تبادلوں، تعاون اور اس سے حاصل ہونے والے باہمی مفید نتائج کو نہیں روک سکتا۔
ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژانگ ہان نے یہ بات معمول کی پریس بریفنگ کے دوران تائیوان کے انتظامی ادارے کے سربراہ چھو جونگ تائی کے حالیہ بیانات کے جواب میں کہی۔
ژانگ نے کہا کہ حالیہ تجارتی اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ آبنائے تائیوان کے دونوں جانب کی صنعتیں ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرتی ہیں جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران دونوں جانب کا تجارتی حجم 185 ارب امریکی ڈالر رہا۔ اس عرصے میں چینی مین لینڈ کی جانب سے تائیوان سے درآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22.5 فیصد بڑھ کر 133.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ تائیوان کو برآمدات 32.9 فیصد اضافے کے ساتھ 31.9 ارب امریکی ڈالر رہیں۔
ژانگ ہان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں جانب اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ ترقی کو مزید مضبوط بنانا دونوں اطراف کے عوام اور کاروباری حلقوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقتصادی اور منڈی کی اصولوں کا بھی قدرتی نتیجہ ہے۔
آبنائے تائیوان کے دونوں جانب باہمی مفید تعاون کو نہیں روکا جا سکتا، ترجمان مین لینڈ



