تحریر: عابد حسین قریشی
“یہ دل بنا ہے، محمد کی دلبری کے لئے، اور قسم خدا کی محمد ہیں پیار ہی کے لئے۔ “نعت کا یہ ایک شعر اپنے اندر معنویت کا اک جہاں لئے ہوئے ہے۔ عقیدت و احترام کی انتہا اور محبت و مدحت کی آبشاروں کے ساتھ محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و دلبری کا اظہار چھلک رہا ہے۔ ہمارے آقا و مولا محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم، ہماری آن ، ہماری شان۔ ہماری آبرو، ہماری پہچان، ہمارا مان، بلکہ ہمارا جہان ہیں۔ وہی تو وجہہ تخلیق کائنات ہیں، وہی تو راز کائنات ہیں، وہی تو شرف انسانیت ہیں، وہی تو فخر آدمیت ہیں۔ وہی تو تاجدار ختم نبوت ہیں، وہی تو انسانیت کا فخر ہیں، وہی تو انسانیت کی لاج ہیں، وہی تو ہم گناہ گاروں کی آس ہیں ، اور وہی تو ہمارے دلوں کے پاس ہیں، وہ ہیں، تو ہم ہیں، ورنہ ہم کیا ہیں، محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں پیدا ہونا وجہ باعث اطمینان بھی ہے، اور وجہ باعث فخر و انبساط بھی ، محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر نہ یہ زندگی، زندگی ہوتی، نہ لذت زندگی ہوتی، نہ زندگی میں رمق ہوتی، نہ دمک، نہ امنگ ہوتی نہ ترنگ، نہ خوشی ہوتی نہ چاشنی، زندگی تو رواں دواں ہے ہی نام مصطفٰی اور ظہور مصطفٰی سے ہے۔ اس میں قرار و وقار بھی دم مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے۔ ہر مسلمان خواہ وہ نیک و متقی ہے، یا گناہ گار، اسکے دل کا محور و مرکز تو محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہے، اسکا دل تو نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام زبان پر آنے سے ہی دھڑکنا شروع کر دیتا ہے۔ کیا دنیا میں محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ بھی کوئی شخصیت ہے، جسے یہ احترام، یہ عقیدت، یہ تقدس، یہ اپنایئت، یہ وارفتگی، یہ عشق و محبت، یہ والہانہ پن نصیب ہوا ہو، کہ کروڑوں بلکہ اربوں انکے غلام انکے گرفتار محبت ہیں، انکی ہر ادا پر قربان ہیں، انکے نام کی حرمت پر مر مٹنے کو تیار ہیں۔ وہ تو ممدوح یزداں اپنی صفات میں یگانہ اور باکمال ہے۔ اسی لئے تو عشاقان مصطفٰی اپنے اس عشق میں دوئی بھی پسند نہیں کرتے۔ جس طرح توحید میں اللہ تعالٰی کا کوئی شریک نہیں، اسی طرح عشق مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی کوئی دوسرا شامل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالٰی تو خود اپنے اس محبوب ترین نبی کی محبت میں قرآن پاک میں جگہ جگہ تعریف و توصیف کی پوری کہکشاں بنائے ہوئے ہے، وہ تو اپنی محبت کو اپنے محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تابعداری اور اطاعت سے مشروط کر رہا ہے۔ اللہ تعالٰی نے تو ایک ہی محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا فرمایا ہے، جو تاجدار ختم نبوت بھی ہے، اور رحمتالعالمین بھی، جو والیء مدینہ بھی اور کائنات کا سردار بھی، جو انسانیت کا وقار بھی اور ہمارے دلوں کا قرار بھی، جو غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کا والی و سرپرست بھی اور دکھی دلوں کا چین بھی۔ انسانیت کی معراج بھی اور فخر موجودات بھی۔ اس نام محمد میں اتنی راحت و دلبری ہے، کیوں نہ ہو، کہ اسی محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کے مقدر کو سنوارا، انسانیت کو مساوات کا درس دیا، فقر و غنا کی ایک ایسی لازوال داستان رقم کی تاریخ اس کی مثال نہ ڈھونڈ پائے گی۔ اپنی جان اور ایمان کے دشمنوں کو بھی معاف کیا، معاف بھی اس وقت کیا جب وہ مکمل طور پر زیر نگیں ہو چکے تھے۔ انکے تمام ظلم و ستم اور جبر و استبداد کو فراموش کرتے ہوئے انہیں گلے لگایا، انکی لغزشوں اور زیادتیوں سے صرف نظر کیا۔ دنیا کو صبر و رضا اور شکر و استقامت کا ایک درخشاں اور تابندہ پیغام دیا، کہ عظمت اور بڑائی بدلہ لینے میں نہیں، بلکہ عفو و درگزر اور معاف کرنے میں ہے، انسانیت کی بقا جنگ و جدل میں نہیں، صلح و آشتی میں ہے۔ یہ پیغام اتنا خوبصورت اور دلربا تھا، کہ سخت ترین دشمن بھی دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر مجبور ہوئے۔ پوری حیات جاودانی میں کسی کو زبردستی کلمہ نہیں پڑھوایا، جو بھی مسلمان ہوا، دعوت حق قبول کرتے ہوئے، مگر کردار مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متاثر ہوکر ہوا۔ محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اخلاق و کردار کی وہ انمول شمع روشن کی کہ انسانیت تا ابد اس پر نازاں و شاداں رہے گی۔



