امریکہ۔ایران جنگ کا نیا مرحلہ: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

تحریر: منظر نقوی

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی تصادم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر گزرتا دن نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے نئے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے مسلسل چھٹی رات بھی ایرانی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے بحرین، کویت، شام اور دیگر مقامات پر امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ صرف جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح اشارہ ہے کہ اب یہ تنازع محدود فوجی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر ایک طویل اور وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی سے دنیا کو امید بندھی تھی کہ کشیدگی کم ہو جائے گی، لیکن حالات اس کے برعکس ثابت ہوئے۔ اب دونوں ممالک روزانہ ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔ عالمی سرمایہ کار پریشان ہیں، توانائی کی منڈیاں بے یقینی کا شکار ہیں اور عالمی معیشت ایک نئے بحران کے سائے میں کھڑی نظر آتی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے تازہ حملوں میں بندر عباس، جزیرہ قشم، بحری اڈوں، فضائی دفاعی نظام، لاجسٹک مراکز اور پاسدارانِ انقلاب کی متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔ دوسری جانب ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر حملوں کا جواب صرف اپنے ملک کے اندر نہیں بلکہ پورے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا کر دے گا۔

یہ صورت حال کئی ممکنہ منظرناموں کو جنم دے رہی ہے، جن میں سب سے زیادہ خطرناک امکان جنگ کے پورے خطے میں پھیل جانے کا ہے۔ اگر ایران اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتا ہے تو بحرین، کویت، قطر، عراق، شام اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈے مسلسل خطرے میں رہیں گے۔ اس کے جواب میں امریکہ بھی مزید بڑے پیمانے پر فضائی اور بحری کارروائیاں کر سکتا ہے، جس سے پورا خلیجی خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

دوسرا اہم پہلو اسرائیل کا کردار ہے۔ اگر ایران یا اس کے اتحادی گروہ اسرائیلی مفادات کو براہِ راست نشانہ بناتے ہیں تو اسرائیل مزید سخت فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں لبنان، شام، عراق اور یمن کے مختلف مسلح گروہ بھی اس جنگ میں مزید سرگرم ہو سکتے ہیں، جس سے ایک محدود تنازع مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

سب سے زیادہ تشویشناک مسئلہ آبنائے ہرمز کا ہے، جو عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی آبی راستے سے ہوتی ہے۔ اگر یہاں کشیدگی برقرار رہی یا یہ راستہ مکمل طور پر بند ہو گیا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر دنیا بھر میں مہنگائی، صنعتی پیداوار، فضائی سفر، سمندری تجارت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑے گا۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ بحران انتہائی حساس ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو ملک میں پٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا نیا طوفان آسکتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور حکومت کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

اس تنازع کا ایک اور پہلو سائبر جنگ بھی ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مالیاتی نظام، بجلی کے گرڈ، بندرگاہوں، مواصلاتی نظام اور حساس سرکاری اداروں کو سائبر حملوں کے ذریعے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ جدید جنگوں میں سائبر حملے روایتی میزائل حملوں جتنے مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور ان کے اثرات کئی گنا زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔

اس کے باوجود سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ عمان، قطر، ترکیہ، چین اور بعض دیگر ممالک پس پردہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بحال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ فی الحال دونوں ممالک اپنی عسکری پوزیشن مضبوط دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مسلسل جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بھی فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کر رہی ہے۔

زیادہ امکان یہی ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں مکمل جنگ یا فوری امن، دونوں میں سے کوئی ایک صورت حال پیدا نہیں ہوگی بلکہ “کنٹرولڈ ایسکلیشن” یعنی محدود مگر مسلسل فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم اس حکمت عملی کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایک معمولی غلط اندازہ، کسی بڑے فوجی اڈے پر کامیاب حملہ یا شہری ہلاکتوں میں اضافہ اس تنازع کو اچانک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل کر سکتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جنگیں اکثر منصوبہ بندی کے مطابق نہیں چلتی ہیں۔ وہ ایک مرحلے پر پہنچ کر اپنے فیصلے خود کرنے لگتی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری موجودہ تصادم بھی اسی خطرناک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ اگر دانشمندی، تحمل اور سفارت کاری کو ترجیح نہ دی گئی تو یہ بحران نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی امن کے لیے ایک طویل المدتی چیلنج بن سکتا ہے۔

آنے والے دن اس پورے خطے کی سمت کا تعین کریں گے۔ دنیا کی نظریں اب صرف تہران اور واشنگٹن پر نہیں بلکہ ان عالمی رہنماؤں پر بھی مرکوز ہیں جو اس آگ کو بجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر بروقت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ تصادم آنے والی نسلوں تک یاد رکھا جانے والا ایک بڑا جغرافیائی اور معاشی بحران ثابت ہو سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
کشمیر کا مستقبل صرف کشمیری عوام طے کریں گے، بلاول بھٹو زرداری
2025.26 برآمدات میں 5.93 فیصد کمی، بڑی صنعتوں کی پیداوار 5.77 فیصد بڑھ گئی
سکیورٹی فورسز کی بنوں اور محلقہ علاقوں میں کارروائیاں، 24 خوارج ہلاک
چین، پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی، مذاکرات کی بحالی پر زور
پاکستان کیخلاف اپنی سرزمین کے استعمال پر برطانوی حکومت کی تحقیقات شروع
بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم
کشمیر کے مسائل حل کیلئے’ ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کیا جائے: بلاول بھٹو
ایرانی فوج کے بحرین، اردن، شام، کویت اور قطر میں امریکی تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر