مظفرآباد (نیشنل ٹائمز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آج ڈڈیال میں عوام کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے یہ انتخابات فیصلہ کن ہیں اور ان کی اہمیت اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر اور پاکستان دونوں ایک کڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ یہ امتحان صرف حکومتوں کا نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کا بھی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو نے ہمیں یہی سکھایا کہ سیاست کا مطلب عوام کی خدمت ہے۔ کشمیر کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ عوام اور مرکز کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنیں اور کشمیریوں کے مسائل کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کریں۔ جب سیاستدان اور عوام میں خلا پیدا ہوتا ہے تو اس کا فائدہ غیر سیاسی قوتیں اٹھاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ پیپلز پارٹی پر اعتماد کریں تاکہ ان کی آواز مظفرآباد سے لے کر اسلام آباد اور اقوام عالم تک پہنچائی جا سکے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہم قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ چیئرمین بلاول نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے موصولہ خط کے جواب میں انہوں نے تجویز دی ہے کہ کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جائے جو تمام فریقین کی بات سنے اور راستہ نکالے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کمیشن بن جاتا ہے تو مظاہرین کو احتجاج ختم کر دینا چاہیے اور حکومت کو بھی کمیشن بننے تک کوئی سخت اقدام نہیں کرنا چاہیے۔ ابھی تک اس تجویز پر کوئی جواب نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن اس طرح کے احتجاج سے عام آدمی متاثر نہ ہو۔ جب خوراک، دوائی اور تیل تک رسائی نا ممکن ہو جائے یا انٹرنیٹ بند کر دیا جائے تو نقصان صرف کشمیری عوام کا ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور کمیشن کے قیام تک عوام کو سہولت فراہم کی جائے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اگر پاکستان بین الاقوامی سطح پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے تو کشمیر کے معاملات میں بھی آسانی پیدا کر سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور کشمیر کا تعلق تین نسلوں پر محیط ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آئین اور ایٹمی طاقت دی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو مضبوط کیا اور صدر آصف زرداری نے جی بی اور کے پی کو آئینی حقوق دیے۔ اب نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے مقدمے کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا بنیادی نعرہ “حاکمیت کا حق، ملکیت کا حق اور روزگار کا حق” ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام نے ثابت کیا کہ فیصلے اسلام آباد میں نہیں بلکہ عوام کرے گی۔ اب وہی حق کشمیر کو بھی حاصل ہے۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے عالمی فورمز پر کشمیر کے حقِ خودارادیت کا مقدمہ پیش کیا۔ بھارت جا کر بھی انہوں نے کشمیریوں کے حقوق کی بات کی اور اس کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار رہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے پر اور مودی کو گجرات کا قصائی کا لقب دینے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سخت تنقید کا سامنہ کرنا پڑا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد پی پی پی کشمیر اور جی بی میں آئینی کنونشن منعقد کرے گی۔ مہاجرین کے ووٹ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ کشمیر کا مستقبل صرف کشمیری طے کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کو مالیاتی اور آئینی فورمز میں نمائندگی دی جائے اور کشمیر امور کی وزارت ختم کر کے بااختیار حکومت بنائی جائے جس کا اپنا وزیر خارجہ وفاقی کابینہ میں شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کا نظریہ یہ ہے کہ قدرتی وسائل کے اصل مالک عوام ہیں۔ دوسری جماعتیں صرف امیروں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہیں جبکہ پی پی عام آدمی کی ترقی چاہتی ہے۔ وہ کشمیریوں کے سیاسی، معاشی اور روزگار کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔ آخر میں چیئرمین بلاول نے عوام سے کہا کہ وہ مشکلات کے باوجود ووٹ کے لیے نکلیں اور پی پی کے امیدوار افسر شاہد کی حمایت کریں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ بعض وزراء کے بیانات حکومت کا موقف ہیں یا ذاتی رائے۔ پی پی پی کا موقف واضح ہے کہ میرپور، کوٹلی، راولاکوٹ سمیت پورا کشمیر کشمیر کی عوام کا ہے اور اس کا مستقبل صرف یہاں کے عوام ہی طے کریں گے۔ انہیں نے وعدہ کیا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر کے انتخابات میں منتخب ہوتی ہے تو وہ خود اور خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کشمیریوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کریں گے اور انکے جائز حقوق دلوائیں گے ۔
کشمیر کا مستقبل صرف کشمیری عوام طے کریں گے، بلاول بھٹو زرداری



