پاکستان میں انتشار اور احتجاج کی سیاست اور اس کا تقابلی جائزہ

تاثرات: مظہر طفیل

پاکستان کی سیاست اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں اقتدار کی سیاست اور احتجاجی سیاست ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ چلتی رہی ہیں۔ تقریباً ہر بڑی سیاسی جماعت نے جب اقتدار سنبھالا تو ریاستی استحکام، معاشی نظم و ضبط، قومی سلامتی اور آئین کی بالادستی کی بات کی، لیکن جب یہی جماعتیں اپوزیشن میں آئیں تو احتجاج، دھرنوں، ہڑتالوں، لانگ مارچ، جلسوں، جلاؤ گھیراؤ اور حکومت مخالف تحریکوں کو سیاسی جدوجہد کا بنیادی ذریعہ بنایا۔ اس طرزِ سیاست نے نہ صرف جمہوری نظام کو متاثر کیا بلکہ قومی معیشت، سرمایہ کاری، ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچایا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ احتجاجی سیاست کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہی۔ مختلف ادوار میں ہر جماعت نے اپنے سیاسی مفادات کے مطابق احتجاج کو مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ حکومت میں رہتے ہوئے جن فیصلوں کو قومی مفاد قرار دیا گیا، اپوزیشن میں آ کر انہی فیصلوں کو عوام دشمن پالیسیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس طرزِ عمل نے عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ پاکستان میں اصولوں سے زیادہ اقتدار کی سیاست اہمیت رکھتی ہے۔ احتجاج جمہوری معاشروں کا ایک تسلیم شدہ حق ہے، لیکن جب احتجاج ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے، عوام کو مشتعل کرنے، قومی معیشت کو مفلوج کرنے یا قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کا سبب بن جائے تو اس کے اثرات پورے ملک کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں بھی اختلاف رائے موجود ہوتا ہے، مگر وہاں قومی سلامتی اور ریاستی مفادات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جاتا ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، سرحدی کشیدگی، علاقائی تنازعات اور اندرونی سلامتی کے متعدد چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ان حالات میں مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، سرحدوں کے دفاع، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں اور قومی سلامتی کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک سیاسی ناقد کی حیثیت سے میری زاتی رائے کے مطابق پاکستان میں مضبوط دفاعی ماحول اور سکیورٹی کی وجہ سے ہی جمہوری عمل اور سیاسی سرگرمیاں جاری رہی ہیں کیونکہ فوج ہی کی وجہ سے یہاں سیاست محفوظ ہے۔ تاہم جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں مؤثر انداز سے کام کریں۔ حالیہ عرصے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے فوج کے کردار سے متعلق بعض سخت بیانات بھی سیاسی بحث کا موضوع بنے۔ ان بیانات پر مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر سیاسی قیادت کو زیادہ ذمہ دارانہ اور محتاط زبان استعمال کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے بیانات سیاسی درجہ حرارت میں اضافے اور قومی اتفاقِ رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے حامیوں نے اپنے مؤقف کو جمہوری اظہارِ رائے اور سیاسی تنقید کے حق کے تناظر میں پیش کیا۔ یہ اختلافِ رائے اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ایک مضبوط جمہوری معاشرے میں ضروری ہے کہ تنقید شواہد، آئینی حدود اور ذمہ دارانہ انداز میں کی جائے۔ اسی طرح پاکستان کی دیگر بڑی سیاسی جماعتیں بھی مختلف ادوار میں ریاستی اداروں، خصوصاً فوج، کے بارے میں اپنے مؤقف تبدیل کرتی رہی ہیں۔ جب سیاسی مفادات کا تقاضا ہوا تو بعض جماعتوں نے انہی اداروں کی تعریف کی، جبکہ حالات بدلنے پر شدید تنقید بھی کی۔ اس طرزِ عمل نے قومی سیاست میں مستقل مزاجی کے فقدان کو نمایاں کیا ہے۔ سیاسی قیادت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام وقتی نعروں سے متاثر تو ہو سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں وہ اصولی اور مستقل مزاج سیاست کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اگر حکومت میں ایک مؤقف اور اپوزیشن میں دوسرا مؤقف اختیار کیا جائے تو عوامی اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ جمہوری بلوغت کا تقاضا یہ ہے کہ آئین، قانون، پارلیمنٹ، عدلیہ، آزاد میڈیا اور ریاستی اداروں کے احترام کو ہر دور میں یکساں اہمیت دی جائے۔ پاکستان کو اس وقت ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے، احتجاج کے بجائے پارلیمانی حل، الزام تراشی کے بجائے دلیل، اور نفرت کے بجائے قومی ہم آہنگی کو فروغ دے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی، اشتعال انگیزی اور قومی تقسیم میں تبدیل کرنا کسی بھی ریاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ آخرکار، پاکستان کی ترقی، قومی سلامتی اور جمہوری استحکام اسی وقت مضبوط ہو سکتے ہیں جب تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، ریاستی ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی آئین کی بالادستی، قومی مفاد، برداشت اور ذمہ دارانہ سیاسی رویے کو فروغ دیں۔ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے، لیکن ریاست، اس کے ادارے اور عوامی مفاد ہمیشہ مقدم رہنے چاہییں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور مسلسل محاذ آرائی سے نکال کر ایک مضبوط، مستحکم اور متحد مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
کشمیر کا مستقبل صرف کشمیری عوام طے کریں گے، بلاول بھٹو زرداری
2025.26 برآمدات میں 5.93 فیصد کمی، بڑی صنعتوں کی پیداوار 5.77 فیصد بڑھ گئی
سکیورٹی فورسز کی بنوں اور محلقہ علاقوں میں کارروائیاں، 24 خوارج ہلاک
چین، پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی، مذاکرات کی بحالی پر زور
پاکستان کیخلاف اپنی سرزمین کے استعمال پر برطانوی حکومت کی تحقیقات شروع
بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم
کشمیر کے مسائل حل کیلئے’ ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کیا جائے: بلاول بھٹو
ایرانی فوج کے بحرین، اردن، شام، کویت اور قطر میں امریکی تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر