تاثرات: مظہر طفیل
جو قومیں اپنے محافظوں کو عزت دیتی ہیں تاریخ بھی انہی قوموں کو عزت دیتی ہے اسی تناظر میں اگر جاٸزہ لیا جاٸے تو تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی بقا صرف مضبوط معیشت، بلند و بالا عمارتوں یا ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل بنیاد ایک مضبوط دفاع، باکردار قیادت اور ایسے محافظ ہوتے ہیں جو اپنے وطن، اپنی ریاست اور اپنے عوام کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں۔ جب کسی ریاست کا دفاع کمزور ہو جائے تو اس کی سرحدیں ہی نہیں ٹوٹتیں بلکہ اس کی معیشت، اس کی تہذیب، اس کا وقار اور اس کے شہریوں کی جان، مال اور عزت بھی غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں دفاعی کمزوری نے طاقتور ریاستوں کو بھی مٹا دیا، جبکہ وہ قومیں جو اپنے محافظوں کی قربانیوں کو اپنی قومی شناخت کا حصہ بناتی رہیں، وقت کی ہر آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلیں۔ پاکستان بھی اپنی تخلیق کے پہلے دن سے مسلسل اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کرتا آیا ہے۔ کبھی روایتی جنگوں کی صورت میں، کبھی دہشت گردی کی شکل میں، کبھی سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کے ذریعے اور کبھی ایسے عناصر کے ذریعے جو معاشرے میں خوف، انتشار اور بے یقینی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے ہر موقع پر پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس وطن کو محفوظ رکھا۔ شمالی وزیرستان کے دشوار گزار پہاڑ ہوں، بلوچستان کے سنگلاخ علاقے ہوں، خیبر پختونخوا کے قبائلی خطے ہوں یا شہری مراکز، بے شمار افسران اور جوانوں نے اپنے خون سے اس دھرتی کی حفاظت کی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ قربانیاں صرف عسکری فریضہ نہیں بلکہ اس عہد کی عملی تعبیر ہیں جو ایک سپاہی اپنے وطن کے ساتھ کرتا ہے۔ اسلام آباد کے شاہین چوک، ائیر یونیورسٹی اور بحریہ یونیورسٹی کے سامنے پیش آنے والا حالیہ المناک واقعہ بھی اسی جذبۂ ایثار کی ایک درخشاں مثال ہے۔ پاکستان فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق ایک عام شہری کی حیثیت سے وہاں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش دیکھی۔ وہ خاموش تماشائی بن کر آگے بڑھ سکتے تھے، مگر ایک سپاہی کا ضمیر اسے بے حسی کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے مداخلت کی، بیچ بچاؤ کی کوشش کی اور اسی دوران مسلح ملزم کی فائرنگ کا نشانہ بن کر اپنی جان وطن اور انسانیت پر قربان کر دی۔ وہ اس وقت سویلین لباس میں تھے، لیکن ان کے کردار میں وہی عسکری وقار، فرض شناسی اور حلف کی پاسداری نمایاں تھی جو وردی پہننے والے ہر افسر کی اصل شناخت ہوتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک فوجی صرف سرحد کا محافظ نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر اس مقام پر محافظ ہوتا ہے جہاں کسی بے گناہ کی جان، عزت یا آزادی خطرے میں ہو۔ یہی وہ تربیت ہے جو پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی اپنے افسران اور جوانوں کو دیتی ہیں کہ قانون، انسانیت اور وطن کے وقار کے لیے اپنی جان کی قربانی بھی معمولی قیمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ہزاروں شہداء آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہیں، کیونکہ انہوں نے صرف اپنی ڈیوٹی نہیں نبھائی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے کردار، وفاداری اور ایثار کی نئی تعریف لکھی۔ قومی سلامتی کے معاملات پر اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتا ہے، اور ریاستی اداروں پر تعمیری تنقید بھی ایک جمہوری حق ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ انہی اداروں کے افسران اور جوان روزانہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عام شہریوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ یہی توازن ایک بالغ جمہوری معاشرے کی پہچان ہے کہ وہ تنقید اور اعترافِ قربانی، دونوں کو اپنی اپنی جگہ دیتا ہے۔ گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت صرف ایک فرد کی شہادت نہیں بلکہ ایک ایسے کردار کی علامت ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ ایک ایسا افسر جو سویلین لباس میں ہونے کے باوجود اپنے حلف، اپنی تربیت اور اپنے ضمیر سے غافل نہ ہوا، بلکہ ایک اجنبی خاتون کی عزت اور جان کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کر گیا۔ یہی وہ کردار ہے جو کسی فوج کو صرف ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک قومی ادارہ بناتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ہزاروں افسران اور جوان اسی جذبے کے ساتھ سرحدوں، چوکیوں، فضاؤں، سمندروں اور شہروں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ ان میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جن کے نام شاید خبروں کی زینت نہ بن سکیں، مگر ان کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی خاموش بنیاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہداء کی قربانی کو محض ایک رسمی تعزیت یا چند الفاظ میں سمیٹ دینا کافی نہیں، بلکہ ایک زندہ قوم کا فرض ہے کہ وہ اپنے محافظوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہو، ان کی خدمات کا اعتراف کرے اور آنے والی نسلوں کو یہ احساس دلائے کہ وطن کے لیے جان دینے والے کبھی فراموش نہیں کیے جاتے۔ اسلام آباد کا یہ افسوسناک واقعہ ریاست کے لیے بھی ایک امتحان ہے کہ وہ نہ صرف اس میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق انجام تک پہنچائے بلکہ یہ بھی ثابت کرے کہ قانون کی عملداری ہر شہری کے لیے یکساں ہے۔ اس کے ساتھ حکومتِ پاکستان کو گروپ کیپٹن عاصم طارق کی غیر معمولی جرات، فرض شناسی اور ایثار کے اعتراف میں انہیں بعد از شہادت تمغۂ شجاعت عطا کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ ایسے اعزازات صرف ایک فرد کو نہیں دیے جاتے بلکہ پوری قوم کے اجتماعی ضمیر کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ فرض، دیانت اور قربانی کی قدر کی جاتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ اُن قوموں کو عزت دیتی ہے جو اپنے شہداء کو عزت دیتی ہیں۔ گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اپنی جان دے کر یہ ثابت کیا کہ ایک سپاہی کی اصل شناخت اس کی وردی نہیں بلکہ اس کا کردار ہوتا ہے۔ ان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وطن کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی، بلکہ ہر اس جگہ ہوتی ہے جہاں کوئی بے گناہ انسان ظلم کا شکار ہو رہا ہو اور کوئی باکردار شخص اس کے دفاع کے لیے کھڑا ہو جائے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، باوقار اور مہذب ریاست بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ان ہیروز کو صرف یاد ہی نہیں رکھنا بلکہ ان کی قربانیوں کو قومی شعور، قومی پالیسی اور قومی کردار کا مستقل حصہ بنانا ہوگا۔ یہی شہداء کی قربانیوں کا حقیقی احترام ہے، یہی ایک زندہ قوم کی پہچان ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مزید مضبوط، متحد اور باوقار بنا سکتا ہے۔



