مزاحمت کا ابدی پیغام اور امتِ مسلمہ کا اتحاد

تحریر: منظر نقوی

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس “امام خامنہ ای؛ مزاحمت کے ابدی رہنما” سے خطاب کرتے ہوئے جس پیغام کو دنیا کے سامنے رکھا، وہ محض ایک رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے تک محدود نہیں تھا بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، قومی خودمختاری، عزتِ نفس، آزادی اور ظلم کے خلاف استقامت کے ایک وسیع تصور کی ترجمانی کرتا تھا۔ ان کا یہ مؤقف کہ شہداء کے افکار اور نظریات ان کی جسمانی جدائی کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں، تاریخ کے مسلمہ حقائق سے ہم آہنگ ہے۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ رہبرِ انقلاب کے نظریات آج صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ مختلف مذاہب اور اقوام میں بھی عزت، آزادی، اتحاد اور مزاحمت کا پیغام مزید قوت کے ساتھ گونج رہا ہے۔ درحقیقت کسی بھی عظیم شخصیت کی اصل طاقت اس کے عہدے میں نہیں بلکہ ان اصولوں میں ہوتی ہے جو وہ آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔ اگر کوئی نظریہ انصاف، انسانی وقار اور حق کے دفاع پر مبنی ہو تو وقت گزرنے کے ساتھ اس کی اہمیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔

ان کے خطاب کا سب سے اہم پہلو امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور تھا۔ آج اسلامی دنیا سیاسی اختلافات، مسلکی تقسیم، علاقائی تنازعات اور بیرونی مداخلت کے باعث جن مشکلات کا شکار ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پچاس سے زائد مسلم ممالک قدرتی وسائل، افرادی قوت، جغرافیائی اہمیت اور معاشی امکانات سے مالا مال ہونے کے باوجود مشترکہ قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کی بنیادی وجہ باہمی اختلافات اور عدم اعتماد ہے۔

صدر پزشکیان نے درست نشاندہی کی کہ مسلمان ایک خدا، ایک رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ایک مقدس کتاب قرآنِ مجید پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایسے مشترکہ عقائد رکھنے والی امت کو وقتی سیاسی یا مسلکی اختلافات کی بنیاد پر تقسیم ہونا نہ صرف نقصان دہ ہے بلکہ یہ ان قوتوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو اسلامی دنیا کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔

آج غزہ، فلسطین اور لبنان میں جاری انسانی المیے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ اگر مسلم ممالک سیاسی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر زیادہ مؤثر اتحاد کا مظاہرہ کرتے تو شاید ان بحرانوں کی شدت مختلف ہوتی۔ صدر پزشکیان نے اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امت کی تقسیم بیرونی طاقتوں کو خطے میں اپنے مفادات کے حصول کے مزید مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے اسرائیلی اقدامات اور ان کی پشت پناہی کرنے والی طاقتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر انصاف کے یکساں معیار اور انسانی حقوق کے غیر جانبدارانہ نفاذ کے حوالے سے دنیا کے مختلف خطوں میں سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جب بین الاقوامی قوانین کا اطلاق مختلف ممالک کے لیے مختلف انداز میں ہوتا دکھائی دے تو عالمی اداروں پر اعتماد متاثر ہونا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔

صدر پزشکیان کی جانب سے علماء، دانشوروں، پالیسی سازوں اور مذہبی رہنماؤں کو مکالمے، باہمی احترام اور تعاون کے فروغ کی دعوت بھی نہایت بروقت ہے۔ اتحاد محض سیاسی بیانات سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے علمی، فکری اور سماجی سطح پر مسلسل روابط، برداشت اور مشترکہ مقاصد کے لیے کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد ہوئے تو انہوں نے علم، سائنس، معیشت، تہذیب اور انسانی ترقی کے میدان میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔

پاکستان ہمیشہ اسلامی دنیا کے اتحاد، باہمی احترام اور پرامن سفارت کاری کا داعی رہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل کا حل باہمی تعاون، مکالمے اور مشترکہ حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک اختلافات کو تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور مشترکہ اقتصادی، تعلیمی، سائنسی اور دفاعی تعاون کو فروغ دیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں ہوتا۔ مختلف فقہی، فکری اور سیاسی آراء کسی بھی مہذب معاشرے کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن ان اختلافات کو دشمنی اور انتشار کا ذریعہ بننے کے بجائے برداشت، احترام اور مکالمے کے ذریعے قومی اور امت کے وسیع تر مفاد میں تبدیل کرنا ہی حقیقی دانشمندی ہے۔

صدر پزشکیان کا خطاب دراصل پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر مسلمان اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ مفادات اور مشترکہ اقدار کے گرد متحد ہو جائیں تو کوئی بیرونی طاقت ان کی ترقی، خودمختاری اور عزتِ نفس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ انصاف، آزادی، اتحاد اور انسانی وقار جیسے اصول نہ صرف اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں بلکہ عالمی امن اور پائیدار استحکام کی بھی بنیاد ہیں۔

آج کے پیچیدہ عالمی حالات میں مسلم دنیا کو محاذ آرائی سے زیادہ اتحاد، تقسیم سے زیادہ یکجہتی اور اختلاف سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف امتِ مسلمہ کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ عالمی امن، انصاف اور انسانیت کے فروغ میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
ایران کی وزارت انٹیلی جنس کا شہید آیت اللہ خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار
دورۂ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کیلئے قومی ٹیسٹ سکواڈ کا اعلان، بابر اعظم کپتان مقرر
امریکا آج دنیا بھر میں امید کی کرن، اسے کبھی ناکام نہیں ہونے دیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ
عباس عراقچی کا 70 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی ایران آمد پر اظہارِ مسرت
یمن کے قریب بحیرہ احمر میں مال بردار جہاز پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ
آبنائے ہرمز ہی ایران کا جوہری ہتھیار ہے، نائب چیئرمین روسی سلامتی کونسل
مصر کا ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عملدرآمد برقرار رکھنے پر زور
عباس عراقچی کا 70 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی ایران آمد پر اظہارِ مسرت





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر