کینبرا (شِنہوا) آسٹریلیا میں بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت جون میں مسلسل پانچویں مہینے ریکارڈ بلندی پر رہی ہے اور چین اب گاڑیوں کی فراہمی کے لحاظ سے ملک کا سرفہرست ذریعہ بن چکا ہے۔
فیڈرل چیمبر آف آٹوموٹو انڈسٹریز (ایف سی اے آئی) کی جانب سے جمعہ کو جاری ماہانہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جون میں ملک بھر میں فروخت ہونے والی ایک لاکھ 40 ہزار 58 نئی گاڑیوں میں سے 23.3 فیصد بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیاں تھیں جو مئی میں 20 فیصد کے پچھلے ریکارڈ سے زیادہ ہیں۔
یہ مسلسل پانچواں مہینہ ہے کہ بیٹری کی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت نے ایک نئی ریکارڈ سطح کو چھو لیا ہے۔
فروری میں یہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے آسٹریلیا میں بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر کل فروخت کے 11.8 فیصد سے تقریباً دوگنا ہو کر 23.3 فیصد ہو گیا ہے۔
فروری وہ پہلا مہینہ بھی تھا جب چین 1998 کے بعد سے جاپان کو پیچھے چھوڑ کر آسٹریلیا میں نئی گاڑیوں کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا تھا۔
ایف سی اے آئی کی ایک میڈیا ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چین اب آسٹریلیا میں گاڑیوں کے معروف ذریعہ کے طور پر مستحکم ہو چکا ہے۔
جون میں چین سے حاصل کردہ گاڑیوں کی فروخت 46 ہزار 592 رہی جو فروری میں 22 ہزار 362 تھی، اس کے مقابلے میں جاپان سے 27 ہزار 98 گاڑیاں درآمد کی گئیں۔
جون میں ٹویوٹا 19 ہزار 124 گاڑیوں کی فروخت کے ساتھ آسٹریلیا میں سرفہرست کار ساز ادارہ رہا، جبکہ بی وائی ڈی 18 ہزار 881 گاڑیوں کی فروخت کے ساتھ دوسرے نمبر پر آ گئی۔
بی وائی ڈی نے 2026 کے پہلے چھ مہینوں میں آسٹریلیا میں 52 ہزار 335 گاڑیاں فروخت کیں، جو 2025 کی پہلی ششماہی میں 23 ہزار 355 فروخت کے مقابلے میں 124 فیصد زیادہ ہیں، ٹویوٹا کی سال کی پہلی ششماہی میں کل فروخت 2025 کے ایک لاکھ 20 ہزار 978 سے کم ہو کر 2026 میں 95 ہزار 141 رہ گئی
آسٹریلیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت نئی ریکارڈ سطح پر، چین سرفہرست فراہم کنندہ بن گیا



