تہران(نیشنل ٹائمز)ایران میں سابق رہبرِ اعلیٰ اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات جاری ہیں، عوامی جنازے اور الوداعی رسومات کا آج سے باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
تین جولائی کو بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی، آج صبح تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ میں دو روزہ عوامی الوداع کی تقریب کا آغاز ہو گیا ہے۔
آج مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے دروازے کھولے گئے اور پانچ جولائی کو رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے، مرکزی نمازِ جنازہ پانچ جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔
خامنہ ای کے علاوہ، ان کی صاحبزادی بشریٰ حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور ننھی نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے سامنے رکھے گئے ہیں۔
چھ جولائی کو تہران میں جنازے کا جلوس کا شروع ہو گا، یہ جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ شروع ہوگا، منتظمین نے دارالحکومت میں پھیلے ہوئے ایک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ متوقع ہجوم کے لیے کوئی ایک سڑک کافی نہیں ہوگی، حکام کو امید ہے کہ یہ تقریب شام تک اختتام پذیر ہو جائے گی۔
ایک تقریب ایران کے مذہبی مرکز قم میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے شروع ہو گی جس میں جمکران مسجد کے اندر ایک سینئر عالمِ دین نماز کی امامت کریں گے۔
عراق میں ایران کے ثقافتی اتاشی غلام رضا اباذری نے بتایا کہ میت سات جولائی کی شام نجف پہنچے گی، میت کی ایران واپسی سے قبل، آٹھ جولائی کو نجف میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے اور کربلا میں سہ پہر چار بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔
نو جولائی کو شہید علی خامنہ ای کی تدفین شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع شیعہ فقہ کے آٹھویں امام، امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔



