یروشلم(نیشنل ٹائمز)اتوار کوجاری ہونے والے ایک سروے کے مطابق اسرائیلی عوام کی بھاری اکثریت کا خیال ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور اس کے بعد امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے ۔یہ سروے 3ہزار644 افراد پر مشتمل تھا، جو 17 سے 20 جون کے درمیان یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی اور اگام انسٹیٹیوٹ کے اشتراک سے کیا گیا، اور اس میں امریکاایران معاہدے کے بعد عوامی رائے کا واضح عکس سامنے آیا۔سروے کے مطابق93فیصد افراد نے کہا کہ ایران اس تنازع میں فاتح رہا یا اسے زیادہ فائدہ ہوا، جبکہ 83 فیصد کے مطابق اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی کمزور ہوئی ہے ۔نتائج میں یہ بھی سامنے آیا کہ دائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹرز میں بھی 93 فیصد
افراد سے زائد نے تسلیم کیا کہ ایران اس جنگ میں کامیاب رہا۔امریکا ایران معاہدے کی مخالفت بھی واضح طور پر زیادہ رہی، جہاں64فیصد افراد نے اس کی مخالفت کی جبکہ صرف 12 فیصد نے حمایت کی۔رپورٹ کے مطابق یہ نتائج اسرائیلی قیادت پر اعتماد کے بڑے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تقریباً تین چوتھائی یعنی 73فیصد افراد نے وزیراعظم نیتن یاہو کے فوجی آپریشن کے دعوؤں پر یقین ظاہر نہیں کیا، جبکہ 57فیصد نے ان کی جنگی حکمت عملی کو ناکام یا کمزور قرار دیا۔سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیتن یاہو کی سیاسی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے ، جو مارچ کے آغاز میں40فیصد تھی اور جون میں کم ہو کر 29 فیصد رہ گئی۔اس کے باوجود لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت اب بھی برقرار ہے ۔ تقریباً 49 فیصد افراد نے لبنان میں دوبارہ بڑے فوجی آپریشن کی حمایت کی، چاہے اس سے امریکا کے ساتھ کشیدگی ہی کیوں نہ بڑھے ، جبکہ صرف 21 فیصد اس کے مخالف تھے ۔



