تہران(نیشنل ٹائمز)ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو ‘اپنے جائز حقوق کے دفاع سے متعلق کوئی خوف نہیں تاہم جنگ کی کیفیت میں رہنے کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے قومی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ایران مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کر سکتا ہے تو اسے حالتِ جنگ برقرار نہیں رکھنی چاہیے ۔پزشکیان نے ملک کے خلاف امریکہ-اسرائیل کی جارحیت کے بعد قومی اتحاد اور یکجہتی کو ایران کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی ‘غیر معمولی اور بے مثال’ ہے اور اسے برقرار رکھنے کے ساتھ مزید مضبوط کرنا ضروری ہے ۔ مذاکراتی عمل اسلامی انقلاب کے رہبر کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ارکان اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایرانی عوام کے مفاد میں ہیں۔ ایرانی صدر نے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘اس مختصرعرصے میں ہم بہت سے اقدامات کرنے میں کامیاب رہے ہیں، آج سے مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ہمارے قطر میں موجود چھ ارب ڈالر غیر منجمد ہو جائیں گے ، ایران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کرے گا لیکن ہم یورینیم افزودگی کے جائز حق سے دستبردارنہیں ہوگنے ۔ اسرائیل ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے ناخوش ہے اور نہیں چاہتا کہ خطے میں امن بحال ہو اور غزہ اور لبنان میں اس کے اقدامات اسی مقصد کے مطابق ہیں۔
مکالمے سے قومی مفادات کا تحفظ جنگ سے بہتر :ایرانی صدر



